بلال بھٹو نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے شدہ امن معاہدے کے حوالے سے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کی سرسری تعریف کی اور اس قدم کی خطے کے استحکام پر مثبت اثرات پر روشنی ڈالی۔
بلال بھٹو نے نمایاں طور پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اس معاملے کو آگے بڑھانے کی کاوشوں کی تعریف کی اور علاقائی استحکام کے لئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثابت قدم حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ پی پی پی کے چیئرمین نے ہفتہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مابین طے پایا امن معاہدہ خطے میں کشیدگیوں کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اس مثبت قدم سے تمام فریقین کی عزم اور حکمت عملی واضح ہوتی ہے جو اس طویل عرصے سے جاری سیاسی اور سیکیورٹی ڈائیلاگ میں شامل ہیں۔ بلال بھٹو نے سوشل میڈیا پر لکھتے ہوئے بتایا کہ "مکثفی مذاکرات کے بعد، ہمیں خوشی ہے کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ حاصل ہو چکا ہے۔ دونوں جانب نے فوری اور مستقل طور پر تمام محاذوں پر، بشمول لبنان کے معاملے میں، فوجی آپریشنز کا خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔" اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی سوشیل نیٹ ورک ٹرُھ سوشل پر اعلان کیا کہ "ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ میں پوری اختیار کے ساتھ بحر ہرمز کی مفت رسائی کو فعال کرتا ہوں اور اسی وقت امریکی بحری بلاک ایڈ کے فوری خاتمے کی ہدایت دیتا ہوں۔" یہ پیش رفت خطے کی امن و سلامتی کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ بظاہر، اس معاہدے سے نہ صرف تجارتی راستے جیسے بحر ہرمز کی بحالی ممکن ہو گی بلکہ خطے کے بڑے طاقتوں کے درمیان اضطراب کم ہو کر اقتصادی و سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین نے اشارہ کیا ہے کہ اس معاہدے کی پائیداری کے لئے باقاعدہ نگرانی اور تمام شریک ممالک کی مسلسل حمایت ضروری ہوگی۔ بلال بھٹو نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس طرح کی بین الاقوامی سطح پر کئے گئے مثبت اقدامات نہ صرف پاکستان کی غیر ملکی سیاست میں اس کے کردار کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ خطے کی مجموعی استحکام کے لئے بھی مفید ہیں.
بلال بھٹو نے نمایاں طور پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کی اس معاملے کو آگے بڑھانے کی کاوشوں کی تعریف کی اور علاقائی استحکام کے لئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ثابت قدم حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ پی پی پی کے چیئرمین نے ہفتہ کے روز جاری بیان میں کہا کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مابین طے پایا امن معاہدہ خطے میں کشیدگیوں کے خاتمے اور مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اس مثبت قدم سے تمام فریقین کی عزم اور حکمت عملی واضح ہوتی ہے جو اس طویل عرصے سے جاری سیاسی اور سیکیورٹی ڈائیلاگ میں شامل ہیں۔ بلال بھٹو نے سوشل میڈیا پر لکھتے ہوئے بتایا کہ "مکثفی مذاکرات کے بعد، ہمیں خوشی ہے کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ حاصل ہو چکا ہے۔ دونوں جانب نے فوری اور مستقل طور پر تمام محاذوں پر، بشمول لبنان کے معاملے میں، فوجی آپریشنز کا خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔" اس کے ساتھ ہی انہوں نے امریکی سوشیل نیٹ ورک ٹرُھ سوشل پر اعلان کیا کہ "ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ میں پوری اختیار کے ساتھ بحر ہرمز کی مفت رسائی کو فعال کرتا ہوں اور اسی وقت امریکی بحری بلاک ایڈ کے فوری خاتمے کی ہدایت دیتا ہوں۔" یہ پیش رفت خطے کی امن و سلامتی کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ بظاہر، اس معاہدے سے نہ صرف تجارتی راستے جیسے بحر ہرمز کی بحالی ممکن ہو گی بلکہ خطے کے بڑے طاقتوں کے درمیان اضطراب کم ہو کر اقتصادی و سیاسی استحکام کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین نے اشارہ کیا ہے کہ اس معاہدے کی پائیداری کے لئے باقاعدہ نگرانی اور تمام شریک ممالک کی مسلسل حمایت ضروری ہوگی۔ بلال بھٹو نے نتیجہ اخذ کیا کہ اس طرح کی بین الاقوامی سطح پر کئے گئے مثبت اقدامات نہ صرف پاکستان کی غیر ملکی سیاست میں اس کے کردار کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ خطے کی مجموعی استحکام کے لئے بھی مفید ہیں
بلال بھٹو امریکہ-ایران معاہدہ شہباز شریف سید عاصم منیر خطے کی سلامتی




