Beyond the Breaking News

کراچی طیارہ حادثہ: ’ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت میں ایک مہینے کا عرصہ لگ سکتا ہے‘

پاکستان خبریں خبریں

کراچی طیارہ حادثہ: ’ناقابل شناخت لاشوں کی شناخت میں ایک مہینے کا عرصہ لگ سکتا ہے‘
پاکستان تازہ ترین خبریں,پاکستان عنوانات

حکام کے مطابق طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے مسافروں کی شناخت میں ایک مہینے کا عرصہ لگ سکتا ہے، جس کے لیے فرانزک لیبارٹری کے ماہرین کو چوبیس گھنٹے کام کرنا پڑے گا۔ مزید تفصیلات:

انھوں نے بتایا کہ لیبارٹریاں بھی خاص انداز سے تیار کی جاتی ہیں ان میں نگیٹو پریشر ہوتا ہے اور ہوا بھی ایک ہی رخ میں چلتی ہے۔ اس سے قبل سنیچر کو کراچی میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے 21 افراد کی میتیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے ابتدائی طور پر ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے لیے دس دس لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے پانچ ہانچ لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اصل رقم جو انشورنس کی ہے وہ 50 لاکھ روپے کے لگ بھگ بنتی ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس کو بھی جلد ازجلد متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جائے۔‘ وفاقی وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ اس حادثے کے باعث جن گھروں کا نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ حکومت کرے گی اور اپنی حیثیت کے مطابق انھیں مدد فراہم کی جائے گی۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہم ابھی جائے حادثے کا دورہ کر کے آئے ہیں وہاں بہت سے مکانات اور لوگوں کی املاک مثلًآ گاڑیوں وغیرہ کو نقصان پہنچا ہے، اس سلسلے میں ابتدائی جائزے کا حکم دے دیا ہے اور دیکھا جائے گا کہ ہر گھر کی مرمت اور بحالی پر جتنا خرچہ ہوگا وہ حکومت برداشت کرے گی۔‘ غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ 'ان گھروں کو مکمل بحال کر کے باسیوں کے حوالے کیا جائے گا اور اسی طرح جن لوگوں کی گاڑیاں جلی ہیں ان کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔' اس موقع پر پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک نے بتایا کہ 96 مسافروں کے ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور اس کے لیے لاہور سے خصوصی ٹیم کو بلوا کر کراچی یونیورسٹی میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ ڈی این اے میچ کرکے شناخت کی جاسکے۔ ارشد ملک نے کہا کہ 100 فیصد لواحقین سے رابطہ ہوچکا ہے جیسے ہی ڈی این اے میچ کرنے کا عمل مکمل ہوگا ہم میتیں حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت پاکستان نے حادثے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل کی ہے جس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور میرا تحقیقات سے صرف اتنا تعلق ہے کہ جو معلومات، دستاویز طلب کی جائیں وہ انھیں دینے کا پابند ہوں، اس کے علاوہ میرا تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔' جبکہ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'ہم میں سے ہر کوئی ماہر ہے، یہ قومی حادثہ، سانحہ ہے اور بہت بڑا واقعہ ہے، اس پر رائے ضرور دینی چاہیے لیکن جو رائے دینی ہے وہ انکوائری کمیٹی کے سامنے دی جائے۔'حادثے کی تحقیقات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم کی منظوری کے بعد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اس میں پاک فضائیہ کے 4 انتہائی تجربہ کار افسران موجود ہیں۔' ادھر سول ایوی ایشن حکام کے مطابق طیارے کا بلیک باکس مل چکا ہے جس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے بھیجا جائے گا اور رپورٹ آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ کراچی کی ماڈل کالونی میں واقع جناح گارڈن میں پیش آنے والے اس طیارہ حادثے پر انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب سے اظہارِ افسوس کیا گیا ہے۔ گذشتہ شب امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مشکل وقت میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔تصویر کے کاپی رائٹحادثہ کب پیش آیا؟ گذشتہ روز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 25 منٹ پر لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ ایئربس اے 320 ہوائی اڈے کے قریب ماڈل کالونی کے قریب واقع جناح گارڈن نامی آبادی پرگر کر تباہ ہو گیا۔اس طیارے میں عملے کے آٹھ اراکین سمیت 99 افراد سوار تھے۔ سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کے مطابق طیارہ محو پرواز تھا اور فائنل لینڈنگ کے لیے پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو اپروچ کیا اور آگاہ کیا کہ طیارہ لینڈنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ پر آ کر طیارے نے 'گو اراؤنڈ' یعنی چکر کاٹنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے۔ یہ تفصیلات بلیک باکس کی جانچ پڑتال پر ہی پتا چلیں گی۔ ادھر فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ اور جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے ایک فیصل ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے کو رن وے سے دو سے ڈھائی سو میٹر کے فاصلے پر حادثہ پیش آیا، جہاں یہ ایک گھر کی تیسری منزل پر بنی پانی کی ایک ٹنکی سے ٹکرایا اور 20 فٹ چوڑی گلی میں گھس گیا۔سندھ حکومت کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا کے مطابق کراچی طیارے حادثہ کے بعد 97 مسافروں لاشیں ملیں ہیں اور ان میں 68 مرد، 26 عورتیں اور 3 بچے شامل ہیں۔ صوبائی وزیر سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے 23 لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہیں اور 19 میتیوں کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔اب تک شناخت ہونے والی میتوں میں سے ایک طیارے کے پائلٹ سجاد گل کی میت بھی ہے۔ اس کے علاوہ فوج میں حال ہی میں بھرتی ہونے والے لیفٹیننٹ بالاچ خان کی میت کی بھی شناخت ہوئی تھی جس کے بعد ان کی میت ان کے اہلخانہ کے سپرد کر دی گئی تھی۔اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیںگذشتہ روز طیارہ حادثے میں جہاں 97 ہلاکتیں ہوئیں وہیں دو مسافر زندہ بھی بچ گئے تھے۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں دونوں افراد کی شناخت محمد زبیر اور ظفر مسعود کے نام سے کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ دونوں مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے لیکن ابھی زخمی ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور فی الحال یہ دو مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور صوبائی وزیر تعلیم سینیٹر سعید غنی نے کراچی طیارہ حادثے میں بچ جانے والے ایک مسافر کے ہمراہ اپنی تصویر بھی شیئر کی۔ ایک نجی ٹیلیویژن چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ محمد زبیر سیالکوٹ سے کراچی عید منانے آ رہے تھے اور محمد زبیر کا 30 فیصد جسم جل چکا ہے مگر وہ ہوش میں ہیں۔ظفر مسعود کو جائے حادثہ سے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ایک آڈیو کلپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کی ہے۔کلپ کے شروع میں بظاہر پائلٹ کی آواز آتی ہے کہ ان کے جہاز کے تمام انجن ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد ٹاور ان سے معلوم کرتا ہے کہ آیا وہ بیلی لینڈنگ کرنے والے ہیں، اور پھر انھیں بتاتا ہے کہ ان کے لیے دونوں رن وے دستیاب ہیں۔حادثے کی تحقیقات کب تک مکمل ہوں گی؟ وفاقی حکومت نے کراچی میں پی آئی اے کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی'ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹیگیشن بورڈ' کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کر کے 'جلد از جلد' اپنی رپورٹ جمع کروائے، تاہم کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ کے اندر اندر پیش کی جائے۔ سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کے مطابق طیارے کے ساتھ کیا ہوا یہ تفصیلات بلیک باکس کی جانچ پڑتال پر ہی معلوم ہو سکیں گی۔ انھوں نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آیا طیارے کو کوئی تکنیکی مسئلہ ہوا یا کوئی پرندہ جہاز سے ٹکرایا یہ تب ہی پتا چل سکے گا۔کراچی میں آج حادثے کا شکار ہونے والی ایئر بس اے 320 جہاز کو سنہ 2014 میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سول ایوی ایشن کے 'ایئر وردینیس ڈیپارٹمنٹ' نے اس دورانیے میں جہاز کی چھ مرتبہ جانچ پڑتال کی۔ جہاز کی آخری انسپیکشن گذشتہ برس چھ نومبر کو ہوئی تھی۔ چھ نومبر کو ہونے والی انسپیکشن رواں برس پانچ نومبر تک مؤثر تھی۔ پی ائی اے ک چیف انجینیئر کراچی ایئرپورٹ نے اس طیارے کو رواں برس 28 اپریل کو مینٹیننس اینڈ ریویو سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔ یہ سرٹیفیکیٹ رواں سال 25 نومبر تک مؤثر تھا۔.

