انڈیا کی سپریم کورٹ نے ماہواری کی چھٹی کی درخواست مسترد کر دی، جس پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد اور صحت عامہ کے ماہرین نے شدید تنقید کی ہے۔
مطالعے کا وقت: 5 منٹ\ انڈیا کی سپریم کورٹ نے ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کے لیے ماہواری کی چھٹی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اگر ماہواری کی چھٹی کا قانون بنایا گیا تو کوئی بھی خواتین کو ملازمت پر نہیں رکھے گا۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس طرح کی لازمی چھٹی خواتین کو یہ سوچنے پر مجبور کرے گی کہ وہ اپنے مرد ساتھیوں کے برابر نہیں ہیں، اور یہ ان کی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ تاہم، اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آئی
ہیں۔ کچھ لوگ ججوں کے خیالات سے اتفاق کرتے ہیں، جبکہ دیگر کا ماننا ہے کہ ایک یا دو دن کی چھٹی خواتین کو تکلیف دہ ماہواری کے دوران مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔\واضح رہے کہ انڈیا کی کچھ ریاستوں اور بعض بڑی نجی کمپنیوں نے اپنی خواتین ملازمین کے لیے ماہواری کی چھٹی متعارف کروائی ہے۔ قانونی ویب سائٹ لیو لا کے مطابق، سپریم کورٹ کی جانب سے یہ ریمارکس وکیل شیلیندر منی ترپاٹھی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آئے، جس میں ماہواری کی چھٹی کے لیے قومی سطح پر پالیسی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ترپاٹھی نے بعد میں بتایا کہ وہ ملازمت پیشہ خواتین کو ماہواری کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے دو سے تین دن کی چھٹی دلوانا چاہتے تھے۔ تاہم، ججز نے اس پالیسی کو خواتین کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے صنفی دقیانوسی تصورات کو تقویت ملے گی اور خواتین کی ملازمت پر منفی اثر پڑے گا۔\عدالت کے اس فیصلے پر صحت عامہ کے ماہرین اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد نے تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کہنا کہ ماہواری کی چھٹی خواتین کو ملازمت کے لیے نااہل بنا دے گی، ججوں کی جانب سے ماہواری اور اس سے جڑے دقیانوسی خیالات کو ختم کرنے میں ناکامی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں ایسے قوانین موجود ہیں جو خواتین کے لیے کام کی جگہ کے وقار، صنفی مساوات اور محفوظ حالات کی بات کرتے ہیں۔ ماہواری کی چھٹیوں سے انکار ان اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماہواری کی چھٹی خواتین کی صحت اور تندرستی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ کام کی جگہ پر ان کی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کو بھی بہتر بنائے گی۔ اس کے علاوہ، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خواتین کو اضافی چھٹی دینا مردوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہو گا، اور ایسے معاشرے میں جہاں ماہواری پر بات کرنا ممنوع سمجھا جاتا ہے، خواتین ان دنوں میں چھٹی لیتے ہوئے شرمندگی محسوس کر سکتی ہیں۔ تاہم، ماہواری کے حوالے سے مہم چلانے والے ممالک کا حوالہ دیتے ہیں جہاں ماہواری کی چھٹی دی جاتی ہے، اور مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ چھٹی خواتین کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ انڈیا میں بھی کچھ ریاستوں نے ماہواری کی چھٹی دی ہے۔ بہار اور اڈیشہ میں سرکاری ملازمین کو ماہانہ دو دن کی چھٹی دی جاتی ہے، جبکہ کیرالہ میں یونیورسٹیز اور صنعتی تربیتی اداروں کے عملے کو یہ چھٹی ملتی ہے۔\اس کے علاوہ، گذشتہ برسوں میں کئی کمپنیوں نے بھی اپنی خواتین ملازمین کے لیے اسی طرح کی پالیسیاں متعارف کروائی ہیں۔ 2025 میں آر پی جی گروپ نے اپنی ماتحت کمپنی (سی ای اے ٹی) میں خواتین ملازمین کے لیے ماہانہ دو دن کی چھٹی کی پالیسی کا اعلان کیا۔ انجینئرنگ کمپنی ایل اینڈ ٹی نے بھی اسی طرح کی پالیسی متعارف کروائی، جس میں ایک مہینے میں ایک دن کی چھٹی کی پیشکش کی گئی، جبکہ فوڈ ڈیلیوری کمپنی زوماٹو سال میں 10 دن کی چھٹی کی پیشکش کرتی ہے۔
انڈیا سپریم کورٹ ماہواری چھٹی خواتین کے حقوق ملازمت



