اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اپنے دفتر میں اقتدار کا نیا دور شروع کرنے کے کچھ دن بعد ہی اپنے خلاف بدعنوانی کے مقدمے کی سماعت کے موقع پر عدالت میں پہنچ گئے ہیں۔
یہ ایک غیر معمولی اتحادی حکومت ہے۔ اپریل میں ہونے والے اقتدار میں شراکت کے معاہدے کے بعد دائیں بازوں کی جماعت کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو مزید 18 ماہ کے لیے ملک کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے جبکہ ان کے سیاسی حریف بینی گانز 18 ماہ تک ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔دونوں سیاست دانوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ متنازع منصوبے کے تحت یکم جولائی تک مقبوضہ مغربی کنارے کے حصے کو اسرائیل میں شامل کرلیں گے۔ فلسطینی سیاستدانوں نے اس قدم کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے مخالفین کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مقدمات کی وجہ سے اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو لیکوڈ پارٹی کے سربراہ ہیں جنھوں نے سب سے زیادہ طویل عرصے تک ملک پر حکمرانی کی ہے۔ وہ سنہ 2009 سے اب تک اقتدار میں ہیں، انھوں نے اس سے پہلے سنہ 1996 سے 1999 تک بھی اس عہدے پر کام کیا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر تین مقدمات، کیس 1000، کیس 2000 اور کیس 4000 میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔اس مقدمے میں نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے کئی بیش قیمت تحائف بشمول شیمپین اور سگار وصول کیے اور اس کے بدلے میں دولت مند دوستوں پر مہربانیاں کیں۔اس مقدمے میں بھی نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مثبت کوریج کے بدلے میں ’یوڈیویٹ احروناٹ ’ نامی ایک اخبار کی سرکولیشن کو بڑھانے میں مدد کی پیشکش کی۔یہ نیتن یاہو کے خلاف سب سے سنگین کیس تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ ساتھ رشوت کا الزام بھی ہے۔ ان پر عائد الزام کے تحت نیتن یاہو نے ایسے ریگولیٹری فیصلوں کو فروغ دیا جن سے ایک صفِ اوّل کی ٹیلی کام کمپنی بیزِک کو رعایتیں حاصل ہوئیں جبکہ اس کے بدلے میں انھیں کمپنی کی ایک ویب سائٹ سے مثبت نیوز کوریج حاصل ہوئی، اور یہ سب کمپنی کا کنٹرول رکھنے والے شیئرہولڈر مسٹر شاؤل ایلووچ کے ساتھ معاہدے کے تحت ہوا۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا ہے کہ ماہرین نے ان ریگولیٹری فیصلوں کی حمایت کی تھی اور یہ کہ انھیں اس کے بدلے میں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ جن شیئرہولڈر پر رشوت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے انھوں نے بھی کوئی غلط کام کرنے کا انکار کیا ہے۔اسرائیلی قانون کے مطابق اگر کسی سربراہ پر جرم کے الزامات ہو تو اس کے لیے مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے سابق اسرائیلی وزیراعظم یہود المرٹ نے اپنی پارٹی کا عہدہ سنہ 2008 میں اس وقت چھوڑ دیا تھا جب ان کے خلاف عائد بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات ہو رہی تھیں۔ لیکن تکنیکی طور پر وہ پھر بھی اگلے سال انتخابات تک ملک کے وزیراعظم ہی تھے۔ اور پھر ان انتخابات میں موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو اقتدار میں آئے تھے۔ اب اقتدار کی اس نئی ڈیل کے تحت ان کے سیاسی حریف بینی گانز ’متبادل وزیراعظم‘ ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب 198 ماہ کے بعد دونوں افراد اپنی پوزیشنز بدلیں گے تو تب نیتن یاہو وزیراعظم کے دفتر میں موجود ہوں گے اور وہ مسٹر گانز کے نائب ہوں گے۔بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ سچائی سامنے آئے گی مختصراً یہ کہ ملک کے وزیراعظم سب سے طاقتور عہدے کی ذمہ داری سھنبالے ہوئے ہیں اور بیک وقت وہ اپنے نام کو صاف کرنے اور نیک سے بچنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ اگرچہ اس قسم کی کسی بھی صورتحال سے حکومتی پالیسی پر کچھ اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے تاہم اپوزیشن رہنما یائیر لیپڈ نے اس کو شرمندگی اور قومی جذبے کے لیے خوفناک قرار دیا ہے۔ ادھر مسٹر نیتن یاہو اب بھی آنے والے مہینوں میں یہودی بستیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے وادی اردن کے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ جو کہ یقینی طور پر فلسطینیوں کو مشتعل کرنے کا اقدام ہو گا۔ اس بارے میں اسرائیل میں رائے منقسم دکھائی دیتی ہے کہ آیا نیتن یاہو کو وزیراعظم کے عہدے پر رہنا چاہیے یا نہیں۔ لیکن ان کے حامی کہتے ہیں کہ وہ جمہوری طور پر منتخب ہوئے ہیں اور ان پر عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تب بھی آخری اپیل تک وہ اپنا عہدہ قائم رکھ سکتے ہیں یعنی انھیں جرم ثابت ہوتے ساتھ ہی فوری طور پر مستعفی نہیں ہونا پڑے گا۔ سنہ 2009 میں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود المرٹ کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ طویل قانونی عمل کی وجہ سے ان کی سزا کا آغاز سنہ 2016 میں ہوا تھا۔.
یہ ایک غیر معمولی اتحادی حکومت ہے۔ اپریل میں ہونے والے اقتدار میں شراکت کے معاہدے کے بعد دائیں بازوں کی جماعت کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو مزید 18 ماہ کے لیے ملک کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے جبکہ ان کے سیاسی حریف بینی گانز 18 ماہ تک ڈپٹی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔دونوں سیاست دانوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ متنازع منصوبے کے تحت یکم جولائی تک مقبوضہ مغربی کنارے کے حصے کو اسرائیل میں شامل کرلیں گے۔ فلسطینی سیاستدانوں نے اس قدم کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے مخالفین کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ مقدمات کی وجہ سے اپنا عہدہ چھوڑ دیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو لیکوڈ پارٹی کے سربراہ ہیں جنھوں نے سب سے زیادہ طویل عرصے تک ملک پر حکمرانی کی ہے۔ وہ سنہ 2009 سے اب تک اقتدار میں ہیں، انھوں نے اس سے پہلے سنہ 1996 سے 1999 تک بھی اس عہدے پر کام کیا تھا۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر تین مقدمات، کیس 1000، کیس 2000 اور کیس 4000 میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔اس مقدمے میں نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے کئی بیش قیمت تحائف بشمول شیمپین اور سگار وصول کیے اور اس کے بدلے میں دولت مند دوستوں پر مہربانیاں کیں۔اس مقدمے میں بھی نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے مثبت کوریج کے بدلے میں ’یوڈیویٹ احروناٹ ’ نامی ایک اخبار کی سرکولیشن کو بڑھانے میں مدد کی پیشکش کی۔یہ نیتن یاہو کے خلاف سب سے سنگین کیس تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں نیتن یاہو پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے ساتھ ساتھ رشوت کا الزام بھی ہے۔ ان پر عائد الزام کے تحت نیتن یاہو نے ایسے ریگولیٹری فیصلوں کو فروغ دیا جن سے ایک صفِ اوّل کی ٹیلی کام کمپنی بیزِک کو رعایتیں حاصل ہوئیں جبکہ اس کے بدلے میں انھیں کمپنی کی ایک ویب سائٹ سے مثبت نیوز کوریج حاصل ہوئی، اور یہ سب کمپنی کا کنٹرول رکھنے والے شیئرہولڈر مسٹر شاؤل ایلووچ کے ساتھ معاہدے کے تحت ہوا۔ وزیرِ اعظم نے زور دیا ہے کہ ماہرین نے ان ریگولیٹری فیصلوں کی حمایت کی تھی اور یہ کہ انھیں اس کے بدلے میں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ جن شیئرہولڈر پر رشوت دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے انھوں نے بھی کوئی غلط کام کرنے کا انکار کیا ہے۔