سندھ میں کورونا کے نئے کیسز رپورٹ، آج مزید 34 مریض جاں بحق ARYNewsUrdu COVID19
تفصیلات کے مطابق کروناصورت حال سے متعلق اپنے تازہ بیان میں وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں گزشتہ 24گھنٹے میں 10574 کرونا ٹیسٹ کیے گئے، صوبے میں اب تک 615302 ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں آج مزید 34 کرونا کے مریض انتقال کرگئے، جس کے بعد صوبے میں کرونا سے انتقال کرنے والوں کی مجموعی تعداد 1922ہوگئی ہے، اس وقت 34070 مریض زیرعلاج ہیں۔ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ زیر علاج مریضوں میں سے 375مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے، اس وقت 105 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں، صوبے میں کرونا مریضوں کو ہرممکن سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔خیال رہے کہ ملک میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے باعث کیسز میں کمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔ ملک بھر میں کرونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 57 ہزار سے تجاوز کرگئی جبکہ وائرس سے اموات کی تعداد 5 ہزار 426...
ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے 40 افراد انتقال کر گئے، جس کے بعد ملک میں کرونا وائرس سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 5 ہزار 426 ہوگئی۔
پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات
Similar News:آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔
سندھ میں زیر تعلیم فارمیسی کے طلبا کا مستقبل خطرے میں پڑگیا - ایکسپریس اردوجامعات کے12مختلف ڈپارٹمنٹ و ملحقہ ادارے فارمیسی کونسل سے رجسٹرڈ ہی نہیں
مزید پڑھ »
کورونا وائرس کے بعد انگلینڈ کے ہسپتالوں میں ہارٹ اٹیک کے مریضوں کی تعداد کمکورونا وائرس کے بعد انگلینڈ کے ہسپتالوں میں ہارٹ اٹیک کے مریضوں کی تعداد کم UK CoronavirusPandemic COVID19UK CoronaPatients HeartPatients Hospital GOVUK 10DowningStreet BorisJohnson WHO
مزید پڑھ »
بھارت میں سونے کے ماسک کے بعد ہیروں کے ماسک فروخت ہونے لگے - World - Dawn News
مزید پڑھ »
کرونا کے پیش نظر سندھ حکومت نے 28 نئے ڈاکٹرز بھرتی کرلیےکراچی : سندھ حکومت نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں دو درجن سے زائد نئے ڈاکٹرز کو بھرتی کرلیا، جنہیں اندرون سندھ کے اسپتالوں میں تعینات کیا جائے گا۔
مزید پڑھ »
وزیراعلیٰ سندھ کا سندھ بھر میں مویشی منڈیوں کو کھولنے کا حکموزیراعلیٰ سندھ نے سندھ بھر میں مویشی منڈیوں کو کھولنے کا حکم دے دیا، مویشی منڈیاں ایس اوپیز کےتحت کھولی جائیں گی مزید پڑھیں: ARYNewsUrdu
مزید پڑھ »