ایران کی معروف اداکارہ الناز شاکردوست کو جنوری کی حکومت مخالف مظاہروں کے کریک ڈاؤن کی حمایت پر ایک سال قید کی سزا سنائی گئی، اپیل مسترد۔
امریکا میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق ایران کی معروف اداکارہ الناز شاکردوست کو جنوری میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران کریک ڈاؤن میں ہلاک ہونے والے مظاہرین کی حمایت کرنے پر ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ یہ اطلاع برطانوی نشریاتی ادارے نے دی ہے۔ اداکارہ کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل بھی مسترد کر دی گئی ہے۔
اداکارہ کے خلاف الزامات اور سزا کی تفصیلات
میڈیا ادارے امتداد کے مطابق سزا میں دو سال تک سیاسی، فنکارانہ اور آن لائن سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی بھی شامل ہے۔ الناز شاکردوست پر اسلامی جمہوریہ کے خلاف پروپیگنڈا سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
دو دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر کے دوران درجنوں فلموں میں اداکاری کرنے والی الناز شاکردوست نے فروری میں کہا تھا کہ وہ ملک گیر احتجاج کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کے بعد ایران میں دوبارہ کبھی اداکاری نہیں کریں گی۔
اداکارہ کی موجودگی اور اپیل مسترد
خیال رہے کہ اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ الناز شاکردوست اِس وقت کہاں ہیں۔ پیرس میں اداکارہ کی ایک دوست نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ الناز شاکر دوست اِس وقت جیل میں نہیں ہیں، تاہم وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکیں کہ اداکارہ ایران میں ہیں یا ملک سے باہر۔
اداکارہ نے فروری میں اپنی ایک پوسٹ میں لکھا تھا کہ اپنے پیاروں کے سوگ میں ہوں چنانچہ ایسے میں کون سا تہوار اور کیسی خوشی؟ میں کسی جشن میں شرکت نہیں کروں گی اور نہ ہی دوبارہ کبھی اس سرزمین پر کوئی کردار ادا کروں گی جس سے لہو کی بو آتی ہے۔
مظاہروں کی پس منظر اور ہلاکتوں کے اعدادوشمار
جنوری میں ایرانی حکام نے ملک بھر میں ہونے والے ان مظاہروں کو سختی سے کچل دیا تھا جو مہنگائی اور پڑھتے ہوئے روزمرہ اخراجات کے خلاف شروع ہوئے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا اندازہ ہے کہ ان مظاہروں کے دوران دسیوں ہزار افراد ہلاک ہوئے۔
ایرانی حکومت نے تین ہزار سے زائد ہلاکتوں کا اعتراف کیا ہے، تاہم اس کا مؤقف ہے کہ یہ ہلاکتیں مظاہرین کی کارروائیوں اور امریکہ و اسرائیل کی مبینہ منصوبہ بندی کے نتیجے میں ہوئیں۔
یہ پیش رفت ایران میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جہاں فنکاروں اور کارکنوں کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ الناز شاکردوست کا کیس اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت مخالف آوازوں کو کس طرح دبایا جا رہا ہے۔
اداکارہ کے وکیل سے گفتگو کے بعد یہ معلومات سامنے آئیں کہ سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی ہے، جس سے ان کی قانونی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنان اس فیصلے کو فنکارانہ آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دے رہے ہیں۔
الناز شاکردوست ایران قید کی سزا حکومت مخالف مظاہرے انسانی حقوق ایرانی حکومت اپیل مسترد