امریکی کونگرس نے ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائیوں کو روکنے کے لیے ایک ریزولوشن کو اپنایا ہے جس سے امریکی صدر ٹرمپ کو ایک سیاسی نقصان ہوا ہے۔ چار جمہوریہ پارٹی کے قانون سازوں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس ریزولوشن کو اپنایا ہے۔ اگر اس پ्रसپوزل کو اپنایا گیا تو اس کے تحت ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائیوں کے لیے امریکی صدر کو کونگرس کی منظوری لینا ہوگی۔
امریکی کونگرس کے ایک ریزولوشن نے ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائی وں کے لیے صدارت کے لیے اجازت لینے سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سیاسی نقصان دیا ہے۔ چار جمہوریہ پارٹی کے قانون سازوں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس ریزولوشن کو اپنایا ہے۔ اگر اس پ्रसپوزل کو اپنایا گیا تو اس کے تحت ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائی وں کے لیے امریکی صدر کو کونگرس کی منظوری لینا ہوگی۔ ایف پی ایف کی رپورٹ کے مطابق امریکی کونگرس نے ایرانی کے خلاف امریکی فوجی کاروائی وں کو روکنے کے لیے ایک ریزولوشن کو اپنایا ہے جس سے امریکی صدر ٹرمپ کو ایک سیاسی نقصان ہوا ہے جبکہ ایرانی اور امریکی مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ ایرانی اور امریکی مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ اس کے مطابق امریکی کونگرس نے 215-208 کی اکثریت سے اس ریزولوشن کو اپنایا ہے۔ اس ریزولوشن کے مطابق امریکی صدر کو ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائی وں کے لیے کونگرس کی منظوری لینا ہوگی۔ امریکی صدر ٹرمپ کے چار جمہوریہ پارٹی کے قانون سازوں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس ریزولوشن کو اپنایا ہے۔ اس ریزولوشن کے تحت ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائی وں کے لیے امریکی صدر کو کونگرس کی منظوری لینا ہوگی.
امریکی کونگرس کے ایک ریزولوشن نے ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائیوں کے لیے صدارت کے لیے اجازت لینے سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سیاسی نقصان دیا ہے۔ چار جمہوریہ پارٹی کے قانون سازوں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس ریزولوشن کو اپنایا ہے۔ اگر اس پ्रसپوزل کو اپنایا گیا تو اس کے تحت ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائیوں کے لیے امریکی صدر کو کونگرس کی منظوری لینا ہوگی۔ ایف پی ایف کی رپورٹ کے مطابق امریکی کونگرس نے ایرانی کے خلاف امریکی فوجی کاروائیوں کو روکنے کے لیے ایک ریزولوشن کو اپنایا ہے جس سے امریکی صدر ٹرمپ کو ایک سیاسی نقصان ہوا ہے جبکہ ایرانی اور امریکی مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ ایرانی اور امریکی مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ اس کے مطابق امریکی کونگرس نے 215-208 کی اکثریت سے اس ریزولوشن کو اپنایا ہے۔ اس ریزولوشن کے مطابق امریکی صدر کو ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائیوں کے لیے کونگرس کی منظوری لینا ہوگی۔ امریکی صدر ٹرمپ کے چار جمہوریہ پارٹی کے قانون سازوں نے ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر اس ریزولوشن کو اپنایا ہے۔ اس ریزولوشن کے تحت ایرانی کے خلاف مزید فوجی کاروائیوں کے لیے امریکی صدر کو کونگرس کی منظوری لینا ہوگی
امریکی کونگرس ریزولوشن ایرانی فوجی کاروائی صدارت




