تحقیقاتی ٹیم نے طیارہ گرنے کے مقام کا دورہ کیا اور شواہد جمع کیے جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے،ذرائع سول ایوی ایشن مزید پڑھیں PIA PlaneCrash Karachi DawnNews
کراچی ایئرپورٹ کے قریب قومی ایئرلائن کے مسافر طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ 4 رکنی ٹیم نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ائیرکرافٹ ا یکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ائیرکموڈور عثمان غنی کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سول ایوی ایشن اتھارٹی ، قوم پی آئی اے اور دیگر اداروں کی ٹیموں نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے طیارہ گرنے کے مقام کا دورہ کیا اور شواہد جمع کیے جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔علاوہ ازیں جائے حادثہ پر ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کاکام جاری ہے جبکہ مذکورہ مقام کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ22 مئی کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ ایئربس اے 320 جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 افراد محفوظ رہے تھے۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے واقعے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 لاہور سے 91 مسافروں اور عملے کے 8 افراد کو لے کر کراچی آرہی تھی۔طیارے میں نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی بھی موجود تھے۔ان کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود بھی طیارے میں موجود تھے جو محفوظ رہے۔ بعدازاں اسی وز ہی وفاقی حکومت نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔ علاوہ ازیں پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی اداروں اور اپنی شمولیت سے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ پالپا نے طیارے کی حالت سے متعلق تکنیکی تحقیقات کی تجویز بھی دی اور کہا کہ تفتیش کاروں کو گراؤنڈ اسٹاف اور عملے کے کام کرنے کے حالات پر لازمی غور کرنا چاہیے۔بعدازاں گزشتہ روز پی آئی اے کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ نے حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے ایئربس اے-320 کے تکینکی معلومات سے متعلق سمری جاری کردی ہے جس کے مطابق یارے کو رواں سال 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی، دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی مینٹیننس چیک کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے طیارہ حادثے پر تمام متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں وزیر یا چیف ایگزیکٹو کی کوتاہی سامنے آئی تو خود کو احتساب کے لیے پیش کریں گے۔ ان کے علاوہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ارشد ملک نے کہا تھا کہ مسافر طیارے کے حادثے میں مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا اس کا احتساب ہوگا۔.
کراچی ایئرپورٹ کے قریب قومی ایئرلائن کے مسافر طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ 4 رکنی ٹیم نے جائے حادثہ کا معائنہ کیا۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ائیرکرافٹ ا یکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ائیرکموڈور عثمان غنی کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سول ایوی ایشن اتھارٹی ، قوم پی آئی اے اور دیگر اداروں کی ٹیموں نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا۔ سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے طیارہ گرنے کے مقام کا دورہ کیا اور شواہد جمع کیے جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔علاوہ ازیں جائے حادثہ پر ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کاکام جاری ہے جبکہ مذکورہ مقام کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے ۔ خیال رہے کہ22 مئی کو پی آئی اے کا لاہور سے کراچی آنے والا مسافر طیارہ ایئربس اے 320 جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس کے نتیجے میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 2 افراد محفوظ رہے تھے۔ پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ نے واقعے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ پی آئی اے کی پرواز 8303 لاہور سے 91 مسافروں اور عملے کے 8 افراد کو لے کر کراچی آرہی تھی۔طیارے میں نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے ڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی بھی موجود تھے۔ان کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود بھی طیارے میں موجود تھے جو محفوظ رہے۔ بعدازاں اسی وز ہی وفاقی حکومت نے طیارہ حادثہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، ٹیم کی سربراہی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹی گیشن بورڈ کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔ علاوہ ازیں پاکستان ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن نے بین الاقوامی اداروں اور اپنی شمولیت سے پی آئی اے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ پالپا نے طیارے کی حالت سے متعلق تکنیکی تحقیقات کی تجویز بھی دی اور کہا کہ تفتیش کاروں کو گراؤنڈ اسٹاف اور عملے کے کام کرنے کے حالات پر لازمی غور کرنا چاہیے۔بعدازاں گزشتہ روز پی آئی اے کے انجینئرنگ اینڈ مینٹیننس ڈپارٹمنٹ نے حادثے کا شکار ہونے والے مسافر طیارے ایئربس اے-320 کے تکینکی معلومات سے متعلق سمری جاری کردی ہے جس کے مطابق یارے کو رواں سال 21 مارچ کو آخری مرتبہ چیک کیا گیا تھا اور تباہ ہونے والے طیارے نے حادثے سے ایک دن قبل اڑان بھری تھی اور مسقط میں پھنسے پاکستانیوں کو لاہور واپس لایا تھا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ طیارے کے انجن، لینڈنگ گیئر یا ایئر کرافٹ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں تھی، دونوں انجنز کی حالت اطمینان بخش تھی اور وقفے سے قبل ان کی مینٹیننس چیک کی گئی تھی۔ علاوہ ازیں وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے طیارہ حادثے پر تمام متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں وزیر یا چیف ایگزیکٹو کی کوتاہی سامنے آئی تو خود کو احتساب کے لیے پیش کریں گے۔ ان کے علاوہ پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو افسر ارشد ملک نے کہا تھا کہ مسافر طیارے کے حادثے میں مجھ سمیت جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا اس کا احتساب ہوگا۔
پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات
Similar News: آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔
طیارہ حادثہ؛ ایئر کرافٹ کا کوئیک ایکسیز ریکارڈر مل گیا - ایکسپریس اردوکوئیک ایکسیس ریکارڈ میں کاک پٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرول سے گفتگو کا ریکارڈ شامل ہے
مزید پڑھ »
طیارہ حادثہ،دنیابھرسےتعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاریطیارہ حادثہ،دنیابھرسےتعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری SamaaTV
مزید پڑھ »
وفاقی حکومت کا طیارہ حادثہ کی رپورٹ تین ماہ میں لانے کا اعلانکراچی: (دنیا نیوز) وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ شفاف انکوائری ہوگی ذمہ داروں کیخلاف ایکشن ہو گا، تمام حقائق قوم کے سامنے لائیں گے، کوشش ہے 3 ماہ کے اندر تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ جائے۔
مزید پڑھ »