پنجاب اسمبلی غیر قانونی تقرریاں کیس: پرویز الٰہی اور بھٹی کو ایک دن کی استثنیٰ

سیاسی خبریں

پنجاب اسمبلی غیر قانونی تقرریاں کیس: پرویز الٰہی اور بھٹی کو ایک دن کی استثنیٰ
پنجاب اسمبلی, غیر قانونی تقرریاں, پرویز الٰہی

لاہور کی انسداد بدعنوانی عدالت نے پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں کے کیس میں سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کو طبی بنیادوں پر ایک دن کی استثنیٰ دے دی، جبکہ ملزم مہتر رانجھا کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب کر لیے گئے۔

لاہور: پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں کے کیس کی سماعت بدھ کے روز لاہور کی انسداد بدعنوانی عدالت میں ہوئی، جس میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان پر الزامات عائد ہیں۔ عدالت نے سماعت کے دوران ملزم مہتر رانجھا کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب کیے۔ انسداد بدعنوانی عدالت کے جج جاوید اقبال وڑائچ نے کارروائی کی۔ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے وکیل نے انہیں ذاتی حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست کی۔ دفاع نے عدالت کو بتایا کہ دونوں افراد کی طبیعت ناساز ہے اور ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ بھٹی کو کمر کے شدید درد کا سامنا ہے۔ درخواستوں اور طبی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی دونوں کو ایک دن کی استثنیٰ منظور کر لی۔ معاملہ 17 جون تک ملتوی کر دیا گیا۔ انسداد بدعنوانی کے حکام کیس میں چالان پیش کر چکے ہیں اور اگلی سماعت پر مزید کارروائی جاری رہے گی۔ یہ کیس پنجاب اسمبلی میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے کی گئی تقرریوں سے متعلق ہے، جس میں سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے علاوہ ان کے قریبی ساتھیوں اور دیگر اہم شخصیات کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان تقرریوں میں میرٹ کو نظر انداز کر کے سفارشات پر عمل کیا گیا، جس سے خزانے کو مالی نقصان پہنچا۔ عدالت نے اب تک متعدد گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں اور کیس کی تفتیش جاری ہے۔ دفاع کی جانب سے ملزمان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بریت کی درخواست یں دائر کی گئی ہیں، جن پر آئندہ سماعتوں میں بحث ہوگی۔ عدالت نے ملزمان کی بریت کی درخواست وں پر دلائل سننے کے بعد اگلی سماعت کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اس دوران، چوہدری پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کے وکیل نے یہ دلیل دی کہ ان کے موکلین شدید علالت کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، جس پر عدالت نے طبی سرٹیفکیٹس کی روشنی میں انہیں استثنیٰ دے دیا۔ کیس کی مزید سماعت 17 جون کو ہوگی، جب عدالت بریت کی درخواست وں پر حتمی فیصلہ سنا سکتی ہے۔ یہ کیس سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس پر عوام کی بھی نظر ہے۔ انسداد بدعنوانی کے اداروں نے اسے مثالی مقدمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہر سطح پر بدعنوانی کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے.

لاہور: پنجاب اسمبلی میں مبینہ غیر قانونی تقرریوں کے کیس کی سماعت بدھ کے روز لاہور کی انسداد بدعنوانی عدالت میں ہوئی، جس میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر ملزمان پر الزامات عائد ہیں۔ عدالت نے سماعت کے دوران ملزم مہتر رانجھا کی بریت کی درخواست پر دلائل طلب کیے۔ انسداد بدعنوانی عدالت کے جج جاوید اقبال وڑائچ نے کارروائی کی۔ چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی کے وکیل نے انہیں ذاتی حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست کی۔ دفاع نے عدالت کو بتایا کہ دونوں افراد کی طبیعت ناساز ہے اور ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے۔ مزید کہا گیا کہ بھٹی کو کمر کے شدید درد کا سامنا ہے۔ درخواستوں اور طبی دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی دونوں کو ایک دن کی استثنیٰ منظور کر لی۔ معاملہ 17 جون تک ملتوی کر دیا گیا۔ انسداد بدعنوانی کے حکام کیس میں چالان پیش کر چکے ہیں اور اگلی سماعت پر مزید کارروائی جاری رہے گی۔ یہ کیس پنجاب اسمبلی میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے کی گئی تقرریوں سے متعلق ہے، جس میں سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے علاوہ ان کے قریبی ساتھیوں اور دیگر اہم شخصیات کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان تقرریوں میں میرٹ کو نظر انداز کر کے سفارشات پر عمل کیا گیا، جس سے خزانے کو مالی نقصان پہنچا۔ عدالت نے اب تک متعدد گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں اور کیس کی تفتیش جاری ہے۔ دفاع کی جانب سے ملزمان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے بریت کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، جن پر آئندہ سماعتوں میں بحث ہوگی۔ عدالت نے ملزمان کی بریت کی درخواستوں پر دلائل سننے کے بعد اگلی سماعت کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔ اس دوران، چوہدری پرویز الٰہی اور محمد خان بھٹی کے وکیل نے یہ دلیل دی کہ ان کے موکلین شدید علالت کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے، جس پر عدالت نے طبی سرٹیفکیٹس کی روشنی میں انہیں استثنیٰ دے دیا۔ کیس کی مزید سماعت 17 جون کو ہوگی، جب عدالت بریت کی درخواستوں پر حتمی فیصلہ سنا سکتی ہے۔ یہ کیس سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے اور اس پر عوام کی بھی نظر ہے۔ انسداد بدعنوانی کے اداروں نے اسے مثالی مقدمہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہر سطح پر بدعنوانی کے خلاف کارروائی جاری رکھیں گے

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

AbbTakk /  🏆 2. in PK

پنجاب اسمبلی غیر قانونی تقرریاں پرویز الٰہی انسداد بدعنوانی عدالت بریت کی درخواست

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات