پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ کے دو الگ واقعات میں رینجرز اور پولیس کے ایک، ایک اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ کے دو الگ واقعات میں رینجرز اور پولیس کے ایک، ایک اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔منگل کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ 'راولاکوٹ کے نیو بس ٹرمینل کے علاقے میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔' پولیس نے مزید دعوی کیا ہے کہ 'گذشتہ ہفتے عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد کالعدم تنظیم نے پیر کی صبح نیو بس ٹرمینل کے قریب اندھا دھند فائرنگ کی تاکہ اس کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا جا سکے۔'جبکہ کشمیر پولیس کی ایک دوسری پریس ریلیز کے مطابق بیٹھک بلوچ کے مقام پر 'مسلح جتھوں کی بلا اشتعال فائرنگ' سے ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمۂ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین بھی زخمی ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ اگرچہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس تنظیم سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے رینجرز اہلکار کی ہلاکت کے الزام کی تردید کی ہے۔میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ 'ایک ویڈیو سوشل میڈیا اور پاکستانی میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد کے ہاتھوں میں گنیں ہیں۔ ہم سب اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں یہ لوگ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔.
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ کے دو الگ واقعات میں رینجرز اور پولیس کے ایک، ایک اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔منگل کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ 'راولاکوٹ کے نیو بس ٹرمینل کے علاقے میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔' پولیس نے مزید دعوی کیا ہے کہ 'گذشتہ ہفتے عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد کالعدم تنظیم نے پیر کی صبح نیو بس ٹرمینل کے قریب اندھا دھند فائرنگ کی تاکہ اس کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا جا سکے۔'جبکہ کشمیر پولیس کی ایک دوسری پریس ریلیز کے مطابق بیٹھک بلوچ کے مقام پر 'مسلح جتھوں کی بلا اشتعال فائرنگ' سے ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمۂ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین بھی زخمی ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ اگرچہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر کوئی مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس تنظیم سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے رینجرز اہلکار کی ہلاکت کے الزام کی تردید کی ہے۔میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ 'ایک ویڈیو سوشل میڈیا اور پاکستانی میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد کے ہاتھوں میں گنیں ہیں۔ ہم سب اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں یہ لوگ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، کالعدم جوائنٹ عوامی ا