اسرائیلی قانون کے مطابق اگر کسی سربراہ پر جرم کے الزامات ہو تو اس کے لیے مستعفی ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس سے پہلے سابق اسرائیلی وزیراعظم یہود المرٹ نے اپنی پارٹی کا عہدہ سنہ 2008 میں اس وقت چھوڑ دیا تھا جب ان کے خلاف عائد بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات ہو رہی تھیں۔ لیکن تکنیکی طور پر وہ پھر بھی اگلے سال انتخابات تک ملک کے وزیراعظم ہی تھے۔ اور پھر ان انتخابات میں موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو اقتدار میں آئے تھے۔ اب اقتدار کی اس نئی ڈیل کے تحت ان کے سیاسی حریف بینی گانز ’متبادل وزیراعظم‘ ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب 198 ماہ کے بعد دونوں افراد اپنی پوزیشنز بدلیں گے تو تب نیتن یاہو وزیراعظم کے دفتر میں موجود ہوں گے اور وہ مسٹر گانز کے نائب ہوں گے۔بن یامین نتن یاہو نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ سچائی سامنے آئے گی مختصراً یہ کہ ملک کے وزیراعظم سب سے طاقتور عہدے کی ذمہ داری سھنبالے ہوئے ہیں اور بیک وقت وہ اپنے نام کو صاف کرنے اور نیک سے بچنے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ اگرچہ اس قسم کی کسی بھی صورتحال سے حکومتی پالیسی پر کچھ اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے تاہم اپوزیشن رہنما یائیر لیپڈ نے اس کو شرمندگی اور قومی جذبے کے لیے خوفناک قرار دیا ہے۔ ادھر مسٹر نیتن یاہو اب بھی آنے والے مہینوں میں یہودی بستیوں اور مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے وادی اردن کے منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ جو کہ یقینی طور پر فلسطینیوں کو مشتعل کرنے کا اقدام ہو گا۔ اس بارے میں اسرائیل میں رائے منقسم دکھائی دیتی ہے کہ آیا نیتن یاہو کو وزیراعظم کے عہدے پر رہنا چاہیے یا نہیں۔ لیکن ان کے حامی کہتے ہیں کہ وہ جمہوری طور پر منتخب ہوئے ہیں اور ان پر عہدہ چھوڑنے کے لیے دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے۔ یہاں تک کہ اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تب بھی آخری اپیل تک وہ اپنا عہدہ قائم رکھ سکتے ہیں یعنی انھیں جرم ثابت ہوتے ساتھ ہی فوری طور پر مستعفی نہیں ہونا پڑے گا۔ سنہ 2009 میں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود المرٹ کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ طویل قانونی عمل کی وجہ سے ان کی سزا کا آغاز سنہ 2016 میں ہوا تھا۔
پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات
Similar News:آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو ناکام بنانے والا تاجر برطانیہ میں گرفتارامریکا کے پراسیکیوٹر جنرل نے سرکاری طور پر ایرانی سونے کے تاجر سجاد شہیدیان پر تہران کے خلاف عاید کردہ پابندیوں کو غیر موثر بنانے کے لیے منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی
مزید پڑھ »
ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو ناکام بنانے والا تاجر برطانیہ میں گرفتارایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو ناکام بنانے والا تاجر برطانیہ میں گرفتار Iran USA USSanctions IranUSTension UK IranianBusinessman Arrested Iran HassanRouhani JZarif realDonaldTrump SecPompeo StateDept UN
مزید پڑھ »
ہانگ کانگ کے معاملات میں بیرونی مداخلت کے خلاف ہم ۔۔۔چین نے دوٹوک اعلان کردیابیجنگ (ڈیلی پاکستان آن لائن)چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ چینی حکومت قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے تحفظ اور ہانگ کانگ کے معاملات میں
مزید پڑھ »
طیارہ حادثے کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں، ارشد ملککراچی : سی ای او پی آئی اے ارشد ملک نے جہاز حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے ملاقات میں کہا کہ ہم تمام خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں یہ ہم سب کیلئے ایک مشکل مرحلہ ہے۔
مزید پڑھ »
صدر مملکت اور وزیراعظم کے عید کے موقع پر قوم کے نام تہنیتی پیغامات
مزید پڑھ »




