پنجاب میں کاروباری گھنٹوں کو کم کرنے کا فیصلہ، دہلیز کے لمحوں اور گرمی کی شدت کی وجہ سے، سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق، نئے وقت سے اب ہی سے کام شروع ہو گیا ہے۔
پنجاب میں دہلیز کے لمح وں اور گرمی کی شدت کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق، نئے وقت سے اب ہی سے کام شروع ہو گیا ہے۔ یہ وقت یہاں تک جاری رہے گا جب تک کہ اور کچھ نوٹیفیکیشن نہیں آتا۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کے بعد کی وہی ہے جس نے کاروباری گھنٹوں پر پہلے کے پابندیوں کو کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکام نے کہا کہ پہلے کے پابندیوں کا مقصد توانائی بچانے کے لئے تھا۔ ان پابندیوں کو اپریل میں لانے کا مقصد ان کے بڑھتے ہوئے گھریلو گیس کے دھارے اور توانائی کی طلب کے باعث تھا۔ گھریلو گیس کی قیمتوں میں اضافے کا سبب یہ تھا کہ خلیج فارس میں تناؤ بڑھ گیا تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پہلے سے ہی توانائی بچانے کے لئے کاروباری گھنٹوں کو کم کر دیا تھا۔ یہ ایک وڈے منصوبے کا حصہ تھا جس کا مقصد گھریلو گیس کا استعمال کم کرنا تھا اور لگانوں کو کم کرنا تھا۔ پنجاب میں، اس نئے شیڈول کے مطابق، دکانوں، بازاروں، مالز، اور سبزیوں کی دکانوں کو 9 بجے کی رات کو بند کرنا ہو گا۔ یہ ہر ہفتے کے دنوں میں بھی ہو گا۔ یہ تمام اہم کاروباروں پر لگتا ہے۔ شادی کے ہالوں اور تقریب کے مقامات کو 10 بجے کی رات کو بند کرنا ہو گا۔ ریستوراں، کافی شاپز، سینما، اور فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو ہنوز دن میں کھلا رہنا ہو گا۔ تاہم، ہوم ڈیلیوری اور ٹیک آوٹ سروسز پر یہ پابندیاں نہیں لگتی ہیں۔ ان کا کام ہنوز دن میں ہی چل رہا ہے۔ حکومت نے کہا کہ اہم خدمات سے ہم بچے ہیں۔ دوا کی دکانوں، ہسپتالوں، کلینکس، اور طبی Laboratories کو ہنوز دن میں کھلا رہنا ہو گا۔ دوسری بھی سروسز سے بچے ہیں جن میں Bakeries، دودھ اور دہی کی دکانوں، گیس سٹیشنز، سی این جی سٹیشنز، جمنازیم، سٹیڈیم، IT کمپنیوں، اور کال سینٹرز شامل ہیں.
پنجاب میں دہلیز کے لمحوں اور گرمی کی شدت کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق، نئے وقت سے اب ہی سے کام شروع ہو گیا ہے۔ یہ وقت یہاں تک جاری رہے گا جب تک کہ اور کچھ نوٹیفیکیشن نہیں آتا۔ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کے بعد کی وہی ہے جس نے کاروباری گھنٹوں پر پہلے کے پابندیوں کو کم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکام نے کہا کہ پہلے کے پابندیوں کا مقصد توانائی بچانے کے لئے تھا۔ ان پابندیوں کو اپریل میں لانے کا مقصد ان کے بڑھتے ہوئے گھریلو گیس کے دھارے اور توانائی کی طلب کے باعث تھا۔ گھریلو گیس کی قیمتوں میں اضافے کا سبب یہ تھا کہ خلیج فارس میں تناؤ بڑھ گیا تھا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے پہلے سے ہی توانائی بچانے کے لئے کاروباری گھنٹوں کو کم کر دیا تھا۔ یہ ایک وڈے منصوبے کا حصہ تھا جس کا مقصد گھریلو گیس کا استعمال کم کرنا تھا اور لگانوں کو کم کرنا تھا۔ پنجاب میں، اس نئے شیڈول کے مطابق، دکانوں، بازاروں، مالز، اور سبزیوں کی دکانوں کو 9 بجے کی رات کو بند کرنا ہو گا۔ یہ ہر ہفتے کے دنوں میں بھی ہو گا۔ یہ تمام اہم کاروباروں پر لگتا ہے۔ شادی کے ہالوں اور تقریب کے مقامات کو 10 بجے کی رات کو بند کرنا ہو گا۔ ریستوراں، کافی شاپز، سینما، اور فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو ہنوز دن میں کھلا رہنا ہو گا۔ تاہم، ہوم ڈیلیوری اور ٹیک آوٹ سروسز پر یہ پابندیاں نہیں لگتی ہیں۔ ان کا کام ہنوز دن میں ہی چل رہا ہے۔ حکومت نے کہا کہ اہم خدمات سے ہم بچے ہیں۔ دوا کی دکانوں، ہسپتالوں، کلینکس، اور طبی Laboratories کو ہنوز دن میں کھلا رہنا ہو گا۔ دوسری بھی سروسز سے بچے ہیں جن میں Bakeries، دودھ اور دہی کی دکانوں، گیس سٹیشنز، سی این جی سٹیشنز، جمنازیم، سٹیڈیم، IT کمپنیوں، اور کال سینٹرز شامل ہیں
پنجاب میں کاروباری گھنٹوں کو کم کرنے کا فیصلہ دہلیز کے لمح گرمی کی شدت سرکاری نوٹیفیکیشن
