اخبار میں کھانے کو لپیٹنے کا خطرہ: ایف ایس ایس اے آئی کی سخت ہدایات

صحت خبریں

اخبار میں کھانے کو لپیٹنے کا خطرہ: ایف ایس ایس اے آئی کی سخت ہدایات
کاغذ میںfood, سیسہ, فوڈ سیفٹی

فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا نے سموسے اور پکوڑے کو اخبار میں لپیٹنے کے صحت پر نقصانات کی تفصیل دیتے ہوئے خطرناک کیمیکلز اور سیسہ کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ اس کے برعکس محفوظ فوڈ گریڈ پیکجنگ استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

ہمارے روزمرہ کے طعام کے سادہ مگر غیر محفوظ طریقے، جیسے کہ سموسے اور پکوڑے کو اخبار یا کسی دوسرے کاغذ میں لپیٹ کر پیش کرنا، اب صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے حال ہی میں گلی محلوں، بازاروں اور سیفٹی میں احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کھانے کو اخبار میں لپیٹنا یا اس پر رکھ کر پیش کرنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھاپ یا گرمائی کے اثر سے اخبار پر چھپی سیاہی کے کیمیکل، بھاری دھاتیں اور سیسہ ، کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں، جو معدے میں داخل ہو کر مختلف طبی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں نقصان دہ مواد شامل ہوتا ہے، جس کا جسم پر گزرنے کے بعد جانچنے والے ماہرین نے بتایا کہ یہ جگر، فالج، دماغی مسائل اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر شیام پرساد، جنہوں نے کرنول میڈیکل کالج میں تحقیق کی ہے، اس حوالے سے واضح کیا کہ سیسہ جسم میں داخل ہونے کے بعد خون میں گھل کر جسم کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ حاملہ خواتین کا یہ زیادہ خطرہ ہوتا ہے؛ اس سے حمل ضائع ہو سکتا ہے، بچے میں ذہنی معذوری یا مردہ بچے کے پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یہ پیغام خاص طور پر چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین کو سمانے کے لیے ضروری ہے۔ بچوں کے جسم ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے، اس لیے سیسہ اور دیگر مضر مواد ان کی نشوونما پر سنگین اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے ایف ایس ایس اے آئی نے کاروباری اداروں اور دکانوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ عوام کو خوراک پہنچاتے وقت صرف سرکاری طور پر منظور شدہ فوڈ گریڈ پیکیجنگ استعمال करें۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام مواد، کاغذ، ڈبوں، پیلیٹیں اور کینٹینرز کو فوڈ گریڈ سٹینڈرڈ کے مطابق بنانے کا احکامیہ حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ عوام کو جو خوراک ملتی ہے وہ کیمیکل اور دھاتی فضلے سے پاک ہو۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف عام شہریوں کی صحت بہتر ہوگی بلکہ اس کے طویل مدتی معاشی اثرات بھی مثبت ہوں گے، کیونکہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں مقامی کاروباری افراد اب محفوظ، سادہ اور صحت بخش پیکجنگ کے ذریعے اپنے صارفین کی خدمت کر سکیں گے۔ یہ حکمت عملی بھارت میں خوراک کی حفاظت کے نئے معیارات کی بنیاد رکھتی ہے، جو مختلف ممالک میں بھی اپنانے کی قابل امیدوار کہانی بن سکتی ہے۔.

ہمارے روزمرہ کے طعام کے سادہ مگر غیر محفوظ طریقے، جیسے کہ سموسے اور پکوڑے کو اخبار یا کسی دوسرے کاغذ میں لپیٹ کر پیش کرنا، اب صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ سٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) نے حال ہی میں گلی محلوں، بازاروں اور سیفٹی میں احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کھانے کو اخبار میں لپیٹنا یا اس پر رکھ کر پیش کرنا مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اس کے پیچھے بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھاپ یا گرمائی کے اثر سے اخبار پر چھپی سیاہی کے کیمیکل، بھاری دھاتیں اور سیسہ، کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں، جو معدے میں داخل ہو کر مختلف طبی مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔ ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق چھپائی میں استعمال ہونے والی سیاہی میں نقصان دہ مواد شامل ہوتا ہے، جس کا جسم پر گزرنے کے بعد جانچنے والے ماہرین نے بتایا کہ یہ جگر، فالج، دماغی مسائل اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر شیام پرساد، جنہوں نے کرنول میڈیکل کالج میں تحقیق کی ہے، اس حوالے سے واضح کیا کہ سیسہ جسم میں داخل ہونے کے بعد خون میں گھل کر جسم کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ حاملہ خواتین کا یہ زیادہ خطرہ ہوتا ہے؛ اس سے حمل ضائع ہو سکتا ہے، بچے میں ذہنی معذوری یا مردہ بچے کے پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یہ پیغام خاص طور پر چھوٹے بچوں اور حاملہ خواتین کو سمانے کے لیے ضروری ہے۔ بچوں کے جسم ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے، اس لیے سیسہ اور دیگر مضر مواد ان کی نشوونما پر سنگین اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے ایف ایس ایس اے آئی نے کاروباری اداروں اور دکانوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ عوام کو خوراک پہنچاتے وقت صرف سرکاری طور پر منظور شدہ فوڈ گریڈ پیکیجنگ استعمال करें۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام مواد، کاغذ، ڈبوں، پیلیٹیں اور کینٹینرز کو فوڈ گریڈ سٹینڈرڈ کے مطابق بنانے کا احکامیہ حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔ یہ اقدامات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ عوام کو جو خوراک ملتی ہے وہ کیمیکل اور دھاتی فضلے سے پاک ہو۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف عام شہریوں کی صحت بہتر ہوگی بلکہ اس کے طویل مدتی معاشی اثرات بھی مثبت ہوں گے، کیونکہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں مقامی کاروباری افراد اب محفوظ، سادہ اور صحت بخش پیکجنگ کے ذریعے اپنے صارفین کی خدمت کر سکیں گے۔ یہ حکمت عملی بھارت میں خوراک کی حفاظت کے نئے معیارات کی بنیاد رکھتی ہے، جو مختلف ممالک میں بھی اپنانے کی قابل امیدوار کہانی بن سکتی ہے۔

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

BBCUrdu /  🏆 11. in PK

کاغذ میںfood سیسہ فوڈ سیفٹی امکانِ خطرات سندھی

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات