ٹرمپ نے موبائل ریلی میں پوچھا تہران میں مذاکرات کیلئے کون نمایاں ہے؛ ایران کے دفاعی نظام پر تنقید

بین الاقوامی خبریں

آئنی باتوں کے ساتھ، ٹرمپ نے ایرانی معاشی مشکلات، حوثیوں کے حملے اور سعودی عرب کی فوجی معاشرتی لڑائیوں کی سراسر بیانیہ میں جا کر، امریکہ اور ایران کے مابین دیپلوماتی چیلنجز کو اجاگر کیا۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتے میکسیکو کے ساحلی شہر موبائل میں ایک بڑی انتخابی ریلی کے دوران، مختلف اہم موضوعات کو بیان کیا۔ انہوں نے اس موقع پر لوگوں سے سوال کیا کہ واشنگٹن کا قیادت تہران کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کس سے رابطہ کرے، لیکن یہ پوچھا کہ وہاں ان کے پاس کوئی ایسا سفارتی ممبر نا ہے جس کے ساتھ مذاکرات کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ٹرمپ نے ایران ی ریاست کو ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس بحری جہاز، ہوائی اڈے، رڈار سسٹم، یا ٹائر شکن دفاعی نظام موجود نہیں ہے۔ وہ یہ بھی ذہن میں رکھتے تھے کہ موجودہ 310% افراط زر کے باعث، ایران ی معیشت بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ایران ی صدر مسعود پزشکیان نے مذکورہ ترتیبات پر امریکی جواب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور بتایا کہ ان کا مقصد مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا ہے لیکن وہ امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ یہ بیانیہ ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہفتہ کو تبصرے کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔ ایک الٹراٹیویٹ چھ رہائشی خطے داروں نے اس کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کے صوبہ عسیر میں حوثی وں نے ایک بیلسٹک میزائل کو طعنہ دیا، جس کے بعد اس کے ملبے نے ایک نگران کو زخمی کر دیا۔ اسی کے بعد جنوبی شہر نجران میں بھی حوثی وں کے پروجیکٹائل حملے کا سامنا کیا گیا جس میں ایک اسکول کو نقصان پہنچا۔ اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے سعودی سول ڈیفنس کے مطابق عسیر کے گورنریٹ احد رفیدہ میں تباہ شدہ میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا۔ سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ خمیس مشیٹ پر حوثی وں کے حملے میں ناکام رہے اور تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ دوسری طرف، سعودی عرب کے مختلف علاقوں سے بھی تازہ خبریں موصول ہوئی ہیں۔ ابہنائے ہرمز سے گزرنے والے دو تیل بردار جہازوں پر اس ہفتے کم از کم دو بار حملے دیکھے گئے، جس کے بعد برطانوی میری ٹائم کے مطابق ایک ٹینکر کو نقصان پہنچا۔ چند گھنٹوں بعد مزید ایک تیل بردار جہاز کو بھی پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ ایران ی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈئر جنرل حسین محبی نے ابھر کر کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ لڑائی سے سبق سیکھکر اس ملک کی شرائط کو قبول کرنا چاہیے۔ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ امریکہ اپنے مقاصد کو حاصل نہ کر سکا اور جنگ کے دوران معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، امریکی حکومت کی پہلی ترجیح امریکی عوام نہیں بلکہ اسرائیل ہے، اور اس کے مطابق، امریکہ کی فوج ایسے ممالک پر لڑائی نہیں کر سکتی جو پینٹاگون بجٹ کے مقابلے میں دس فیصد وسائل رکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے امریکہ فرسٹ کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج اسلام آباد، اسرائیل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں مختلف مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے اس بنیادی خطے میں مزید موجودہ امکانات اور خطروں کے بارے میں اپنے خیالات اور تجزیات کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر، اس مختصر رپورٹ سے واضح ہے کہ بین الاقوامی مسائل کی پیچیدہ صورتحال اور معیشتی و عسکری فکریات کی ایک دوسرے سے جڑی تناططمین، دنیا بھر میں پرانے و نئے تنازعات کو دکھانے کے ساتھ ساتھ، ہر کثیر الأطراف کے درمیان، داخلی و خارجی ڈیپلوماتیک حل تلاش کرنے کا اصرار بھی جاری ہے۔.

