بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے سیاسی مسائل سیاسی اور جمہوری عمل سے حل ہوں گے، حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر ہتھیار اٹھانے والوں سے بات نہیں ہوگی۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے سیاسی مسائل سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں اور حکومت سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم ہتھیار اٹھانے والوں یا بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے والوں سے کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ یہ بات انھوں نے اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں ایک لیکچر دیتے ہوئے کہی۔
بلوچستان کے مسائل کی تاریخی اور جغرافیائی تفہیم
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کے چیلنجز کو اس کی تاریخ، جغرافیہ، سماجی ڈھانچے، سیاسی ارتقا اور موجودہ حقائق کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ صوبے کے مسائل کے پائیدار حل کے لیے موثر گورننس، میرٹ پر مبنی نظام، سیاسی شمولیت، نوجوانوں کے لیے مواقع، معاشی ترقی اور ریاست کی رٹ کا موثر نفاذ ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف پسماندگی بلوچستان کی صورتحال کی وضاحت نہیں کر سکتی اور محرومی یا پسماندگی تشدد یا بے گناہ شہریوں کے قتل کا جواز نہیں بن سکتی۔
تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے حکومتی اقدامات
وزیر اعلیٰ نے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر میرٹ پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں، غیر فعال اسکولوں کی بحالی، اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی مرکزی دھارے میں لانے، نئے اسکول اور کلاس رومز کے قیام، تقریباً 17 ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی اور صحت کی سہولیات کی توسیع پر کام ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امن اور ترقی کا گہرا تعلق ہے اور حکومت پولیس کی صلاحیت، جدید پولیسنگ، انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیوں، استغاثہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطے کو مضبوط کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور تعمیری مواقع کے ذریعے تشدد کے متبادل راستے فراہم کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔
ریاست کی رٹ اور آئینی مذاکرات کی شرائط
میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ریاست کی رٹ اور شہریوں کے تحفظ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ آئین اور قانون کے دائرے میں سیاسی اختلاف اور مکالمے کے تمام جمہوری راستے کھلے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل پر قومی بحث یک طرفہ بیانیوں کے بجائے تحقیق، تاریخی شواہد اور زمینی حقائق پر مبنی ہونی چاہیے۔
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے میں سیاسی اور سلامتی چیلنجز پر بحث جاری ہے اور حکومت ترقیاتی و انتظامی اصلاحات کے ذریعے دیرینہ مسائل کے حل کی کوشش کر رہی ہے۔
انھوں نے زور دیا کہ بلوچستان کی ترقی کے لیے سیاسی شمولیت، معاشی مواقع اور موثر گورننس کے ساتھ ساتھ قانون کی عمل داری ناگزیر ہے تاکہ عوام کو تحفظ اور بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
بلوچستان سرفراز بگٹی اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ سیاسی مذاکرات ریاست کی رٹ میرٹ پر بھرتیاں تعلیم اور صحت
