امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اہم ایرانی رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق۔ حملوں میں مسلح افواج کے سربراہ، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز اور دیگر عہدے دار بھی مارے گئے۔
رہبرِ اعلیٰ سمیت اہم ایران ی رہنماؤں اور کمانڈرز کی ہلاکت، مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایران ی ٹی وی کے مطابق ان حملوں میں ایران کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی بھی مارے گئے ہیں جبکہ تہران نے پاسدرانِ انقلاب گارڈز کے کمانڈر محمد پاکپور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور نواسی کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔ایک انٹیلی جنس اور فوجی ذریعے نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا کہ مجموعی طور پر ان حملوں میں 40 ایران ی عہدے دار مارے گئے ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور اور ایران کی ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، امریکی اور اسرائیل ی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیل ی دفاعی افواج نے ایران کی سکیورٹی قیادت کے سات ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جن میں پاکپور اور شمخانی بھی شامل تھے۔سنیچر کی صبح اسرائیل ی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ان کے ملک نے ’خطرات کو دور کرنے کے لیے ایران کے خلاف ایک پیشگی حملہ شروع کیا ہے‘ اور اسرائیل یوں کو خبردار کیا کہ وہ جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے تیار رہیں۔خامنہ ای کی ہلاکت پر پاکستان بھر میں پُرتشدد مظاہرے: کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر نو افراد ہلاک، گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کے دفاتر نذر آتش ایران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش، ایسا جوا جو امریکہ میں ٹرمپ کی ساکھ کو متاثر اور حامیوں کو ناراض کر سکتا ہےاُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ان کے میزائلوں کو تباہ کرنے جا رہے ہیں اور ان کی میزائل انڈسٹری کو تباہ کر دیں گے۔ اسے دوبارہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔‘ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی مسلح افواج کے ارکان کو ’مکمل استثنیٰ‘ حاصل کرنے کے لیے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ اُنھوں نے ایران ی عوام پر زور دیا کہ وہ علما کی اسٹیبلشمنٹ کا تختہ الٹنے کی تیاری کریں۔آیت اللہ خامنہ ای کے طویل اقتدار کی آہنی گرفت کا خاتمہ: ’ان کی طاقت سخت گیر علما اور پاسدارانِ انقلاب تھے‘ اسرائیل ی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے ملک اور امریکہ نے ’ ایران میں دہشت گرد حکومت کی طرف سے لاحق خطرے کو دور کرنے کے لیے آپریشن کیا ہے۔‘ اسرائیل ی ڈیفینس فورسز نے بتایا کہ ایران پر حملوں کے لیے لگ بھگ 200 لڑاکا طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں حملے کیے اور جیٹ طیاروں نے بیک وقت تقریباً 500 اہداف پر بمباری کی۔بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل اور امریکہ پر ایک ایسی جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا جو اُن کے بقول ’مکمل طور پر بلا اشتعال، غیر قانونی اور ناجائز‘ تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج اسی دن کے لیے تیار ہیں اور حملہ آوروں کو وہ سبق سکھائیں گی جس کے وہ حقدار ہیں۔ ایران ی وزارتِ دفاع نے بھی اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ’وحشیانہ حملے ‘ کے جواب میں زبردست جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے پاسدران انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی فورسز نے اسرائیل کے متعدد مقامات کے ساتھ ساتھ خطے میں پانچ بڑی امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر حملوں کا جواب دیا ہے۔ ایران ی حکام کے مطابق العدید ایئربیس، متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئربیس، بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر جبکہ بحرین اور اُردون میں بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک امریکی جنگی امدادی جہاز بھی اس کے میزائلوں کی زد میں آیا ہے جبکہ قطر میں ایک امریکی ریڈار سسٹم کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایران کی ریڈ کریسینٹ کے ترجمان مجتبی خالدی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے 31 میں سے 24 صوبوں میں حملے کیے گئے۔ بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ فوٹیج کا تجزیہ کیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران میں ایران ی قیادت کے کمپاؤنڈ کو کافی نقصان پہنچا ہے، یہاں ایران کے سپریم لیڈر کا دفتر بھی واقع تھا۔اب تک ایران میں حملوں کے دوران 250 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں کم از کم 148 افراد جنوبی ایران میں لڑکیوں کے سکول میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل میں میزائل اور ڈرونز کے ذریعے لگاتار حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں تل ابیب میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ تباہ ہو گئی۔ اسرائیل میں ہونے والے حملوں میں آٹھ افراد کی ہلاکت جبکہ 120 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایران کے پاسدرانِ انقلاب کی جانب سے امریکی کے بحرین میں پانچویں بحری بیڑے اور خلیجی ممالک میں قائم اس کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دبئی، دوحہ اور کویت میں بھی حملے ہوئے ہیں۔ دُنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈے دبئی ایئر پورٹ میں بھی ایک واقعے میں چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بحرین کے بین الاقوامی ہوئی اڈے پر بھی حملوں کی اطلاع دی ہے۔میجر جنرل عبدالرحیم موسوی 1955 میں قم میں پیدا ہوئے۔ اُن کا شمار ایران ی فوج کے ایک تجربہ کار جرنیلوں میں ہوتا تھا۔ مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کے طور پر ان کی تقرری ایران کے فوجی کمان کے ڈھانچے میں ایک اہم موڑ تھی، کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ یہ عہدہ، جو پہلے ہمیشہ پاسدرانِ انقلاب کے پاس رہا تھا، کسی آرمی کمانڈر کو دیا گیا تھا۔ عبدالرحیم موسوی نے 1979 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور آرمی آفیسرز یونیورسٹی سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ اُنھوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ڈیفنس مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد اُنھوں نے فوج میں تیزی سے ترقی حاصل کی۔ ابتدا میں اُنھوں نے امام علی آفیسرز یونیورسٹی کے صدر، شمال مشرقی نازا ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر اور زمینی افواج کے لیے تربیت اور منصوبہ بندی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ایران ی میڈیا نے وزیر دفاع جنرل عزیز ناصر زادہ کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ وہ سنہ 1964 میں پیدا ہوئے۔ اُنھیں سنہ 2024 میں ایران کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ سنہ 2021 سے 2024 کے درمیان ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف سٹاف کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیتے رہے۔محمد پاکپور کو سنہ 2025 میں 12 روزہ ایران - اسرائیل جنگ کے دوران ان کے پیشرو کی ہلاکت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔جنرل محمد پاکپور نے اپنی تعیناتی کے بعد علی خامنہ ای کے نام ایک خط میں لکھا تھا: ’ہمارے پیارے امام اور پیروکار کے وعدے کو پورا کرنے، اپنے کمانڈرز اور سائنسدانوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے، جلد ہی جہنم کے دروازے اس بدمعاش حکومت کے لیے کھول دیے جائیں گے۔‘ آٹھ ماہ کے دوران بطور پاسدران انقلاب کے کمانڈر ان چیف اُنھوں نے ہمیشہ جنگ کی تیاری اور میزائل صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔اُس وقت یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ وہ اس جنگ کے دوران مارے گئے ہیں، تاہم کچھ روز بعد ایران ی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ اسرائیل حملوں میں بچ گئے تھے، تاہم وہ زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد علی شمخانی کو کئی روز تک عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ لیکن وہ گذشتہ برس 27 جولائی کو پاسدران انقلاب کے کمانڈرز کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ بارہ روزہ جنگ کے بعد علی شمخانی علی خامنہ ای کے سیکرٹری اور نئی قائم کردہ سپریم ڈیفنس کونسل کے نمائندے بن گئے تھے۔ ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب براہ راست ووٹ سے نہیں ہوتا بلکہ 88 سینئر علماء کی ایک باڈی کے ذریعے کیا جاتا ہے جسے ماہرین کی اسمبلی کہا جاتا ہے۔ ایران ی آئین کے تحت، ان علماء کو جلد از جلد نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنا چاہیے، لیکن یہ ملک پر حملے کے دوران حفاظتی وجوہات کی بناء پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ صدر کی کونسل، عدلیہ کے سربراہ اور طاقتور گارڈین کونسل کے ایک عالم رکن عبوری طور پر رہنما کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ پچھلے سال کی دشمنیوں سے بھی پہلے ہی، خامنہ ای نے 'مجلسِ رہبری' کو ہدایت دی تھی کہ وہ ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اپنی ہلاکت کی صورت میں انھوں نے 'تین سینئر علما' کو ممکنہ جانشین کے طور پر منتخب کیا تھا۔ سالوں سے یہ قیاس آرائیاں جاری رہی ہیں کہ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے، اس میں ان کے بیٹے مجتبیٰ کا نام بھی شامل ہے۔ ’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ سعودی عرب، قطر، بحرین اور ابوظہبی میں امریکی اڈوں پر ایران ی میزائل حملے : امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟ امریکی فوج کی تین اہلکاروں کی موت کی تصدیق، ایران ی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں دو اور کویت میں ایک شخص ہلاک رہبرِ اعلیٰ سمیت اہم ایران ی رہنماؤں اور کمانڈرز کی ہلاکت، مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ خامنہ ای کی ہلاکت پر پاکستان بھر میں پُرتشدد مظاہرے: کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر نو افراد ہلاک، گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کے دفاتر نذر آتش رہبرِ اعلیٰ سمیت اہم ایران ی رہنماؤں اور کمانڈرز کی ہلاکت، مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش، ایسا جوا جو امریکہ میں ٹرمپ کی ساکھ کو متاثر اور حامیوں کو ناراض کر سکتا ہے فضائی حملے ، چوکیوں پر قبضے اور جہاز گرانے کے دعوے: افغانستان اور پاکستان کے درمیان گذشتہ تین روز کی جھڑپوں کے دوران کیا ہوا؟ ’ہمیں لگا نزلہ ہے پھر اسے چکر آنے لگےاور بینائی بھی دھندلا گئی‘: بچوں کی ناک اور آنکھوں میں لگنے والا فنگس اور اس کا علاج کیا ہے؟ آیت اللہ خامنہ ای کے طویل اقتدار کی آہنی گرفت کا خاتمہ: ’ان کی طاقت سخت گیر علما اور پاسدارانِ انقلاب تھے‘.
رہبرِ اعلیٰ سمیت اہم ایرانی رہنماؤں اور کمانڈرز کی ہلاکت، مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم رہنماؤں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق ان حملوں میں ایران کی مسلح افواج کے سربراہ عبدالرحیم موسوی بھی مارے گئے ہیں جبکہ تہران نے پاسدرانِ انقلاب گارڈز کے کمانڈر محمد پاکپور کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، داماد اور نواسی کی بھی ہلاکت ہوئی ہے۔ایک انٹیلی جنس اور فوجی ذریعے نے امریکہ میں بی بی سی کے پارٹنر ادارے ’سی بی ایس نیوز‘ کو بتایا کہ مجموعی طور پر ان حملوں میں 40 ایرانی عہدے دار مارے گئے ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور اور ایران کی ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیلی دفاعی افواج نے ایران کی سکیورٹی قیادت کے سات ارکان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جن میں پاکپور اور شمخانی بھی شامل تھے۔سنیچر کی صبح اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ان کے ملک نے ’خطرات کو دور کرنے کے لیے ایران کے خلاف ایک پیشگی حملہ شروع کیا ہے‘ اور اسرائیلیوں کو خبردار کیا کہ وہ جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے تیار رہیں۔خامنہ ای کی ہلاکت پر پاکستان بھر میں پُرتشدد مظاہرے: کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر نو افراد ہلاک، گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کے دفاتر نذر آتشایران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش، ایسا جوا جو امریکہ میں ٹرمپ کی ساکھ کو متاثر اور حامیوں کو ناراض کر سکتا ہےاُن کا کہنا تھا کہ ’ہم ان کے میزائلوں کو تباہ کرنے جا رہے ہیں اور ان کی میزائل انڈسٹری کو تباہ کر دیں گے۔ اسے دوبارہ مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔‘ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی مسلح افواج کے ارکان کو ’مکمل استثنیٰ‘ حاصل کرنے کے لیے ہتھیار ڈالنا ہوں گے۔ اُنھوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ علما کی اسٹیبلشمنٹ کا تختہ الٹنے کی تیاری کریں۔آیت اللہ خامنہ ای کے طویل اقتدار کی آہنی گرفت کا خاتمہ: ’ان کی طاقت سخت گیر علما اور پاسدارانِ انقلاب تھے‘اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ان کے ملک اور امریکہ نے ’ایران میں دہشت گرد حکومت کی طرف سے لاحق خطرے کو دور کرنے کے لیے آپریشن کیا ہے۔‘ اسرائیلی ڈیفینس فورسز نے بتایا کہ ایران پر حملوں کے لیے لگ بھگ 200 لڑاکا طیاروں نے مغربی اور وسطی ایران میں حملے کیے اور جیٹ طیاروں نے بیک وقت تقریباً 500 اہداف پر بمباری کی۔بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیںایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیل اور امریکہ پر ایک ایسی جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا جو اُن کے بقول ’مکمل طور پر بلا اشتعال، غیر قانونی اور ناجائز‘ تھی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہماری طاقتور مسلح افواج اسی دن کے لیے تیار ہیں اور حملہ آوروں کو وہ سبق سکھائیں گی جس کے وہ حقدار ہیں۔ ایرانی وزارتِ دفاع نے بھی اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ’وحشیانہ حملے‘ کے جواب میں زبردست جواب دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے پاسدران انقلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی فورسز نے اسرائیل کے متعدد مقامات کے ساتھ ساتھ خطے میں پانچ بڑی امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا کر حملوں کا جواب دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق العدید ایئربیس، متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئربیس، بحرین میں امریکی پانچویں بیڑے کا ہیڈکوارٹر جبکہ بحرین اور اُردون میں بھی امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاسدران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایک امریکی جنگی امدادی جہاز بھی اس کے میزائلوں کی زد میں آیا ہے جبکہ قطر میں ایک امریکی ریڈار سسٹم کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایران کی ریڈ کریسینٹ کے ترجمان مجتبی خالدی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے 31 میں سے 24 صوبوں میں حملے کیے گئے۔ بی بی سی ویریفائی نے سیٹلائٹ فوٹیج کا تجزیہ کیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تہران میں ایرانی قیادت کے کمپاؤنڈ کو کافی نقصان پہنچا ہے، یہاں ایران کے سپریم لیڈر کا دفتر بھی واقع تھا۔اب تک ایران میں حملوں کے دوران 250 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں کم از کم 148 افراد جنوبی ایران میں لڑکیوں کے سکول میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہوئے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل میں میزائل اور ڈرونز کے ذریعے لگاتار حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں تل ابیب میں ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ تباہ ہو گئی۔ اسرائیل میں ہونے والے حملوں میں آٹھ افراد کی ہلاکت جبکہ 120 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ایران کے پاسدرانِ انقلاب کی جانب سے امریکی کے بحرین میں پانچویں بحری بیڑے اور خلیجی ممالک میں قائم اس کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ دبئی، دوحہ اور کویت میں بھی حملے ہوئے ہیں۔ دُنیا کے مصروف ترین ہوائی اڈے دبئی ایئر پورٹ میں بھی ایک واقعے میں چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بحرین کے بین الاقوامی ہوئی اڈے پر بھی حملوں کی اطلاع دی ہے۔میجر جنرل عبدالرحیم موسوی 1955 میں قم میں پیدا ہوئے۔ اُن کا شمار ایرانی فوج کے ایک تجربہ کار جرنیلوں میں ہوتا تھا۔ مسلح افواج کے چیف آف سٹاف کے طور پر ان کی تقرری ایران کے فوجی کمان کے ڈھانچے میں ایک اہم موڑ تھی، کیونکہ یہ پہلا موقع تھا کہ یہ عہدہ، جو پہلے ہمیشہ پاسدرانِ انقلاب کے پاس رہا تھا، کسی آرمی کمانڈر کو دیا گیا تھا۔ عبدالرحیم موسوی نے 1979 میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور آرمی آفیسرز یونیورسٹی سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ اُنھوں نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ڈیفنس مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ایران عراق جنگ کے خاتمے کے بعد اُنھوں نے فوج میں تیزی سے ترقی حاصل کی۔ ابتدا میں اُنھوں نے امام علی آفیسرز یونیورسٹی کے صدر، شمال مشرقی نازا ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر اور زمینی افواج کے لیے تربیت اور منصوبہ بندی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ایرانی میڈیا نے وزیر دفاع جنرل عزیز ناصر زادہ کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ وہ سنہ 1964 میں پیدا ہوئے۔ اُنھیں سنہ 2024 میں ایران کا وزیر دفاع مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ سنہ 2021 سے 2024 کے درمیان ایران کی مسلح افواج کے ڈپٹی چیف آف سٹاف کے طور پر بھی خدمات سرانجام دیتے رہے۔محمد پاکپور کو سنہ 2025 میں 12 روزہ ایران-اسرائیل جنگ کے دوران ان کے پیشرو کی ہلاکت کے بعد پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا تھا۔جنرل محمد پاکپور نے اپنی تعیناتی کے بعد علی خامنہ ای کے نام ایک خط میں لکھا تھا: ’ہمارے پیارے امام اور پیروکار کے وعدے کو پورا کرنے، اپنے کمانڈرز اور سائنسدانوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے، جلد ہی جہنم کے دروازے اس بدمعاش حکومت کے لیے کھول دیے جائیں گے۔‘ آٹھ ماہ کے دوران بطور پاسدران انقلاب کے کمانڈر ان چیف اُنھوں نے ہمیشہ جنگ کی تیاری اور میزائل صلاحیتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔اُس وقت یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ وہ اس جنگ کے دوران مارے گئے ہیں، تاہم کچھ روز بعد ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ اسرائیل حملوں میں بچ گئے تھے، تاہم وہ زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد علی شمخانی کو کئی روز تک عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا تھا۔ لیکن وہ گذشتہ برس 27 جولائی کو پاسدران انقلاب کے کمانڈرز کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ بارہ روزہ جنگ کے بعد علی شمخانی علی خامنہ ای کے سیکرٹری اور نئی قائم کردہ سپریم ڈیفنس کونسل کے نمائندے بن گئے تھے۔ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب براہ راست ووٹ سے نہیں ہوتا بلکہ 88 سینئر علماء کی ایک باڈی کے ذریعے کیا جاتا ہے جسے ماہرین کی اسمبلی کہا جاتا ہے۔ایرانی آئین کے تحت، ان علماء کو جلد از جلد نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرنا چاہیے، لیکن یہ ملک پر حملے کے دوران حفاظتی وجوہات کی بناء پر مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ صدر کی کونسل، عدلیہ کے سربراہ اور طاقتور گارڈین کونسل کے ایک عالم رکن عبوری طور پر رہنما کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ پچھلے سال کی دشمنیوں سے بھی پہلے ہی، خامنہ ای نے 'مجلسِ رہبری' کو ہدایت دی تھی کہ وہ ہر ممکن صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اپنی ہلاکت کی صورت میں انھوں نے 'تین سینئر علما' کو ممکنہ جانشین کے طور پر منتخب کیا تھا۔ سالوں سے یہ قیاس آرائیاں جاری رہی ہیں کہ ان کی جگہ کون لے سکتا ہے، اس میں ان کے بیٹے مجتبیٰ کا نام بھی شامل ہے۔ ’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ سعودی عرب، قطر، بحرین اور ابوظہبی میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے: امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟ امریکی فوج کی تین اہلکاروں کی موت کی تصدیق، ایرانی حملوں میں متحدہ عرب امارات میں دو اور کویت میں ایک شخص ہلاک رہبرِ اعلیٰ سمیت اہم ایرانی رہنماؤں اور کمانڈرز کی ہلاکت، مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ خامنہ ای کی ہلاکت پر پاکستان بھر میں پُرتشدد مظاہرے: کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر نو افراد ہلاک، گلگت بلتستان میں اقوام متحدہ کے دفاتر نذر آتش رہبرِ اعلیٰ سمیت اہم ایرانی رہنماؤں اور کمانڈرز کی ہلاکت، مشرقِ وسطیٰ میں جاری لڑائی کے بارے میں ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی خواہش، ایسا جوا جو امریکہ میں ٹرمپ کی ساکھ کو متاثر اور حامیوں کو ناراض کر سکتا ہے فضائی حملے، چوکیوں پر قبضے اور جہاز گرانے کے دعوے: افغانستان اور پاکستان کے درمیان گذشتہ تین روز کی جھڑپوں کے دوران کیا ہوا؟ ’ہمیں لگا نزلہ ہے پھر اسے چکر آنے لگےاور بینائی بھی دھندلا گئی‘: بچوں کی ناک اور آنکھوں میں لگنے والا فنگس اور اس کا علاج کیا ہے؟ آیت اللہ خامنہ ای کے طویل اقتدار کی آہنی گرفت کا خاتمہ: ’ان کی طاقت سخت گیر علما اور پاسدارانِ انقلاب تھے‘
ایران اسرائیل امریکہ حملے مشرقِ وسطیٰ
