چین میں بلیک ڈیتھ نامی طاعون کا کیس سامنے آنے پر انتباہ جاری
اطلاعات کے مطابق بیانور شہر میں طاعون کی زد میں آنے والا مریض ایک چرواہا ہے اور اسے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تاہم مریض کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔
سطح تین کے انتباہ کے تحت ان جانوروں کے شکار اور کھانے پر پابندی ہوتی ہے جن سے طاعون پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کو اس کے متعلق مشتبہ معاملات سے حکام کو مطلع کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ منگولیا میں عالمی ادارہ صحت کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ میرموٹ کا کچا گوشت کھانا انسان کے گردے کی صحت کے لیے مفید ہے۔
بوبونک طاعون کے سبب گلٹی ہوتی ہے اور لمف نوڈز میں سوزش ہوتی ہے۔ ابتدائی طور پر بیماری کا پتا لگانا مشکل ہے کیونکہ اس کی علامات تین سے سات دنوں کے بعد ظاہر ہوتی ہیں اور کسی بھی دوسرے فلو کی طرح ہوتی ہیں۔
پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات
Similar News:آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔
کورونا کی وبا کے دوران چین میں ’بلیک ڈیتھ‘ کا مریض بھی سامنے آ گیاچین کے خودمختار خطے اندرونی منگولیا کے ایک شہر میں بیوبونک طاعون یعنی گلٹی دار طاعون کا معاملہ سامنے آنے کے بعد حکام نے چوکسی میں اضافہ کر دیا ہے۔
مزید پڑھ »
چین میں کورونا کے بعد ایک اور مہلک بیماری بلیک ڈیتھ کا مشتبہ مریض سامنے آگیاہوہوٹ(شِنہوا)چین کے خودمختار خطے اندرونی منگولیا کے ایک شہر میں ’بلیک ڈیتھ‘ کے نام سے جانا جانے والے بیوبونک طاعون کاکیس سامنے آنے کے بعد حکام نے
مزید پڑھ »
چین میں گلٹی دار طاعون کے کیس کی تصدیق - Health - Dawn News
مزید پڑھ »