فلائی دبئی پرواز حملہ: همام الحمامي کی شناخت اور تفتیش کی تفصیلات

Crime خبریں

فلائی دبئی پرواز حملہ: همام الحمامي کی شناخت اور تفتیش کی تفصیلات
همام الحمامي, فلائی دبئی, اسرائیل

فلائی دبئی کی اسرائیل جانے والی پرواز پر حملے کے ملزم همام الحمامي کی شناخت سامنے آگئی۔ 29 سالہ معاون پائلٹ نے طیارہ گرانے کا ارادہ ظاہر کیا۔

فلائی دبئی کی اسرائیل جانے والی پرواز کو مبینہ طور پر تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے معاون پائلٹ کی شناخت 29 سالہ همام الحمامي کے نام سے ہوئی ہے، جو اس وقت متحدہ عرب امارات میں زیر حراست ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نے ماضی میں بھی مشتبہ انتہاپسندانہ خیالات کے باعث ایک ایئرلائن کی تربیت سے ہٹائے جانے کا سامنا کیا تھا۔ واقعہ 30 ستمبر کو دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کے دوران پیش آیا۔

حملے کا واقعہ اور ہنگامی لینڈنگ

رپورٹس کے مطابق همام الحمامي نے 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز کے دوران کپتان پر چاقو سے حملہ کیا۔ طیارے میں 174 مسافر سوار تھے، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔ واقعے کے دوران طیارہ تقریباً 14 ہزار فٹ نیچے آ گیا اور اسے ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

زخمی کپتان سمت مچھر نے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیابی حاصل کی، جس کے بعد مسافروں نے معاون پائلٹ همام الحمامي کو قابو کرکے باندھ دیا۔ دیگر پائلٹس کی مدد سے طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی، جہاں اسے حراست میں لیا گیا۔ سعودی تفتیش کے بعد اسے متحدہ عرب امارات منتقل کیا گیا، جہاں اماراتی اور ممکنہ طور پر اسرائیلی و امریکی تفتیش کار بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

معاون پائلٹ کے پس منظر اور تعلیم

همام الحمامي کی عمر 29 سال ہے اور وہ متحدہ عرب امارات میں پیدا ہوا۔ اس کے والد عمانی جبکہ والدہ شامی نژاد ہیں۔ اس نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ متحدہ عرب امارات میں گزارا، جبکہ کچھ عرصہ شام میں بھی رہا۔ بعض سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شام میں قیام کے دوران اس کے نظریات میں شدت پسندی کا رجحان پیدا ہوا، تاہم اس دعوے کی تمام تفصیلات آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئی ہیں۔

الحمامي نے برطانیہ کی Buckinghamshire New University سے ایوی ایشن مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی نے واضح کیا کہ وہاں پائلٹ کی تربیت حاصل نہیں کی گئی تھی، بلکہ اس نے صرف تین سالہ فاصلاتی تعلیمی پروگرام مکمل کیا اور 2023 میں ڈگری حاصل کی۔

ایئرلائنز میں ملازمت اور تربیت سے ہٹانے کے دعوے

اس کے حذف کیے گئے LinkedIn پروفائل کے مطابق الحمامي نے تقریباً سات سال عمان ایئر میں کام کیا۔ اس کی ملازمت فروری 2025 تک جاری رہی۔ اس کے بعد جون 2025 میں اس نے مراکش کی قومی ایئرلائن میں کام شروع کیا اور جنوری 2026 میں وہاں سے علیحدہ ہوگیا۔ بعد ازاں وہ فلائی دبئی سے منسلک ہوا اور واقعے سے قبل تقریباً آٹھ ماہ تک وہاں کام کرتا رہا۔

امریکی ذرائع کے مطابق عمان ایئر میں کام کے دوران 2024 میں اس کے پاس مبینہ طور پر انتہاپسندانہ مواد پایا گیا، جس کے بعد اسے پرواز کی تربیت سے ہٹا کر انتظامی ذمہ داری دے دی گئی۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عمان میں اس پر پرواز کرنے کی پابندی بھی عائد کی گئی تھی، تاہم یہ اہم تفصیل ابھی تک عمانی حکومت یا عمان ایئر کی جانب سے باضابطہ طور پر بیان نہیں کی گئی۔

شہریت، سوشل میڈیا اور تفتیش کے پہلو

الحمامي کے والد عمانی اور والدہ شامی ہونے کی وجہ سے اس کی شہریت کے حوالے سے سوالات اٹھے ہیں۔ متعدد رپورٹس اسے عمانی شہری قرار دیتی ہیں۔ بعض ذرائع نے ممکنہ دوسری شہریت کا ذکر کیا ہے، لیکن دیگر تحقیقاتی رپورٹس کہتی ہیں کہ همام الحمامي کے پاس دوسری شہریت نہیں تھی۔

اب تک دستیاب معتبر رپورٹس میں اس کے والد اور والدہ کے بارے میں محدود معلومات ہی سامنے آئی ہیں۔ اس کے بہن بھائی، اہلیہ، بچوں یا دیگر قریبی اہل خانہ کے بارے میں قابل اعتماد تفصیلات عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔

اس سے منسوب حذف شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں ایسے مواد موجود تھا جس میں اسرائیلی طیاروں کی ویڈیوز اور القاعدہ سے وابستہ شخصیات کی تصاویر شامل تھیں۔ تاہم رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ واضح نہیں کہ واقعے کے بعد یہ پوسٹس خود الحمامي نے کیں یا پہلے سے شیڈول کی گئی تھیں۔

زیر حراست معاون پائلٹ نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ اس کا ارادہ طیارے کو اسرائیل میں گرانے کا تھا۔ یہ دعویٰ تفتیشی ذرائع سے منسوب ہے اور اس کی مکمل سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

ExpressNewsPK /  🏆 13. in PK

همام الحمامي فلائی دبئی اسرائیل عمان ایئر متحدہ عرب امارات سمت مچھر تبوک

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات