فلسطینی کہانی کا ادبی سفر اور ارتقاء

ادب خبریں

اردو ادب میں فلسطینی کہانی کا تعارف، 1930ء سے لے کر 1967ء تک کے ادوار میں اس کے موضوعات، طرزِ احساس اور سماجی و سیاسی اثرات کا تجزیاتی جائزہ

اردو کا قاری فلسطینی شاعروں اور ادیبوں سے بڑی حد تک آشنا ہے۔ فلسطین اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عربی یا انگریزی ادب سے اردو میں ترجمہ کی جانے والی کہانیاں خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ نجی اشاعتی اداروں کی کاوشوں، ادیبوں کی انفرادی جستجو اور اردو رسائل و جرائد کے خصوصی شماروں کے توسط سے دیگر اصنافِ ادب کے ساتھ ساتھ فلسطینی کہانی کو بھی پاکستان میں متعارف ہونے کا موقع ملا ہے۔ اس عہد میں فلسطینی کہانی اپنی شناخت کی جستجو میں تھی۔ جستجو کے اس عمل میں یہ کامیابی اسے 1930ء کی دہائی میں اس وقت حاصل ہوئی، جب لکھنے والوں کی ایک نئی نسل منظرِ عام پر آئی۔ اس عہد کی کہانیوں میں سوشل ازم کے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ فلسطینی کہانی اس وقت ایک بہت بڑی حقیقت سے آشنا ہوئی، جب 1948ء میں معاشرتی سطح پر خلل، شکست اور بے دخلی کی فضا نے ظھور کیا۔ نئے موضوعات فلسطینی کہانی وں میں وارد ہوئے اور ایک جدید طرزِ احساس پیدا ہوا۔ 1948ء کے بعد کی فلسطینی کہانی میں خلقِ خدا کی زبوں حالی، وطن کی یاد اور سرزمینِ وطن پر واپسی کے موضوعات جذبات کی پوری شدت کے ساتھ برتے گئے۔ بعض افسانہ نگاروں کے ہاں فلسطین کی جدوجہدِ آزادی کی تحریک اور سیاسی تنظیموں کے قوم پرست نظریات سے وابستگی بھی دکھائی دیتی ہے۔ کئی جگہوں پر تخلیقی انداز میں لوگوں کی قربانیوں اور زمین کے ساتھ ان کی موانست پر بڑی صراحت سے روشنی ڈالی گئی۔ مہاجرین کے فلسطین کے کیمپوں میں پناہ گزینی، غم و اندوہ اور روزمرہ زندگی کی مشکلات کو مرکزی موضوع کے طور پر پیش کیا گیا۔ 1967ء کی جنگ میں عربوں کی ناکامی سے فلسطینی کہانی حقیقت نگاری کے اور بھی قریب ہو گئی؛ اس کے مزاج میں حالاتِ حاضرہ پر کھلی تنقید کرنے کی جرأت بھی پیدا ہوئی اور ہیئت کے حوالے سے بھی مختلف تجربات اس کا مقدر بنے۔ بعض کہانی نویسوں کے ہاں یہ تنقید تلخی و تندی، احتجاج اور مایوسی میں ڈھلتی دکھائی دیتی ہے۔ اردو میں ترجمہ کی گئی فلسطینی کہانی وں میں زیادہ تعداد مختصر کہانیوں کی ہے۔ یہ کم طوالت رکھنے کے باوجود مفاہیم اور معنویت کے حوالے سے اپنے اندر ایک جہانِ معنی رکھتی ہیں۔ چند سطروں کی ان کہانیوں کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ تخلیق کار نے لفظوں کو کس شعور کے ساتھ احسن انداز میں ابلاغ کا وسیلہ بنایا ہے۔ آج کی فلسطینی کہانی مہاجرت اور پناہ گزینی کے دکھوں، تاریخ کے مختلف فیصلہ کن واقعات کے نتائج و عواقب اور اسرائیلی حکام کی طرف سے بنائے گئے سخت قوانین کو بھی موضوع بناتی ہے۔ اس میں ہمیں آج بھی ایک جارحانہ اسلوب دکھائی دیتا ہے۔ اس پر البرٹ کامیو، ژاں پال سارتر اور کارل مارکس کے گہرے اثرات ہیں۔ سارتر کے فلسفۂ وجودیت اور مارکس کے جدلیاتی مادیت کے فلسفے سے فلسطینی کہانی نویسوں نے ایک الگ جہانِ معنی تعمیر کیا ہے۔ اپنی زمین سے بے دخل ہو جانے کے اندوہ سے ان کے تخلیقی شعور، جذبات اور افکار میں ایک خاص تبدیلی آئی ہے، اور ان کی تحریریں عالمی سطح پر ایک مؤثر آواز بن کر ابھری ہیں۔ ہمارے زمانے تک پہنچتے پہنچتے عالمی ادب کے زیرِ اثر فلسطینی کہانی کے مختلف تراجم سامنے آئے۔ ”اور غزہ لکھتا رہا“ بہ ظاہر ایک کتاب ہے، جو حال ہی میں چند نوجوانوں کی مشترکہ کاوش سے شائع کی گئی ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر کتابیں شائع ہوتے ہی طاقِ نسیاں پر دھر دی جاتی ہیں۔ ”اور غزہ لکھتا رہا“ عام کتاب نہیں، یہ چند آفتاب و مہتاب نوجوانوں کی مشترکہ کاوش ہے۔ اس کی اشاعت کے پس منظر میں ہماری نئی نسل کے باوقار چہرے اور روشن سوچ جھلکتی ہے۔ ہماری زندگی کا ایک عرصہ لکھنے پڑھنے میں صرف ہو گیا ہے۔ سچ پوچھیے تو نسلِ نو کی کتاب سے دوری نے ہمیں قنوطی بنا دیا ہے۔ کہیں سے روشنی کا کوئی سرا نظر آ جائے تو دل کے ویران کدے میں تازہ ہوا کے جھونکے مہمان بن کر آ جاتے ہیں۔ ہماری بھی کچھ اس طرح کی حالت ہے۔ آزادی کے اظہار پر پابندی بھیانک صورت اختیار کرلیتی ہے۔ فلسطینی شاعر سمیح القاسم کی ایک مختصر نظم کا نوجوان شاعر مہر علی نے یوں ترجمہ کیا ہے:اگر ان ظالموں نے میرے لب کاٹے نہ ہوتے۔ فلسطینی تراجم کی روایت میں ”اور غزہ لکھتا رہا“ ایک منفرد کاوش ہے۔ یہ صہیونی جبر کے خلاف ایک نعرۂ مستانہ ہے۔ ایک لحاظ سے یہ نسلِ نو کی فلسطینی کہانی کے ساتھ جذباتی وابستگی کی شاندار صورت ہے۔ علی معراج عباسی، خاور گردیزی، عمر آصف مصطفائی، محمد جنید، زین اسلم، سیرت فاطمہ اور شہزاد قاسم نے گوجرانوالا کے ایک ادارے المصطفیٰ میں ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کی پیروی ہماری یونیورسٹیوں کو کرنی چاہیے۔ ان نوجوانوں کی توجہات کا رخ فلسطین اور فلسطینی عوام کے روزمرہ مسائل کی طرف ہے، جو بہ قول ایڈورڈ سعید ”سماجی اور ثقافتی طور پر تحلیل ہونے سے خوف زدہ ہیں“۔ یہ سچ مچ صرف زمین ہی نہیں اس کے مکینوں کے خوابوں کا اغوا بھی ہے۔ اس مشکل صورت حال میں فلسطین کے کہانی نویسوں کے ہاں زندگی کی روزمرہ مشکلات کا خوب صورت بیانیہ مل ہے۔ ان میں اسلامک یونیورسٹی آف غزہ کے استاذ پروفیسر ڈاکٹر رفعت العریر شہید کو اہم مقام حاصل ہے۔ یہ وہی شخصیت ہیں جنھیں نئی نسل کو شعور کے زیور سے آراستہ کرنے کی پاداش میں جبر کی طاقتوں کی طرف سے نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔ رفعت کا شمار فلسطین کے اہم شاعروں اور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے We are not Numbers نامی ادارے کی بنیاد بھی رکھی، جس کا مقصد فلسطینی نوجوانوں کی مزاحمتی آوازوں کو عالمی سطح پر روشناس کروانا تھا۔ دسمبر 2023ء میں غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملے میں خاندان سمیت شہادت کے بعد ان کی تحریروں کا مجموعہ If I must die: Poetry and Prose کے عنوان سے شائع ہو کر عالمی توجہ کا باعث بنا۔ رفعت العریر شہید کا ایک کارنامہ Gaza Writes Back کے عنوان سے نوجوان کہانی نویسوں کی تخلیقات کی مرتبہ کتاب بھی ہے۔ انھی کی تحریک پر غزہ کے نوجوانوں نے انگریزی زبان میں فلسطین اور اہل فلسطین کے غم و اندوہ کو بیان کیا ہے۔ یہ محض کہانیاں نہیں، لفظوں سے ٹپکتے ہوئے لہو کی بوندیں ہیں؛ ان میں انسانی زندگی کے دکھوں کی نوحہ گری بھی ہے اور حساس ذہنوں کی نقش گری بھی۔ ہمارے ادارۃ المصطفیٰ گوجرانوالا کے نوجوانوں نے شہیدوں کے زندہ جاوید لفظوں کی اس مقدس کتاب کو انگریزی سے اردو کے قالب میں ڈھال دیا ہے۔ یوں پاکیزہ لفظوں کی یہ روایت اسلامک یونیورسٹی غزہ سے ادارۃ المصطفیٰ گوجرانوالا تک آپہنچی ہے۔ یہ کاوش پاک و ہند کے مسلمانوں کے ملی شعور کا تسلسل ہے۔ اسے انسانی المیوں کی صورت میں پیدا ہونے والی مزاحمتوں سے یکجہتی کی شاندار کوشش بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔آج سے چند سال پہلے جامعہ ساہیوال میں مختلف شعبہ جات کے مقابلوں کا انعقاد ہوا۔ راقم کو بھی اس تقریب میں مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا، اور اس پروگرام میں پہلی بار ادارۃ المصطفیٰ گوجرانوالا کے خوب‌رو، با ادب اور خوش لباس طلبہ کی مخفی صلاحیتوں سے آگاہی ہوئی۔ ان چمکتے ہوئے ننھے ستاروں کے پس منظر میں کسی خورشیدِ جہاں تاب کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ادب ی کاوش بھی اسی علم دوست ماحول کا ثمرہ ہے۔ میں تراجم کے اس مجموعے کی اشاعت کو تازہ ہوا کے جھونکے سے تعبیر کرتا ہوں۔محمد ناصر اقبال خاندین فطرت اسلام اور نبوت کے ظہور سے قبل انسانیت کے نجات دہندہ اور سرور کونین حضرت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ .

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

Nawaiwaqt_ /  🏆 6. in PK

فلسطینی ادب اردو ترجمے فلسطینی کہانی اسرائیلی قبضہ مہاجرین

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات

Similar News: آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔

Spain mounts biggest peacetime disaster recovery operation as death toll reaches 211Spain mounts biggest peacetime disaster recovery operation as death toll reaches 211The tragedy is Europe's worst flood-related disaster since 1967
مزید پڑھ »

کلاسک ناول ’تنہائی کے سو سال‘ کی نیٹ فلکس سیریز نے دھوم مچادیکلاسک ناول ’تنہائی کے سو سال‘ کی نیٹ فلکس سیریز نے دھوم مچادییہ سیریز نوبل انعام یافتہ گبریل گارشیا مارکیز کے 1967 کے کلاسک ناول پر مبنی ہے
مزید پڑھ »

Israel's Netanyahu says occupied Golan Heights Israeli 'for eternity'Israel's Netanyahu says occupied Golan Heights Israeli 'for eternity'Israel captured most of the mountainous plateau from Syria during the 1967 Six-Day War.
مزید پڑھ »

SC bench sees 'security failure' in Jinnah House attackSC bench sees 'security failure' in Jinnah House attackKh Haris cited past Supreme Court judgments and stated that the law existed since 1967
مزید پڑھ »

China's US envoy urges end to trade war, but warns Beijing ready to fightChina's US envoy urges end to trade war, but warns Beijing ready to fightHe drew a parallel between the Great Depression and tariffs imposed by the US in 1930
مزید پڑھ »

Palestinians clean up after Israeli nationalist march in JerusalemPalestinians clean up after Israeli nationalist march in JerusalemJerusalem Day commemorates Israeli forces taking east Jerusalem during the 1967 Arab-Israeli war.
مزید پڑھ »