Beyond the Breaking News

دودھ کی طرح سفید وردی اور سیاہ پی کیپ میں وہ بڑا ہی خوبصورت لگ رہا تھا، اب ...

پاکستان خبریں خبریں

دودھ کی طرح سفید وردی اور سیاہ پی کیپ میں وہ بڑا ہی خوبصورت لگ رہا تھا، اب ...
پاکستان تازہ ترین خبریں,پاکستان عنوانات

مصنف:محمد سعید جاویدقسط:59فورٹ عباس کی طرف جانے والی گاڑی پہلے سمہ سٹہ سے بہاولنگر کی طرف آتی تھی جہاں سے وہ ہمارے سٹیشن یعنی ”ٹبہ عالمگیر“ سے ہوتی ہوئی فورٹ عباس کی طرف چلی جاتی اور پھر وہی گاڑی کوئی دو تین گھنٹے بعد دوبارہ واپس آتی اور اسی طرح بہاولنگر ہوتی ہوئی سمہّ سٹہّ واپس چلی جاتی تھی۔ ہمیں اسی طرف جانا تھا جہاں ہمیں اتر کر وہاں سے مرکزی لائن کی کراچی والی گاڑی بدلنا تھی۔گاڑی ابھی تک تو اُدھر سے بھی نہیں آئی تھی۔ بھوک چمکی تو ماں نے احتیاط سے زادراہ کے طور پر رکھے گئے پراٹھوں پر انڈوں کا

وہ روز نیا عزم لے کر کالج آتی،ہمیشہ کمزور طالب علموں کا ہاتھ .دودھ کی طرح سفید وردی اور سیاہ پی کیپ میں وہ بڑا ہی خوبصورت لگ . دودھ کی طرح سفید وردی اور سیاہ پی کیپ میں وہ بڑا ہی خوبصورت لگ رہا تھا، اب احساس ہوا ماں اور پھوپھیاں کیوں مجھے ”ٹیشن بابو“ بنانے کے خواب دیکھا کرتی تھیںفورٹ عباس کی طرف جانے والی گاڑی پہلے سمہ سٹہ سے بہاولنگر کی طرف آتی تھی جہاں سے وہ ہمارے سٹیشن یعنی ”ٹبہ عالمگیر“ سے ہوتی ہوئی فورٹ عباس کی طرف چلی جاتی اور پھر وہی گاڑی کوئی دو تین گھنٹے بعد دوبارہ واپس آتی اور اسی طرح بہاولنگر ہوتی ہوئی سمہّ سٹہّ واپس چلی جاتی تھی۔ ہمیں اسی طرف جانا تھا جہاں ہمیں اتر کر وہاں سے مرکزی لائن کی کراچی والی گاڑی بدلنا تھی۔ گاڑی ابھی تک تو اُدھر سے بھی نہیں آئی تھی۔ بھوک چمکی تو ماں نے احتیاط سے زادراہ کے طور پر رکھے گئے پراٹھوں پر انڈوں کا سالن رکھ کر ہمیں تھما دیا۔ ابھی ہم کھا ہی رہے تھے کہ سٹیشن پر کھلبلی سی مچی، ماموں نے بتایا کہ فورٹ عباس کی طرف جانے والی گاڑی بس پہنچنے والی ہے۔ ہم دونوں بھائی بھاگ کر سامنے سٹیشن پر پہنچ گئے۔ کوئی درجن بھر لوگ ٹکٹ گھر کے سامنے اکٹھے ہو گئے، دور افق پر دھواں نظر آنا شروع ہو گیا تھا اور ہلکی سی گھڑگھڑاہٹ کی آواز بھی سنائی دی، سٹیشن ماسٹر نے کھڑکی کھول کر منتظر لوگوں کو ٹکٹ تھمائے اور پھر وہ اپنی ٹوپی اوڑھ کر سبز جھنڈی لیے تیزی سے باہر نکل آیا۔ دودھ کی طرح سفید وردی اور سیاہ پی کیپ میں وہ بڑا ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔ تب ہی مجھے احساس ہوا کہ میری ماں اور پھوپھیاں کیوں بچپن میں مجھے ”ٹیشن بابو“ بنانے کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔ تھوڑی دیر میں چُھک چُھک کرتی، سیاہ دھواں چھوڑتی اور سیٹیاں بجاتی ہوئی ریل گاڑی صاف نظر آنے لگی۔ آگے لگا ہوا سٹیم انجن خوفناک مگر بڑا رومانوی سا لگ رہا تھا، میری تو اس سے پہلے ہی سلام دعا ہو چکی تھی جب میں اپنے ابا جان کو لینے ایک دو دفعہ اسٹیشن گیا تھا۔ شروع میں تو میں بھی اس سے بہت خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلا تھا لیکن بعد میں تومیں اس دیو ہیکل مشین کی خوبصورتی کا اسیر ہو گیا تھا اور یہ عشق ابھی تک قائم ہے۔ شفیق گاڑی کے قریب آنے پر سہم گیا اور اِدھر اُدھر چھپنے لگا۔ گاڑی نے زور دار سیٹی بجائی اور زمین کو لرزاتی ہوئی سٹیشن پر آن کھڑی ہوئی۔ انجن سے دھویں کے مرغولے اٹھ رہے تھے اور بھاپ نکلنے کی وحشت ناک آوازیں نکل رہی تھیں۔ انجن ڈرائیور اور فائر مین سیاہ کپڑوں میں ملبوس سروں پر رومال باندھے مختلف کل پرزوں سے زور آزمائی کر رہے تھے۔ اترنے والوں نے اندر سے ٹرنکوں،گٹھڑیوں اور بچوں کو باہر پھینکا، خود چھلانگیں لگائیں اور خواتین کو سہارا دے کر نیچے اتارا۔ نئے مسافر سوار ہوئے۔ اس سارے عمل کو بمشکل2منٹ لگے ہوں گے، پہلے ریل گاڑی نے اور پھر گارڈ نے سیٹی بجائی اور وہ اسی شان سے گہرا سیاہ دھواں چھوڑتی ہوئی فورٹ عباس سٹیشن کی طرف روانہ ہو گئی جو وہاں سے کوئی بیس کلومیٹر اور آگے تھا اور اس لائن کا ٓخری اسٹیشن تھا۔ وہاں پہنچ کر انجن نے نہ صرف پانی لینا ہوتاتھا، بلکہ واپسی کے لیے اپنا رخ بھی موڑنا ہوتا تھا۔ میں اتنا مسحور ہو گیا تھا کہ بھول ہی گیا کہ میرے ساتھ شفیق بھی آیا تھا، دیکھا تو وہ خوفزدہ ہو کر واپس بھاگ گیا تھا اور ماں کے پہلو میں چھپا بیٹھا تھا۔ میں وہیں دھوپ میں کھڑا دور تک گاڑی کو آہستہ آہستہ گرد و غبار میں گم ہوتا دیکھتا رہا۔پھر میں بھی واپس اپنے اڈے پر لوٹ آیا جہاں دونوں ماموں نیند کے مزے لے رہے تھے جیسے ان کو اس سارے کھیل سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ بہن بھی ایک طرف بیٹھی اونگھ رہی تھی۔ا سٹیشن ایک بار پھر ویران ہو گیا تھا، اب ہمیں 3 گھنٹے مزید انتظار کرنا تھا جو یقینا بڑا ہی بُرا لگ رہا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب پہلی دفعہ مجھے اس دھرتی سے بچھڑتے ہوئے دکھ ہوا اور میں بھی بیل گاڑی کے ایک کونے میں بیٹھا بے جان نگاہوں سے خالی ریل کی پٹڑی کو گھورتا رہا جو میرے لیے اپنے گاؤں سے دوری کا ایک سبب بننے والی تھی۔ تپتی گرم دوپہر کے سراب میں ایسے لگتا تھا جیسے ریت پر بچھی ہوئی پٹری دور آگے جا کر گاڑی سمیت کہیں کسی جھیل میں اتر گئی ہے۔نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.

وہ روز نیا عزم لے کر کالج آتی،ہمیشہ کمزور طالب علموں کا ہاتھ ...دودھ کی طرح سفید وردی اور سیاہ پی کیپ میں وہ بڑا ہی خوبصورت لگ ... دودھ کی طرح سفید وردی اور سیاہ پی کیپ میں وہ بڑا ہی خوبصورت لگ رہا تھا، اب احساس ہوا ماں اور پھوپھیاں کیوں مجھے ”ٹیشن بابو“ بنانے کے خواب دیکھا کرتی تھیںفورٹ عباس کی طرف جانے والی گاڑی پہلے سمہ سٹہ سے بہاولنگر کی طرف آتی تھی جہاں سے وہ ہمارے سٹیشن یعنی ”ٹبہ عالمگیر“ سے ہوتی ہوئی فورٹ عباس کی طرف چلی جاتی اور پھر وہی گاڑی کوئی دو تین گھنٹے بعد دوبارہ واپس آتی اور اسی طرح بہاولنگر ہوتی ہوئی سمہّ سٹہّ واپس چلی جاتی تھی۔ ہمیں اسی طرف جانا تھا جہاں ہمیں اتر کر وہاں سے مرکزی لائن کی کراچی والی گاڑی بدلنا تھی۔ گاڑی ابھی تک تو اُدھر سے بھی نہیں آئی تھی۔ بھوک چمکی تو ماں نے احتیاط سے زادراہ کے طور پر رکھے گئے پراٹھوں پر انڈوں کا سالن رکھ کر ہمیں تھما دیا۔ ابھی ہم کھا ہی رہے تھے کہ سٹیشن پر کھلبلی سی مچی، ماموں نے بتایا کہ فورٹ عباس کی طرف جانے والی گاڑی بس پہنچنے والی ہے۔ ہم دونوں بھائی بھاگ کر سامنے سٹیشن پر پہنچ گئے۔ کوئی درجن بھر لوگ ٹکٹ گھر کے سامنے اکٹھے ہو گئے، دور افق پر دھواں نظر آنا شروع ہو گیا تھا اور ہلکی سی گھڑگھڑاہٹ کی آواز بھی سنائی دی، سٹیشن ماسٹر نے کھڑکی کھول کر منتظر لوگوں کو ٹکٹ تھمائے اور پھر وہ اپنی ٹوپی اوڑھ کر سبز جھنڈی لیے تیزی سے باہر نکل آیا۔ دودھ کی طرح سفید وردی اور سیاہ پی کیپ میں وہ بڑا ہی خوبصورت لگ رہا تھا۔ تب ہی مجھے احساس ہوا کہ میری ماں اور پھوپھیاں کیوں بچپن میں مجھے ”ٹیشن بابو“ بنانے کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔ تھوڑی دیر میں چُھک چُھک کرتی، سیاہ دھواں چھوڑتی اور سیٹیاں بجاتی ہوئی ریل گاڑی صاف نظر آنے لگی۔ آگے لگا ہوا سٹیم انجن خوفناک مگر بڑا رومانوی سا لگ رہا تھا، میری تو اس سے پہلے ہی سلام دعا ہو چکی تھی جب میں اپنے ابا جان کو لینے ایک دو دفعہ اسٹیشن گیا تھا۔ شروع میں تو میں بھی اس سے بہت خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلا تھا لیکن بعد میں تومیں اس دیو ہیکل مشین کی خوبصورتی کا اسیر ہو گیا تھا اور یہ عشق ابھی تک قائم ہے۔ شفیق گاڑی کے قریب آنے پر سہم گیا اور اِدھر اُدھر چھپنے لگا۔ گاڑی نے زور دار سیٹی بجائی اور زمین کو لرزاتی ہوئی سٹیشن پر آن کھڑی ہوئی۔ انجن سے دھویں کے مرغولے اٹھ رہے تھے اور بھاپ نکلنے کی وحشت ناک آوازیں نکل رہی تھیں۔ انجن ڈرائیور اور فائر مین سیاہ کپڑوں میں ملبوس سروں پر رومال باندھے مختلف کل پرزوں سے زور آزمائی کر رہے تھے۔ اترنے والوں نے اندر سے ٹرنکوں،گٹھڑیوں اور بچوں کو باہر پھینکا، خود چھلانگیں لگائیں اور خواتین کو سہارا دے کر نیچے اتارا۔ نئے مسافر سوار ہوئے۔ اس سارے عمل کو بمشکل2منٹ لگے ہوں گے، پہلے ریل گاڑی نے اور پھر گارڈ نے سیٹی بجائی اور وہ اسی شان سے گہرا سیاہ دھواں چھوڑتی ہوئی فورٹ عباس سٹیشن کی طرف روانہ ہو گئی جو وہاں سے کوئی بیس کلومیٹر اور آگے تھا اور اس لائن کا ٓخری اسٹیشن تھا۔ وہاں پہنچ کر انجن نے نہ صرف پانی لینا ہوتاتھا، بلکہ واپسی کے لیے اپنا رخ بھی موڑنا ہوتا تھا۔ میں اتنا مسحور ہو گیا تھا کہ بھول ہی گیا کہ میرے ساتھ شفیق بھی آیا تھا، دیکھا تو وہ خوفزدہ ہو کر واپس بھاگ گیا تھا اور ماں کے پہلو میں چھپا بیٹھا تھا۔ میں وہیں دھوپ میں کھڑا دور تک گاڑی کو آہستہ آہستہ گرد و غبار میں گم ہوتا دیکھتا رہا۔پھر میں بھی واپس اپنے اڈے پر لوٹ آیا جہاں دونوں ماموں نیند کے مزے لے رہے تھے جیسے ان کو اس سارے کھیل سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ بہن بھی ایک طرف بیٹھی اونگھ رہی تھی۔ا سٹیشن ایک بار پھر ویران ہو گیا تھا، اب ہمیں 3 گھنٹے مزید انتظار کرنا تھا جو یقینا بڑا ہی بُرا لگ رہا تھا۔ یہی وہ وقت تھا جب پہلی دفعہ مجھے اس دھرتی سے بچھڑتے ہوئے دکھ ہوا اور میں بھی بیل گاڑی کے ایک کونے میں بیٹھا بے جان نگاہوں سے خالی ریل کی پٹڑی کو گھورتا رہا جو میرے لیے اپنے گاؤں سے دوری کا ایک سبب بننے والی تھی۔ تپتی گرم دوپہر کے سراب میں ایسے لگتا تھا جیسے ریت پر بچھی ہوئی پٹری دور آگے جا کر گاڑی سمیت کہیں کسی جھیل میں اتر گئی ہے۔نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

DailyPakistan /  🏆 3. in PK

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات

Similar News:آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔

میرے نانا نے گھر میں اناج پیسنے کے لیے خراس لگا رکھا تھا،۔نانا اکثر مجھے اس ...مصنف:محمد سعید جاویدقسط:57میرے نانا نے اپنے گھر میں اناج پیسنے کے لیے ایک خراس لگا رکھا تھا، جس میں آٹا پسوانے والا اپنے بیل جوت کر آٹا پیستا اور جاتے وقت خراس کے کرائے کی مد میں وہاں رکھی ہوئی ایک بوری میں کچھ آٹا ڈال جاتا تھا۔ یہ کام زیادہ تر صبح صبح گرمی شروع ہونے سے پہلے ہوتا تھا۔ جہاں پر بیل جوتے جاتے وہاں ایک بیٹھنے کی چھوٹی سی کرسی بنی ہوئی تھی۔نانا اکثر مجھے اس پر بیٹھ کر بیلوں کے ساتھ ساتھ گھومنے کی اجازت دے دیتے، صبح صبح ٹھنڈی ہوا میں بڑا مزہ آتا تھا مگر جیسے ہی دن چڑھتا اور گرمی بڑھ جاتی یا مجھے کوئی اور ”ضروری“ کام یاد آ جاتا تو میں چھلانگ مار کر اتر جاتا اور نئی سرگرمیوں میں مبتلا ہو جاتا۔یہ شوق بہت دیر تک رہا پھر نانا رخصت ہوئے تو ان کا خراس بھی اجڑ گیا۔ بعد ازاں گاؤں میں روایتی انجن والی چکیاّں لگ گئیں، جو ہر وقت سر یلی آواز سے گھُگھو بجاتی رہتی تھیں، جس سے نہ صرف ایک رومانوی سا ماحول بنتا بلکہ گونجتی ہوئی یہ آواز گاؤں کے زندہ ہونے کی علامت بھی ہوتی تھی۔ اس خوبصورت آواز کے بغیر گاؤں خالی خالی اور اداس سا لگتا تھا۔شام کو اس کا گھُگھو اتار کر رکھ لیتے تھے تاکہ لوگوں کی نیند نہ خراب ہو اور یوں پھُس پھُس کرتا انجن رات گئے تک چلتا رہتا۔ دیس نکالاایک روز ابا جان کا خط آیا کہ ان کی تر قی ہو گئی ہے اور یہ کہ اب انھیں گھر بھی مل گیا ہے اس لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بچے اب کراچی منتقل ہو جائیں گے اور دادا، دادی اور پھوپھی گاؤں میں ہی رہیں گے۔جب یہ سُنا تو پہلے تو یوں لگا کہ شاید یہ کسی اور کی بات ہو رہی ہے، جب یقین ہو گیا کہ ہمیں ہی جانا ہے تو بڑا دکھ ہوا کہ سب ساتھی چھوٹ جائیں گے، آنسو بھر آئے لیکن آنسوؤں سے بھلا اتنے بڑے فیصلے بدلتے ہیں۔لہٰذا ہدایت کے مطابق بھرپور تیاریاں شروع ہو گئیں۔ سب سے پہلے ہمارے لیے قدرے بہتر کپڑے تیار کروائے گئے دونوں بھائیوں کے لیے شلواریں، پاجامے اور قمیضیں بنوائی گئیں جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ اب ہمیشہ کے لیے دھوتی کو خیرآباد کہہ دیا جائے، دھوتی میں ایک دو قباحتوں کے سوا بڑا کچھ تھا۔یہ بہت ہی آسان، ہوادار اور اچھا پہناوا تھا لیکن دو چیزیں سخت تکلیف دہ تھیں، ایک تو وہ گرہ جو میری ماں پیچھے باندھ دیا کرتی تھیں کہ یہ اپنی جگہ قائم رہے اور کھل نہ جائے جب کہ ہماری بھی خواہش تھی کہ ہم بھی بڑوں کی طرح اس کے لڑوں کا کچھ
مزید پڑھ »

' اچھی ٹیکنیک کے ساتھ شاٹس کھیلنا چاہتا ہوں، ہڑا ہڑی نہیں مچانا چاہتا، سعود ...اسلام (ڈیلی پاکستان آن لائن)آئی سی سی ورلڈکپ میں نیدرلینڈز کے خلاف شاندار بیٹنگ کرکے پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ جیتنے والے پاکستانی مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل کا کہنا ہے کہ میرے کیر یئر کی ابتدا میں اچھی پرفارمنس کافی اہم ہے ، اب تک کی اپنی کار کردگی سے کافی خوش ہوں۔سعود شکیل نے اہم موقع پر 52 گیندوں پر 68 رنز کی اننگز کھیلی، انہوں نے9 چوکے اور ایک چھکا لگایا، اس کے علاوہ رضوان نے بھی 68 رنز بنائے۔ میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل نے کہا کہ اس وکٹ پر شروع میں بیٹنگ کرنا آسان نہیں تھا، یہ سب ٹیم ایفرٹ کی بات ہوتی ہے،  کبھی ٹاپ آرڈر نہیں پرفارم کرتا تو ہماری ذمہ داری ہوتی ہے بڑا سکور کریں۔سعود شکیل نے کہا کہ مجھے اندازہ تھا کہ میں آج کا میچ کھیل رہا ہوں، فی الحال اوپننگ کے بارے میں پاکستان ٹیم کو کوئی پریشانی نہیں،حیدرآباد میں ابتدا میں مشکل ہی ہوتی ہے، اب تک یہاں جتنا کھیلے ہیں دن میں ہی بیٹنگ کی، بعد میں کریں گے تو مختلف ہوگا۔ ایشین گیمز کے سیمی فائنل میں افغانستان نے پاکستان کو شکست دے دی  انہوں نے بتایا کہ میرا پلان آج یہی تھا کہ اٹیک کرنا ہے، رضوان کو لمبی اننگز کھیلنا تھی، میں نے نیدرلینڈز کے بولرز کو ٹارگٹ کر کے ان پر اٹیک کیا۔سعود شکیل کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں پر فارم کر کے میرا اعتماد بلند ہوا تھا، میں اپنی وائٹ بال کرکٹ پر بھی فوکس کر رہا تھا، احساس تھا کہ میری جگہ پانچویں یا چھٹی پوزیشن پر ہی ہوگی، اس حساب سے تیاری کی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیسٹ سیریز میں کوشش کی کہ ریڈ بال میں ہی وائٹ بال کیلئے خود کو منواؤں۔اس کےعلاوہ ان کا کہنا تھا کہ حیدرآباد اور چنئی کی وکٹوں پر ابتدا میں اسپنرز کو مدد ملتی ہے، پہلی اننگ کے 20 اوورز اہم ہوتے ہیں، یہاں کوشش یہ کریں کہ وکٹ نہ گنوائیں۔سعود نے کہا کہ کھیل میں بہتری لانے کیلئے جارح شاٹس اپنانا شروع بھی کیے، میرے لیے اچھی بات یہ ہے کہ میں بھارت کی وکٹوں پر کھیل رہا ہوں، اچھی ٹیکنیک کے ساتھ شاٹس کھیلنا چاہتا ہوں، ہڑا ہڑی نہیں مچانا چاہتا۔ ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟
مزید پڑھ »

دنیا کی حفاظتی تہہ ’اوزون‘ میں شگاف 3 برازیل جتنے حجم تک بڑھ گیادنیا کی حفاظتی تہہ ’اوزون‘ میں شگاف 3 برازیل جتنے حجم تک بڑھ گیا1985 میں انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی تہہ میں ایک شگاف دریافت ہوا تھا
مزید پڑھ »

پنجاب کی نگران حکومت نے رواں سال ایک اور بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کرلیالاہور(آئی این پی)نگران پنجاب حکومت نے رواں مالی سال میں ہی ایک اور بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ شہر میں 900 کلومیٹر طویل مرکزی اور رہائشی علاقوں کی شاہراہوں کو مرمت کی ضرورت درکار ہے، نگران پنجاب حکومت کی جانب سے اکتوبر 2023 تک کا بجٹ پیش کیا گیا تھا، اب نگران پنجاب حکومت نے رواں مالی سال میں ایک اور بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ایل ڈی اے کی آئندہ بجٹ میں سڑکوں کی مرمت و بحالی کیلئے 7 ہزار ملین روپے مختص کرنے کی استدعا کی گئی ہے، رائیونڈ روڈ، فیروزپور روڈ سمیت 114 سڑکوں کی مرمت کا پلان بنایا
مزید پڑھ »

’پارٹی چھوڑنے کی غلطی تسلیم کرتا ہوں‘ بلوچستان میں مسلم لیگ ن کا پرانا ...کوئٹہ(آئی این پی)بی اے پی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات چودھری شبیر اور مرکزی رہنما میر ظفر قمبرانی سیکڑوں ساتھیوں سمیت مسلم لیگ ن میں شامل ہوگئے۔ پاکستان مسلم لیگ ن بلوچستان کے زیراہتمام مختلف جماعتوں کے کارکنوں کی ن لیگ میں شمولیت کیلئے جلسے کا انعقاد کیا گیا، مسلم لیگ ن بلوچستان کے صدر شیخ جعفر کی موجودگی میں چودھری شبیر اور میر ظفر قمبرانی نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا۔چودھری شبیر نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی مسلم لیگ ن سے وابستہ تھا، اب دوبارہ شامل ہوکر فخر محسوس کر رہا ہوں
مزید پڑھ »

حماس کے حملوں میں ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 600 ہوگئیحماس کے حملوں میں ہلاک اسرائیلیوں کی تعداد 600 ہوگئیفلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے اسرائیل پر زمین، سمندر اور فضا سے حملوں میں اب تک600 اسرائیلی ہلاک ہوچکے ہیں جس میں فوجیوں کی
مزید پڑھ »



Render Time: 2026-05-24 12:26:38