اکادمی ادبیات پاکستان میں نئی تقرریوں کے حوالے سے جاری بحث و تمہید

ادب و ثقافت خبریں

فدرل اکادمی ادبیات پاکستان کی صدر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے ایکسٹینشن نہ لینے کا اعلان کیا ہے جس کے بعد نئے سربراہ کی تقرری کے لیے اشتہار دیا گیا ہے۔ اس دوران اعزازات کی تقسیم اور ڈاکٹر صاحبہ کی کارکردگی پر تنقید اور حمایت دونوں سامنے آئے ہیں۔

علم و ادب کے دو باو قار اداروں وفاقی حکومت کی اکادمی ادبیات پاکستان اور پنجاب کی مجلس ترقی ادب میں نئی تقرریوں کے حوالے سے ان دنوں جوگرد اڑتی نظر آ رہی ہے وہ کسی طرح بھی اہل قلم کے شایان شان نہیں ہے۔ سینئر صحافی اسلم ملک کے بقول اکادمی ادبیات پاکستان کی موجودہ اور پہلی خاتون صدر نشین ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنی تقرری کی مدت ختم ہونے سے دو ماہ پہلے ہی ایک خط کے ذریعے با اختیار اتھارٹی کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ اس عہدے پر ایکسٹینشن لینے کے لئے تیار نہیں ہیں اور حکومت ضابطے کے تحت نئے سربراہ کے تقرر کے لئے آغاز کار کرے- اب اس عہدے پر تقرر کے لئے میڈیا پر اشتہار آ چکا ہے اور عنقریب کوئی نیا چہرہ سامنے آجائے گا- یہ محض اتفاق ہے یا کچھ اور کہ ڈاکٹر صاحبہ کی مدتِ تقرر کے اختتام کے قریب ہی حکومت کی طرف سے زندگی کے مختلف شعبوں کے لئے اعزازات کا اعلان ہوا- ان اعلانات میں ادب کے حوالے سے بھی کچھ اعزازات کا تذکرہ تھا جو ناانصافی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ زیر بحث رہا۔ اسلام آباد کے ایک سینئر شاعر حلیم قریشی کی اچانک وفات کو بھی اس نا انصافی کے ساتھ جوڑا گیا اور ایک لکیر اکادمی کی چیئر پرسن تک بھی کھینچی گئی کہ ان کی رائے بھی زیر زبر میں شامل تھی۔ سو مجموعی طور پر اکادمی ادبیات پاکستان کا پورا ادارہ اور اس کی کارکردگی پر سوال اٹھائے گئے پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف نے جنہوں نے اگست 2023ء میں اس عہدے کا چارج سنبھالا تھا شائد اس لئے بھی بہتر یہی سمجھا کہ ایکسٹینشن نہ لی جائے تو بہتر ہے۔ ان کی حمائت میں لکھنے والوں نے کہا کہ وہ ایک جانی مانی محقق، نقاد، شاعرہ اور تخلیقی لکھاری ہیں۔ اکادمی ادبیات کی سربراہی سے قبل وہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد میں شعبہ زبان و ادبیات کی فیکلٹی ڈین کے طور پر خدمات سرانجام دے رہی تھیں اس لئے اکادمی کے منصب پر آنے کے بعد ان کی فعالیت میں اضافہ ہوا اور ادبی سطح پر بہت سے کارنامے انجام دئے گئے۔ ان پر بہت سے تنقید کرنے والوں کا موقف تھاکہ وہ ایک خاص گروپ کی خدمات تک محدود رہیں۔ اسلام آباد سے معروف شاعر اور اینکر وقاص عزیز نے زیادہ تلخ لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ کہ گزشتہ تین سال اکادمی ادبیات کے کمزور ترین سال تھے۔ ادب کے حوالے سے اور انعامات کے حوالے سے ان کا موقف یہ تھا کہ ماضی میں جیوری کے ارکان خود کو ایوارڈوں کے لئے پرپوز کرتے رہے ہیں اور سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک چیئرمین نے تو مبینہ طور پر خود کو اعزاز کے لئے آّگے کر دیا تھا۔ اس بار تو سندھ اور بلوچستان کے سینئر ادبیوں نے کتابیں بھیجنے سے ہی انکار کیا۔ معیاری کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے بھی گزشتہ دور مایوس کن رہا ہے۔ گزشتہ تین سال میں 90 فی صد بجٹ اسلام آباد اور اردو تک محدود رہا جب کہ کتابوں کی اشاعت کے لئے پاکستان بھرکے قلم کاروں اور زبانوں کی نمائندگی ہونا ضروری تھی۔ آج کی دنیا ڈیجیٹل ہے بھارت کی ساہتیہ اکادمی نے اپنی تمام کتب آن لائن مفت کر دی ہیں لیکن ہماری اکادمی کی ویب سائٹ پچھلے تین سال سے اپ ڈیٹ نہیں ہوئی۔ بھرتیوں اور تعیناتیوں اور تعمیرات کے معاملات بھی ایک سوالیہ نشان ہیں۔ خود ڈاکٹر نجیبہ عارف نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پوسٹ میں لکھا کہ الحمدللہ بالاخر وہ گھڑی آ گئی جس کا اوائل ملازمت سے انتظار تھا۔ جی ہاں دھڑکا نہیں انتظار----اوائل ملازمت سے اس لئے کہ جب سے ہوش سنبھالا خود کو گھڑی کی سوئیوں سے بنددھا پایا۔ یہ ایک شدید نظم و ضبط کی عادی ماں کی اولاد ہونے کا لازمی نتیجہ تھا۔ پانچ سال کی عمر سے جو سفر شروع ہوا تھا وہ اب کہیں باسٹھ برس کی عمرمیں جا کر تھم رہا ہے تو دل پر ایک عجیب شادمانی کسی مقررہ مقا م پر پہنچ جانے کا اطمینان اور اپنے وقت کے خود مالک ہونے کا ناقابل بیان سکون آمیز احساس طاری ہے۔ اس طویل پوسٹ پر سائبان تحریک والے سینئر شاعر حسین مجروح نے لکھا ۔ زندگی کے نئے سفر کے لئے بہت دعائیں، سلامت رہیں"۔ مظہر سلیم مجوکہ نے دعائے صحت سلامتی و شادمانی کا اظہار کیا اور جبار مرزا کا ردعمل تھا کہ باعزت ریٹائر ہونا اللہ پاک کے کرموں میں سے ایک کرم ہے۔ اپنے حصے کا کام کرنا اور احترام لے جانا بہت بڑا اعزاز ہے۔ اسی طرح سینکڑوں مداحوں نے اچھے الفاظ سے یاد کیا۔ خالد اقبال یاسر در و بست، انداز، گردش ، رخصتی اور مزاج جیسی کتابوں کی صورت میں ایک خوبصورت شاعر محقق منتظم اور اداروں کی صاف ستھری بنت کے ذریعے پاکستان کی سربلندی کے علمبردار ہیں۔ انہوں نے اکادمی ادبیات پاکستان میں جریدوں کی ادارت سے ڈائریکٹر جنرل تک عہدوں پر کام کیا ہے۔ ان دنوں اپنی قسط وار سرگزشت میں وہ اداروں اور کرداروں کے اندر کی بہت سی حیران کن کہانیاں بیان کر رہے ہیں اورعلم و ادب کا ایک بڑا حصہ ان سے متاثر بھی ہے۔ ان کے بقول گزشتہ تین سال سمیت ماضی میں اکادمی اور بعض دوسرے علمی ادبی سرکاری اداروں میں جو گھڑمس مچتا رہا ہے اسے سامنے رکھا جائے تو اس بارنئے چیئرمین کے تقرر کے وقت بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ایک ہڈ بیتی بھی پڑھ لیجئے۔ مسیح الدین صدیقی ڈی جی تھے تو اکادمی کے سالانہ اجلاس میں راقم الحروف دو سیشنوں میں اجتماعی صدارت کا حصہ تھے۔ اسی اجلاس میں رئیس امروہی سمیت بعض سینئر قلم کاروں اور اکادمی کے ایک ذمہ دارشخص کے ایک غیر رسمی مکالمے کی بنیاد پر میں نے محبی مجید نظامی کی ہدائت پر نوائے وقت کے ادبی ایڈیشن میں"قصہ ایک لاکھ کا" کے عنوان سے کسی کا نام لکھنے کی بجائے لاہور سے شریک نہ ہونے والے ایک بزرگ ادیب کے حوالے سے چھوٹی سی خبر دی تھی۔ سیف الدین سیف سمیت اور بزرگ بھی اجلاس میں نہیں گئے تھے مگرجناب احمد ندیم قاسمی نے خبر کو اپنی طرف منسوب کر کے تمام اخبارات میں وضاحتی خطوط شائع کروائے۔ اگرچہ بعد میں محبی احمد ندیم قاسمی سے محبت کا رشتہ قائم رہا اورانہوں نے کتابوں پر نظر ثانی اوراس کے صلے میں کچھ ادائیگی کو معمول کی بات قرار دے کر یہ وضاحت کی کہ ان کی عدم شرکت ایک فوجی سربراہ کی اکادمی کے اجلاس کی صدارت کے با عث تھی مگر بعد کے اکادمی کے منتظمین نے کئی کتابوں کے خالق راقم بیدار سرمدی کو اہل قلم کی فہرست کے دائرے سے ہی باہر کھڑا کر دیا اور ماشا اللہ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ 1976ء میں بھٹو مرحوم کے دور میں احمد فرازکی ڈی جی شپ میں پاکستانی زبانوں کی ترقی و ترویج کے لئے قائم پاکستان کے اس سب سے اہم ادبی ادارے کے مکمل خد و خال جنرل ضیا الحق کے استادمحترم اشتیاق حسین قریشی کی چیئرمین شپ میں سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد احمد فراز ،فخر زمان، نذیر ناجی ،ڈاکٹر قاسم بگھیو ڈاکٹر محمد یوسف خشک سے ڈاکٹر نجیبہ عارف تک بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ منتظم رہے ہیں لیکن غیر جانبداری برقرار رکھنے میں ایک دو ہی کامیاب ہوئے۔ ان دنوں مجلس ترقی ادب لاہورمیں بھی نئے ڈی جی کے تقرر کا معاملہ زیر بحث ہے۔ یہ ادارہ جولائی 1954ء میں لاہور میں قائم کیاگیا تھا مقصداردو کے کلاسیکی ادب، تالیفات اور علومِ انسانی پر تراجم کو فروغ دینا اور شائع کرنا ہے۔معروف علمی و ادبی جریدہ"صحیفہ" کے نام سے 1957ء سے مسلسل شائع ہو رہا ہے۔ پروفیسر حمید احمد خان، احمد ندیم قاسمی، شہزاد احمد، ڈاکٹر تحسین فراقی اور عباس تابش جیسے علمی و ادبی شہرت کے حامل افراد اس کے سربراہ رہ چکے ہیں جن میں بعض تقرریاں سیاسی پسندیدگی کی بنیاد پر ہوئی ہیں۔ کچھ عرصے سے معمول کی سرگرمیوں کے ساتھ چائے خانہ کی صورت میں مشاعروں کی روایت کا آغاز بھی ہوا ہے اور فرحت عباس شاہ سمیت بہت سے احباب کی طرف سے تنقید کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اللہ کرے یہاں بھی ایسی کسی شخصیت کا تقرر ہو کہ بحث کے نئے دروازے نہ کھلیں۔محمد ناصر اقبال خاندین فطرت اسلام اور نبوت کے ظہور سے قبل انسانیت کے نجات دہندہ اور سرور کونین حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ .

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

Nawaiwaqt_ /  🏆 6. in PK

اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر نجیبہ عارف پنجاب مجلس ترقی ادب ادبی اعزازات تقرریاں

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات