حکومت اور اپوزیشن کے درمیان دہشتگردی، انتظامی اقدامات اور بنیادی اصولوں سے متعلق مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے اور ڈیڈ لاک برقرار رہا۔ علامہ راجہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر اور رانا ثناء اللہ نے آج لانگ مارچ کی کال دەرائی، بتایا کہ مذاکرات کا کوئی اگلا دور طے نہیں ہوا اور اپوزیشن اسلام آباد داخل نہیں ہونے دے گی۔
طویل بات چیت، حکومت اپوزیشن مذاکرات بے نتیجہ، سہیل آفریدی نے آج لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے: اسلام آباد داخل نہیں ہونے دیںگے: رانا ثنا اسلام آباد حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کے ارکان سپیکر چیمبر سے چلے گئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے اپوزیشن رکن علامہ راجہ ناصر عباس نے تصدیق کی کہ ڈیڈ لاک برقرار ہے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے ہیں آج پھر مذاکرات ہوں گے چھوٹی چھوٹی چیزیں تھیں لیکن نتائج تک نہیں پہنچ سکے جبکہ دیگر اپوزیشن ارکان کا بھی کہنا ہے کہ آج مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ حل نہیں ہوسکا بانی سے ملاقات پر انہوں نے کہا کہ ابھی نہیں بعد میں ہو جائے گی کوشش تھی کسی نتیجے پر پہنچ سکیں لیکن ڈیڈ لائن برقرار ہے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بنیادی اصولی معاملات پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا مذاکرات کا اگلا دور ایک ہوگا معلوم نہیں لانگ مارچ کی کال برقرار ہے۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ خان صاحب کے ذاتی معالج تک رسائی کے معاملے پر ڈیڈ لاکھ ہے دہشتگردی کے معاملے پر نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے ان کے تحفظات ہیں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آج لانگ مارچ ہوگا چاہتے تھے مذاکرات کامیاب ہوں‘ بات چیت کے اگلے دور پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ شیری رحمان نے بھی کہا کہ لانگ مارچ کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں چار مرتبہ مسودہ بدلہ گیا ہم نے ان کے خدشات سنے ہیں انسداد دہشتگردی پر کبھی اختلافات ہیں دہشتگردی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے لانگ مارچ اور دوسری چیزوں پر انہوں نے ایگریمنٹ سے انکار کر دیا ہے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ خیبر پی کے حکومت انسداد دہشت گردی پر تعاون کرنے کو تیار نہیں مذاکرات کا آخری دور تھا فی الحال مزید مذاکرات کا ٹائم طے نہیں ہوا صوبائی حکومت دہشتگردی کے حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے ہمارے دروازے کھلے ہیں دہشتگردی کے خلاف جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے لانگ مارچ نہیں ہونے دیا جائے گا لاگ مارچ کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دینگے۔ اطلاعات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات دہشتگردی سے جڑے انتظامی اقدامات سے پی ٹی آئی کے گریزاں ہونے پر تعطل سے دوچار ہوئے صوبہ خیبرپی کے میں گورننس میں فوری بہتری لانے کے سوال پر بھی پی ٹی آئی تسلی بخش جواب نہ دے پائی مذاکراتی ٹیمیں شامل ڈرافٹ بنانے میں بھی کوشاں رہیں لیکن اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی سے وزیر اعلیٰ خیبرپی کے سہیل آفریدی کی بھی ملاقات کرانے کی شرط شامل کردی طویل بحث و تمحیص بھی پی ٹی آئی کی جانب سے خاموشی اختیار کرتے رہنے سے ڈیڈلاک میں بدل گئی اور مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔نجی ٹی وی کے مطابق حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے درمیان بات چیت کامیاب ہونے اور پھر ڈیڈ لاک کے بعد ایک بار پھر مذاکرات ہوئے تاہم معاہدے سے قبل محمود خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلیے ڈٹ گئے اور مؤقف اختیار کیا کہ مارچ ختم کرنے کا اعلان بانی خود کریں گے۔ حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان مذکرات کا دوسرا دور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا۔ذرائع کے مطابق حکومت نے اپوزیشن بانی چیئرمین سے ملاقات کروانے پر رضامندی ظاہر کی جس کے لیے اپوزیشن نے ایک رہنما کا نام بھی دیا ۔ذرائع کے مطابق 3 ایم پی او کے تحت گرفتار ہونے والے رہنماؤں اور کارکنان، بانی چیئرمین کی بہنوں کی رہائی پر بھی اتفاق ہوگیا جبکہ یہ بھی طے پایا کہ کے پی حکومت دہشتگردی پر سیاست نہیں کرے گی۔حکومت اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں وقتی ڈیڈ لاک آ گیا، ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے پوزیشن قائدین بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے رابطہ کیا اور واضح کیا کہ پہلے بانی سے ملاقات ہو گی پھر کوئی فیصلہ ہو گا۔ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بانی سے ملاقات کی بغیر کوئی اعلان یا فیصلہ ممکن نہیں، اس بات تک محدود رہیں کہ بانی سے ملاقات ہوگی تو ہی فیصلہ ہوگا اور بانی سے ملاقات کے بعد اس پر حتمی جواب دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے کہا کہ بانی سے ملاقات کیلیے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو بھیجا جائے اور پھر بانی جو بھی فیصلہ کریں ہمیں اْس پر چلنا ہوگا۔بعد ازاں وزیرداخلہ محسن نقوی تحریری معاہدے کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس سے وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور پھر ایک گھنٹے کے بعد واپس پارلیمنٹ ہاؤس آئے جس کے بعد حکومت اور مذاکرات میں دوبارہ مذاکرات شروع ہوگئے۔اْدھر وزیراعلی سہیل آفریدی اور پارلیمانی لیڈر پی ٹی آئی شاہد خٹک سے اپوزیشن اراکین کا رابطہ ہوا جس میں انہوں نے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات بھی بتائیں۔قبل ازیں اجلاس میںسپیکر قومی اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کے تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حکومت، پیپلز پارٹی اور اپوزیشن اراکین کا شکریہ ادا کیا۔ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزراء امیر مقام، رانا ثناء اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی مذاکرات میں شریک تھے۔ مذاکرات 11 گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ محمد ناصر اقبال خاندین فطرت اسلام اور نبوت کے ظہور سے قبل انسانیت کے نجات دہندہ اور سرور کونین حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ .
حکومت اور اپوزیشن مذاکرات لانگ مارچ اسلام آباد دہشتگردی سیاسی ڈیڈ لاک