Beyond the Breaking News

امریکا ایران کے خلاف جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا، کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتا ہے

سیاست News

امریکا ایران کے خلاف جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا، کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتا ہے
امریکاایرانمشرقِ وسطیٰ

امریکا کی پالیسیوں کے تحت واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دائرے کو بڑھانے سے گریز کر رہا ہے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی راستوں پر غور کر رہا ہے۔

امریکا ایران کے خلاف جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا، کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا اور کشیدگی کے معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشیروں سے کہا ہے کہ جب تک ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں یا امریکی مفادات کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خطے میں جاری تنازعات کو مزید وسعت دینے کے بجائے سفارتی کوششوں کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دائرے کو بڑھانے سے گریز کرنا چاہتا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر بھی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں دونوں فریقوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے نہ صرف جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے بلکہ مستقبل میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، جہاں سرحدی سکیورٹی، کشیدگی میں کمی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں میں سفارتی پیش رفت اہم کردار ادا کرے گی۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کر رہا ہے اور اس کے بجائے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی راستوں پر غور کر رہا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں دونوں فریقوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے نہ صرف جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے بلکہ مستقبل میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، جہاں سرحدی سکیورٹی، کشیدگی میں کمی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں میں سفارتی پیش رفت اہم کردار ادا کرے گی.

امریکا ایران کے خلاف جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا، کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا اور کشیدگی کے معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشیروں سے کہا ہے کہ جب تک ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں یا امریکی مفادات کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خطے میں جاری تنازعات کو مزید وسعت دینے کے بجائے سفارتی کوششوں کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دائرے کو بڑھانے سے گریز کرنا چاہتا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر بھی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں دونوں فریقوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے نہ صرف جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے بلکہ مستقبل میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، جہاں سرحدی سکیورٹی، کشیدگی میں کمی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں میں سفارتی پیش رفت اہم کردار ادا کرے گی۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے تحت امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کر رہا ہے اور اس کے بجائے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی راستوں پر غور کر رہا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں دونوں فریقوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے نہ صرف جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے بلکہ مستقبل میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، جہاں سرحدی سکیورٹی، کشیدگی میں کمی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں میں سفارتی پیش رفت اہم کردار ادا کرے گی

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

ExpressNewsPK /  🏆 13. in PK

امریکا ایران مشرقِ وسطیٰ جنگ سفارتی ذرائع کشیدگی سیاست

 

United States Latest News, United States Headlines



Render Time: 2026-06-18 10:49:54