سندھ میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون کی ناکافی تنفیذ

سماج News

سندھ میں گھریلو تشدد کے خلاف قانون کی ناکافی تنفیذ
گھریلو تشددسندھقانون

سال 2013 میں منظور کردہ سندھ ڈومیسٹک وایولینس ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔ کمزور تفتیش، ادارتی معاونت کی کمی اور سزا نہ ملنے کے باعث متاثرہ خواتین کو انصاف نہیں مل پا رہا۔

mail سندھ میں خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے سال 2013 میں منظور کیے گئے قانون سندھ ڈومیسٹک وایولینس ایکٹ پر 13 سال گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہ ہونے کے باعث خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آسکی ہے۔ مذکورہ قانون کی منظوری کے بعد صوبے میں گھریلو تشدد سے متعلق کیسز درج ہونا شروع ہوئے لیکن پولیس کی جانب سے کمزور تفتیش ہونے اور ادارتی معاونت نہ ملنے کے باعث متاثر خواتین کی اکثریت کو انصاف نہ مل سکا۔ مذکورہ قانون خواتین کو گھریلو تشدد کی مختلف اقسام سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، جن میں جسمانی تشدد، جنسی زیادتی، ہراسانی، نفسیاتی و جذباتی دباؤ، معاشی استحصال وغیرہ شامل ہیں۔ مذکورہ قانون کے تحت گھریلو تشدد کے مرتکب افراد کے عدالت وں سے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں جرمانے اور قید شامل ہیں۔ تاہم قانون ی ماہرین اور غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق مذکورہ قانون پر صحیح طور پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث گھریلو تشدد میں ملوث افراد سزائوں سے بچ جاتے ہیں۔ معاشرے کے مظلوم طبقات کو قانون ی مدد فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم لیگل ایڈ سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ کے گھروں میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد عام ہے،جبکہ متاثر خواتین کے لیے اس کی شکایت کرنے اور انصاف حاصل کرنے میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ گھریلو تشدد سے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث متاثر خواتین کو عدالت وں سے انصاف نہیں مل پاتا۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ قانون پر عملدرآمد کے لیے ادارتی معاونت بھی مہیا نہیں ہے کیونکہ سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن جیسے متعلقہ سرکاری ادارے مالی اور انتظامی طور پر خودمختار نہیں ہیں۔ 2025 میں بھی گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ رکارڈ کیا گیا لیکن ملوث افراد کو سزائیں نہ ہونے کے برابر رہیں۔ غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے پہلے 6 ماہ میں صوبہ سندھ میں گھریلو تشدد کے 204 کیسز رپورٹ رپورٹ ہوئے، ان میں سے 98 کیسز کے چالان عدالت وں میں پیش کیے گئے، جن میں سے 70 کیسز پر کارروائی ہوئی لیکن کسی ایک میں بھی سزا نہیں سنائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے عدالت وں میں چالان کیے گئے کل کیسز میں سے 14 کیس واپس لے لیے جس سے مذکورہ کیسز کی تفتیش کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سندھ میں کسانوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ہاری ویلفیئر ایسو سی ایشن کے صدر اکرم خاصخیلی کے مطابق خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات کی شرح شہری علاقوں سے زیادہ صوبے کے دیہی علاقوں میں زیادہ ہے، جس کا سببب تعلیم کی کمی اور غربت ہے۔ ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں سے گھریلو تشدد کے 772 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان کے مطابق گھریلو تشدد کے تمام واقعات رپورٹ نہیں ہوتے اس لیے ایسے واقعات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے دیہی معاشرے میں محدود پیمانے تک خواتین پر تشدد کو ابھی تک جائز اور مردوں کا حق سمجھا جاتا ہے اس لیے بھی گھریلو تشدد کے تمام واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے شہری علاقوں میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات دیہی علاقوں کی بنسبت زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ سندھ پولیس کی حالیہ اعداد و شمار میں ہوا ہے جن کے مطابق صرف کراچی میں ہر مہینے پولیس کو ایک ہزار سے زیادہ خواتین کی طرف سے گھریلو تشدد کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ پولیس نے گزشتہ سال کے پہلے 6 ماہ میں صوبے بھر میں گھریلو تشدد کے حوالے سے 204 کیس درج کیے گئے، تاہم اکثر کیسز میں ملوث ملزمان کو سزائیں نہیں ملیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 کے دوران بدترین گھریلو تشدد کے باعث صوبے میں 165 خواتین اور 9 لڑکیاں جاں بحق بھی ہوئیں ان کے علاوہ صوبے میں 250 خواتین اور 10 لڑکیاں جسمانی تشدد کا نشانہ بنیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے وائس چیئرپرسن برائے سندھ خضر حیات کے مطابق شہروں میں گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ ہونا مثبت عمل ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ قوانین پر مکمل عملدرآمد ہو اور تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کو سزائیں بھی ملیں۔ سندھ وومن لایرز الائنس کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ شازیہ نظامانی کے مطابق ابھی تک گھریلو تشدد کی شکار تمام خواتین اس کے خلاف شکایات درج نہیں کراتیں، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تھانوں میں ان کی شکایات درج کرنے والے اکثر مرد پولیس اہکار ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کی شکایات درج کرنے پر خواتین پولیس اہہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔جائیداد منتقلی پر ٹیکس کی وصولی کا نظام ڈیجیٹلائز کیا جائے گا، ناصر حسین شاہوردی کا ناجائز استعمال کر کے شہری کی موبائل ایپ سے پیسے منتقل کرنے والا پولیس اہلکار گرفتار خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق پاکستان کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے جملہ حقوق بحق ایکسپریس میڈیا گروپ محفوظ ہیں۔.

mail سندھ میں خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے سال 2013 میں منظور کیے گئے قانون سندھ ڈومیسٹک وایولینس ایکٹ پر 13 سال گزرنے کے باوجود عملدرآمد نہ ہونے کے باعث خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں کمی نہیں آسکی ہے۔ مذکورہ قانون کی منظوری کے بعد صوبے میں گھریلو تشدد سے متعلق کیسز درج ہونا شروع ہوئے لیکن پولیس کی جانب سے کمزور تفتیش ہونے اور ادارتی معاونت نہ ملنے کے باعث متاثر خواتین کی اکثریت کو انصاف نہ مل سکا۔ مذکورہ قانون خواتین کو گھریلو تشدد کی مختلف اقسام سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، جن میں جسمانی تشدد، جنسی زیادتی، ہراسانی، نفسیاتی و جذباتی دباؤ، معاشی استحصال وغیرہ شامل ہیں۔ مذکورہ قانون کے تحت گھریلو تشدد کے مرتکب افراد کے عدالتوں سے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں، جن میں جرمانے اور قید شامل ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین اور غیر سرکاری تنظیموں کے مطابق مذکورہ قانون پر صحیح طور پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث گھریلو تشدد میں ملوث افراد سزائوں سے بچ جاتے ہیں۔ معاشرے کے مظلوم طبقات کو قانونی مدد فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم لیگل ایڈ سوسائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ کے گھروں میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد عام ہے،جبکہ متاثر خواتین کے لیے اس کی شکایت کرنے اور انصاف حاصل کرنے میں رکاوٹیں حائل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ گھریلو تشدد سے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث متاثر خواتین کو عدالتوں سے انصاف نہیں مل پاتا۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ قانون پر عملدرآمد کے لیے ادارتی معاونت بھی مہیا نہیں ہے کیونکہ سندھ کمیشن آن اسٹیٹس آف وومن جیسے متعلقہ سرکاری ادارے مالی اور انتظامی طور پر خودمختار نہیں ہیں۔ 2025 میں بھی گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ رکارڈ کیا گیا لیکن ملوث افراد کو سزائیں نہ ہونے کے برابر رہیں۔ غیر سرکاری تنظیم سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے پہلے 6 ماہ میں صوبہ سندھ میں گھریلو تشدد کے 204 کیسز رپورٹ رپورٹ ہوئے، ان میں سے 98 کیسز کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے، جن میں سے 70 کیسز پر کارروائی ہوئی لیکن کسی ایک میں بھی سزا نہیں سنائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے عدالتوں میں چالان کیے گئے کل کیسز میں سے 14 کیس واپس لے لیے جس سے مذکورہ کیسز کی تفتیش کے معیار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سندھ میں کسانوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ہاری ویلفیئر ایسو سی ایشن کے صدر اکرم خاصخیلی کے مطابق خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات کی شرح شہری علاقوں سے زیادہ صوبے کے دیہی علاقوں میں زیادہ ہے، جس کا سببب تعلیم کی کمی اور غربت ہے۔ ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں سے گھریلو تشدد کے 772 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان کے مطابق گھریلو تشدد کے تمام واقعات رپورٹ نہیں ہوتے اس لیے ایسے واقعات کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ کے دیہی معاشرے میں محدود پیمانے تک خواتین پر تشدد کو ابھی تک جائز اور مردوں کا حق سمجھا جاتا ہے اس لیے بھی گھریلو تشدد کے تمام واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے شہری علاقوں میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات دیہی علاقوں کی بنسبت زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں۔ سندھ پولیس کی حالیہ اعداد و شمار میں ہوا ہے جن کے مطابق صرف کراچی میں ہر مہینے پولیس کو ایک ہزار سے زیادہ خواتین کی طرف سے گھریلو تشدد کی شکایات موصول ہوتی ہیں۔ پولیس نے گزشتہ سال کے پہلے 6 ماہ میں صوبے بھر میں گھریلو تشدد کے حوالے سے 204 کیس درج کیے گئے، تاہم اکثر کیسز میں ملوث ملزمان کو سزائیں نہیں ملیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف سال 2024 کے دوران بدترین گھریلو تشدد کے باعث صوبے میں 165 خواتین اور 9 لڑکیاں جاں بحق بھی ہوئیں ان کے علاوہ صوبے میں 250 خواتین اور 10 لڑکیاں جسمانی تشدد کا نشانہ بنیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے وائس چیئرپرسن برائے سندھ خضر حیات کے مطابق شہروں میں گھریلو تشدد کے کیسز رپورٹ ہونا مثبت عمل ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ متعلقہ قوانین پر مکمل عملدرآمد ہو اور تشدد کے واقعات میں ملوث افراد کو سزائیں بھی ملیں۔ سندھ وومن لایرز الائنس کی چیئرپرسن ایڈووکیٹ شازیہ نظامانی کے مطابق ابھی تک گھریلو تشدد کی شکار تمام خواتین اس کے خلاف شکایات درج نہیں کراتیں، جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تھانوں میں ان کی شکایات درج کرنے والے اکثر مرد پولیس اہکار ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کی شکایات درج کرنے پر خواتین پولیس اہہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔جائیداد منتقلی پر ٹیکس کی وصولی کا نظام ڈیجیٹلائز کیا جائے گا، ناصر حسین شاہوردی کا ناجائز استعمال کر کے شہری کی موبائل ایپ سے پیسے منتقل کرنے والا پولیس اہلکار گرفتار خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق پاکستان کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے جملہ حقوق بحق ایکسپریس میڈیا گروپ محفوظ ہیں۔