انھوں نے بتایا کہ لیبارٹریاں بھی خاص انداز سے تیار کی جاتی ہیں ان میں نگیٹو پریشر ہوتا ہے اور ہوا بھی ایک ہی رخ میں چلتی ہے۔ اس سے قبل سنیچر کو کراچی میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے قومی ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ارشد ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے 21 افراد کی میتیں شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت نے ابتدائی طور پر ہلاک ہونے والے مسافروں کے لواحقین کے لیے دس دس لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے پانچ ہانچ لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اصل رقم جو انشورنس کی ہے وہ 50 لاکھ روپے کے لگ بھگ بنتی ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ اس کو بھی جلد ازجلد متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جائے۔‘ وفاقی وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ اس حادثے کے باعث جن گھروں کا نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ حکومت کرے گی اور اپنی حیثیت کے مطابق انھیں مدد فراہم کی جائے گی۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہم ابھی جائے حادثے کا دورہ کر کے آئے ہیں وہاں بہت سے مکانات اور لوگوں کی املاک مثلًآ گاڑیوں وغیرہ کو نقصان پہنچا ہے، اس سلسلے میں ابتدائی جائزے کا حکم دے دیا ہے اور دیکھا جائے گا کہ ہر گھر کی مرمت اور بحالی پر جتنا خرچہ ہوگا وہ حکومت برداشت کرے گی۔‘ غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ 'ان گھروں کو مکمل بحال کر کے باسیوں کے حوالے کیا جائے گا اور اسی طرح جن لوگوں کی گاڑیاں جلی ہیں ان کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔' اس موقع پر پی آئی اے کے سربراہ ارشد ملک نے بتایا کہ 96 مسافروں کے ڈی این اے کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور اس کے لیے لاہور سے خصوصی ٹیم کو بلوا کر کراچی یونیورسٹی میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ ڈی این اے میچ کرکے شناخت کی جاسکے۔ ارشد ملک نے کہا کہ 100 فیصد لواحقین سے رابطہ ہوچکا ہے جیسے ہی ڈی این اے میچ کرنے کا عمل مکمل ہوگا ہم میتیں حوالے کرنے کا عمل شروع کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت پاکستان نے حادثے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل کی ہے جس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے اور میرا تحقیقات سے صرف اتنا تعلق ہے کہ جو معلومات، دستاویز طلب کی جائیں وہ انھیں دینے کا پابند ہوں، اس کے علاوہ میرا تحقیقات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔' جبکہ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 'ہم میں سے ہر کوئی ماہر ہے، یہ قومی حادثہ، سانحہ ہے اور بہت بڑا واقعہ ہے، اس پر رائے ضرور دینی چاہیے لیکن جو رائے دینی ہے وہ انکوائری کمیٹی کے سامنے دی جائے۔'حادثے کی تحقیقات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم کی منظوری کے بعد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور اس میں پاک فضائیہ کے 4 انتہائی تجربہ کار افسران موجود ہیں۔' ادھر سول ایوی ایشن حکام کے مطابق طیارے کا بلیک باکس مل چکا ہے جس کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے بھیجا جائے گا اور رپورٹ آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ کراچی کی ماڈل کالونی میں واقع جناح گارڈن میں پیش آنے والے اس طیارہ حادثے پر انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کی جانب سے اظہارِ افسوس کیا گیا ہے۔ گذشتہ شب امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مشکل وقت میں امریکہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔تصویر کے کاپی رائٹحادثہ کب پیش آیا؟ گذشتہ روز پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر دو بج کر 25 منٹ پر لاہور سے کراچی آنے والا پی آئی اے کا طیارہ ایئربس اے 320 ہوائی اڈے کے قریب ماڈل کالونی کے قریب واقع جناح گارڈن نامی آبادی پرگر کر تباہ ہو گیا۔اس طیارے میں عملے کے آٹھ اراکین سمیت 99 افراد سوار تھے۔ سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کے مطابق طیارہ محو پرواز تھا اور فائنل لینڈنگ کے لیے پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو اپروچ کیا اور آگاہ کیا کہ طیارہ لینڈنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ پر آ کر طیارے نے 'گو اراؤنڈ' یعنی چکر کاٹنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران ان کے ساتھ کچھ ہوا ہے۔ یہ تفصیلات بلیک باکس کی جانچ پڑتال پر ہی پتا چلیں گی۔ ادھر فلاحی تنظیم ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ اور جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے ایک فیصل ایدھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے کو رن وے سے دو سے ڈھائی سو میٹر کے فاصلے پر حادثہ پیش آیا، جہاں یہ ایک گھر کی تیسری منزل پر بنی پانی کی ایک ٹنکی سے ٹکرایا اور 20 فٹ چوڑی گلی میں گھس گیا۔سندھ حکومت کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا کے مطابق کراچی طیارے حادثہ کے بعد 97 مسافروں لاشیں ملیں ہیں اور ان میں 68 مرد، 26 عورتیں اور 3 بچے شامل ہیں۔ صوبائی وزیر سندھ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے 23 لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہیں اور 19 میتیوں کو ورثا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔اب تک شناخت ہونے والی میتوں میں سے ایک طیارے کے پائلٹ سجاد گل کی میت بھی ہے۔ اس کے علاوہ فوج میں حال ہی میں بھرتی ہونے والے لیفٹیننٹ بالاچ خان کی میت کی بھی شناخت ہوئی تھی جس کے بعد ان کی میت ان کے اہلخانہ کے سپرد کر دی گئی تھی۔اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیںگذشتہ روز طیارہ حادثے میں جہاں 97 ہلاکتیں ہوئیں وہیں دو مسافر زندہ بھی بچ گئے تھے۔ سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں دونوں افراد کی شناخت محمد زبیر اور ظفر مسعود کے نام سے کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ دونوں مسافر معجزانہ طور پر محفوظ رہے لیکن ابھی زخمی ہیں تاہم ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور فی الحال یہ دو مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ اس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور صوبائی وزیر تعلیم سینیٹر سعید غنی نے کراچی طیارہ حادثے میں بچ جانے والے ایک مسافر کے ہمراہ اپنی تصویر بھی شیئر کی۔ ایک نجی ٹیلیویژن چینل جیو سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ محمد زبیر سیالکوٹ سے کراچی عید منانے آ رہے تھے اور محمد زبیر کا 30 فیصد جسم جل چکا ہے مگر وہ ہوش میں ہیں۔ظفر مسعود کو جائے حادثہ سے کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں واقع نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔مقامی ذرائع ابلاغ پر نشر ہونے والی ایک آڈیو کلپ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ طیارے کے پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کے درمیان گفتگو کی ہے۔کلپ کے شروع میں بظاہر پائلٹ کی آواز آتی ہے کہ ان کے جہاز کے تمام انجن ناکارہ ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد ٹاور ان سے معلوم کرتا ہے کہ آیا وہ بیلی لینڈنگ کرنے والے ہیں، اور پھر انھیں بتاتا ہے کہ ان کے لیے دونوں رن وے دستیاب ہیں۔حادثے کی تحقیقات کب تک مکمل ہوں گی؟ وفاقی حکومت نے کراچی میں پی آئی اے کے مسافر طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی'ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ اینڈ انویسٹیگیشن بورڈ' کے صدر ایئر کموڈور محمد عثمان غنی کریں گے۔تحقیقاتی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تحقیقات مکمل کر کے 'جلد از جلد' اپنی رپورٹ جمع کروائے، تاہم کمیٹی کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ایک ماہ کے اندر اندر پیش کی جائے۔ سی ای او پی آئی اے ارشد ملک کے مطابق طیارے کے ساتھ کیا ہوا یہ تفصیلات بلیک باکس کی جانچ پڑتال پر ہی معلوم ہو سکیں گی۔ انھوں نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آیا طیارے کو کوئی تکنیکی مسئلہ ہوا یا کوئی پرندہ جہاز سے ٹکرایا یہ تب ہی پتا چل سکے گا۔کراچی میں آج حادثے کا شکار ہونے والی ایئر بس اے 320 جہاز کو سنہ 2014 میں پی آئی اے کے فضائی بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سول ایوی ایشن کے 'ایئر وردینیس ڈیپارٹمنٹ' نے اس دورانیے میں جہاز کی چھ مرتبہ جانچ پڑتال کی۔ جہاز کی آخری انسپیکشن گذشتہ برس چھ نومبر کو ہوئی تھی۔ چھ نومبر کو ہونے والی انسپیکشن رواں برس پانچ نومبر تک مؤثر تھی۔ پی ائی اے ک چیف انجینیئر کراچی ایئرپورٹ نے اس طیارے کو رواں برس 28 اپریل کو مینٹیننس اینڈ ریویو سرٹیفیکیٹ جاری کیا تھا۔ یہ سرٹیفیکیٹ رواں سال 25 نومبر تک مؤثر تھا۔

GooglePlease follow us on Google to support us
ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

BBCUrdu /  🏆 11. in PK

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات

Similar News:آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔

PIA کی پرواز کو کراچی میں حادثہ، ہلاکتوں کا خدشہPIA کی پرواز کو کراچی میں حادثہ، ہلاکتوں کا خدشہلاہور سے کراچی آنے والی قومی فضائی ادارے (پی آئی اے) کی پرواز کراچی میں لینڈنگ سے 30 سیکنڈ قبل حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق ہو گئے۔
مزید پڑھ »

عائزہ خان کی PIA طیارے میں اپنی موجودگی کی خبروں کی تردیدعائزہ خان کی PIA طیارے میں اپنی موجودگی کی خبروں کی تردیدگزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر کچھ خبر زیرِ گردش ہیں کہ کراچی میں گر کر تباہ ہونے والے پی آئی اے طیارے میں پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو اداکارہ عائزہ خان اور اُن کے شوہر دانش تیمور بھی موجود تھے، ان ہی جھوٹی خبروں کی تردید کرتے ہوئے عائزہ خان نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنا پیغام جاری کردیا۔
مزید پڑھ »

کراچی طیارہ حادثہ: 97 افراد ہلاک، دو زخمی، 66 میتوں کی شناخت ہو گئیکراچی طیارہ حادثہ: 97 افراد ہلاک، دو زخمی، 66 میتوں کی شناخت ہو گئیگذشتہ روز پی آئی اے کا لاہور سے کراچی جانے والا مسافر طیارہ پی کے 8303 لینڈنگ سے قبل حادثے کا شکار ہوا تھا۔ طیارے پر سوار 99 افراد میں سے 97 کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ دو مسافر حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں۔ اب تک 66 میتوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔
مزید پڑھ »

کراچی طیارہ حادثہ: 66 لاشوں کی شناخت، ورثا کے لیے دس دس لاکھ روپے امدادکراچی طیارہ حادثہ: 66 لاشوں کی شناخت، ورثا کے لیے دس دس لاکھ روپے امدادگذشتہ روز پی آئی اے کا لاہور سے کراچی جانے والا مسافر طیارہ پی کے 8303 لینڈنگ سے قبل حادثے کا شکار ہوا تھا۔ طیارے پر سوار 99 افراد میں سے 97 کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ دو مسافر حادثے میں زندہ بچ گئے ہیں۔ اب تک 66 میتوں کی شناخت کی جا چکی ہے۔
مزید پڑھ »

’اپنے بھائی کی میت کو اُن کی گھڑی اور لباس سے شناخت کیا‘’اپنے بھائی کی میت کو اُن کی گھڑی اور لباس سے شناخت کیا‘جمعہ کو صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں قومی ایئر لائن کی ایک مسافر پرواز کو پیش آئے حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے 66 افراد کی میتتوں کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ باقی رہ جانے والی لاشوں کی شناخت کے لیے انگلیوں کے نشانات اور ڈی این اے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
مزید پڑھ »

طیارہ حادثہ: جہاز کے کپتان سجاد گل کی لاش کی شناخت ہوگئیطیارہ حادثہ: جہاز کے کپتان سجاد گل کی لاش کی شناخت ہوگئیکراچی(ویب ڈیسک) طیارہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے جہاز کے کپتان سجاد گل کی لاش شناخت کر لی گئی۔ گزشتہ روز پی آئی اے کی لاہور سے کراچی آنے والی پرواز لینڈنگ سے
مزید پڑھ »



Render Time: 2026-07-19 15:36:40