وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے دوران متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں صدر ایردوان، امیر قطر، اور صدور قازقستان و آذربائیجان شامل تھے۔ ملاقاتوں میں عالمی و علاقائی صورتحال، امن و استحکام، اور اقتصادی تعاون کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر عالمی رہنما ؤں کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتیں کیں، جس کے دوران عالمی اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان ملاقاتوں نے وزیرِ اعظم کو عالمی سطح پر نمایاں توجہ کا مرکز بنایا۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بحث ہوئی۔ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ ملاقات میں علاقائی امن و استحکام اور اقتصادی تعاون کے امکانات پر غور کیا گیا۔ قازقستان کے صدر قاسم
جومارت توقائیف کے ساتھ ملاقات میں وسط ایشیائی خطے اور پاکستان کے تعلقات کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی، خاص طور پر علاقائی سلامتی کے حوالے سے۔ شام کے صدر احمد الشرح سے ملاقات میں شام میں امن و استحکام کی بحالی اور انسانی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو اس وقت ایک اہم علاقائی مسئلہ ہے۔ ان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی سے بھی ملاقات کی، جس میں مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے پر زور دیا گیا۔ کوسوو کی سابق صدر ویوسا عثمانی سے ملاقات میں بین الاقوامی امور اور علاقائی تعلقات کے تناظر میں مشترکہ دلچسپی کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔ یہ تمام ملاقاتیں خوشگوار اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئیں، جن سے وزیرِ اعظم شہباز شریف کی سفارتی سرگرمیوں کی اہمیت اور عالمی سطح پر ان کے اثر و رسوخ کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد پاکستان کے خارجہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور عالمی و علاقائی چیلنجز کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا۔ ان ملاقاتوں میں، عالمی سطح پر رونما ہونے والے اہم واقعات اور خطے میں درپیش سلامتی اور اقتصادی چیلنجز پر گہری نظر ڈالی گئی۔ خاص طور پر، یوکرین جنگ کے اثرات، عالمی معیشت کی صورتحال، اور خطے میں جاری تنازعات کے سفارتی حل کی تلاش پر زور دیا گیا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے نقطہ نظر کو مؤثر انداز میں پیش کیا اور دیگر رہنماؤں کو بھی اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا۔ اس فورم نے عالمی رہنماؤں کو ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست رابطے اور بامعنی گفتگو کا موقع فراہم کیا، جس سے غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مشترکہ مفادات کے لیے تعاون کے نئے راستے کھولنے میں مدد ملی۔ ان ملاقاتوں کا نتیجہ مستقبل میں دوطرفہ تعلقات میں مزید بہتری اور علاقائی استحکام کے لیے سازگار ثابت ہونے کی امید ہے۔ **ہری پور؛ حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں آتشزدگی، خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق** **کراچی سے پشاور جانے والی رحمٰن بابا ایکسپریس میں آتشزدگی سے پولیس انسپکٹر جاں بحق** یہ خبر نامہ خبروں اور حالات حاضرہ کے حوالے سے پاکستان کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ کے مواد پر مبنی ہے۔ اس ویب سائٹ پر شائع شدہ تمام مواد کے جملہ حقوق بحق ایکسپریس میڈیا گروپ محفوظ ہیں
شہباز شریف انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنما علاقائی صورتحال ترکیہ