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

ExpressNewsPK /  🏆 13. in PK

گھریلو تشدد سندھ قانون خواتین عدالت

 

United States Latest News, United States Headlines

Similar News:You can also read news stories similar to this one that we have collected from other news sources.

Spurs in talks with Real Madrid to re-sign Bale, says agentSpurs in talks with Real Madrid to re-sign Bale, says agentBale made over 200 appearances for Premier League Spurs between 2007 and 2013.
Read more »

Opposition's clamor of election rigging is only for media: Fawad ChOpposition's clamor of election rigging is only for media: Fawad ChFawad Chaudhry said 413 petitions against rigging were filed after the 2013 elections.
Read more »

ثمینہ عظمت بیگ ایورسٹ کے بعد کے ٹو سرکرنے کیلئے تیارثمینہ عظمت بیگ ایورسٹ کے بعد کے ٹو سرکرنے کیلئے تیارپاکستان کی معروف کوہ پیما ثمینہ عظمت بیگ کے ٹو سرکرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بننے کے سفر کا آغاز کر رہی ہیں۔ تفصیلات SamaaTV
Read more »

نامور صحافی عارف نظامی انتقال کر گئے - ایکسپریس اردونامور صحافی عارف نظامی انتقال کر گئے - ایکسپریس اردوعارف نظامی 2013 میں نگراں وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے پر بھی فائز رہے
Read more »

وزیراعظم کی میئر پشاور کے الیکشن کی مثال دیکر ای وی ایم کے مخالفین پر تنقیدوزیراعظم کی میئر پشاور کے الیکشن کی مثال دیکر ای وی ایم کے مخالفین پر تنقید2013 کے انتخابات میں بھی مسترد شدہ ووٹوں کا مسئلہ سامنے آیا تھا: عمران خان
Read more »

شارجہ کرکٹ گراؤنڈ کا اسٹینڈ ’’سچن ٹنڈولکر‘‘ کے نام سے منسوب - ایکسپریس اردوشارجہ کرکٹ گراؤنڈ کا اسٹینڈ ’’سچن ٹنڈولکر‘‘ کے نام سے منسوب - ایکسپریس اردوسابق کرکٹر نے 2013 میں 24 سالہ شاندار کیریئر سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا
Read more »



Render Time: 2026-05-16 16:32:22