پاکستانی میڈیا کے مطابق، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتے میکسیکو کے ساحلی شہر موبائل میں ایک بڑی انتخابی ریلی کے دوران، مختلف اہم موضوعات کو بیان کیا۔ انہوں نے اس موقع پر لوگوں سے سوال کیا کہ واشنگٹن کا قیادت تہران کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے کس سے رابطہ کرے، لیکن یہ پوچھا کہ وہاں ان کے پاس کوئی ایسا سفارتی ممبر نا ہے جس کے ساتھ مذاکرات کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ٹرمپ نے ایرانی ریاست کو ڈالتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس بحری جہاز، ہوائی اڈے، رڈار سسٹم، یا ٹائر شکن دفاعی نظام موجود نہیں ہے۔ وہ یہ بھی ذہن میں رکھتے تھے کہ موجودہ 310% افراط زر کے باعث، ایرانی معیشت بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مذکورہ ترتیبات پر امریکی جواب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور بتایا کہ ان کا مقصد مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا ہے لیکن وہ امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ یہ بیانیہ ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہفتہ کو تبصرے کے ساتھ جاری کیا گیا تھا۔ ایک الٹراٹیویٹ چھ رہائشی خطے داروں نے اس کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب کے صوبہ عسیر میں حوثیوں نے ایک بیلسٹک میزائل کو طعنہ دیا، جس کے بعد اس کے ملبے نے ایک نگران کو زخمی کر دیا۔ اسی کے بعد جنوبی شہر نجران میں بھی حوثیوں کے پروجیکٹائل حملے کا سامنا کیا گیا جس میں ایک اسکول کو نقصان پہنچا۔ اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہوئے سعودی سول ڈیفنس کے مطابق عسیر کے گورنریٹ احد رفیدہ میں تباہ شدہ میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک شخص زخمی ہوا۔ سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان نے بتایا کہ خمیس مشیٹ پر حوثیوں کے حملے میں ناکام رہے اور تین بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ دوسری طرف، سعودی عرب کے مختلف علاقوں سے بھی تازہ خبریں موصول ہوئی ہیں۔ ابہنائے ہرمز سے گزرنے والے دو تیل بردار جہازوں پر اس ہفتے کم از کم دو بار حملے دیکھے گئے، جس کے بعد برطانوی میری ٹائم کے مطابق ایک ٹینکر کو نقصان پہنچا۔ چند گھنٹوں بعد مزید ایک تیل بردار جہاز کو بھی پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈئر جنرل حسین محبی نے ابھر کر کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ لڑائی سے سبق سیکھکر اس ملک کی شرائط کو قبول کرنا چاہیے۔ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ امریکہ اپنے مقاصد کو حاصل نہ کر سکا اور جنگ کے دوران معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، امریکی حکومت کی پہلی ترجیح امریکی عوام نہیں بلکہ اسرائیل ہے، اور اس کے مطابق، امریکہ کی فوج ایسے ممالک پر لڑائی نہیں کر سکتی جو پینٹاگون بجٹ کے مقابلے میں دس فیصد وسائل رکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے امریکہ فرسٹ کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج اسلام آباد، اسرائیل کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پاکستان میں مختلف مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے اس بنیادی خطے میں مزید موجودہ امکانات اور خطروں کے بارے میں اپنے خیالات اور تجزیات کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر، اس مختصر رپورٹ سے واضح ہے کہ بین الاقوامی مسائل کی پیچیدہ صورتحال اور معیشتی و عسکری فکریات کی ایک دوسرے سے جڑی تناططمین، دنیا بھر میں پرانے و نئے تنازعات کو دکھانے کے ساتھ ساتھ، ہر کثیر الأطراف کے درمیان، داخلی و خارجی ڈیپلوماتیک حل تلاش کرنے کا اصرار بھی جاری ہے۔

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

Nawaiwaqt_ /  🏆 6. in PK

ٹرمپ ایران حوثی بیسٹ سعودی عرب

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات