کرناٹک میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان

سماجی News

کرناٹک میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان
سوشل میڈیابچےکرناٹک

بھارت کی ریاست کرناٹک نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں بچوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کی لت اور غیر مقید انٹرنیٹ مواد سے بچانا ہے۔

جنوبی ہندوستانی ریاست کرناٹک ، جو بنگلورو کے ٹیکنالوجی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے، نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ اسے بھارت کی پہلی ریاست بناتا ہے جو اس طرح کی کارروائی کر رہی ہے، کیونکہ بچوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال پر عالمی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ یہ اقدام نوجوانوں میں سوشل میڈیا کی لت اور غیر مقید انٹرنیٹ مواد کے سامنے آنے کے بارے میں بڑھتی ہوئی فکر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ان خدشات نے آن لائن نابالغوں کے تحفظ کے بارے میں عالمی بحث

کو جنم دیا ہے۔ دسمبر میں، آسٹریلیا بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر ملک گیر پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا۔ دیگر ممالک، جن میں برطانیہ، ڈنمارک اور یونان شامل ہیں، بھی اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اپنے سالانہ بجٹ خطاب کے دوران اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پابندی کا مقصد بچوں میں موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے مضر اثرات کو کم کرنا ہے۔ تاہم، انہوں نے اس پابندی کے نفاذ کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ بھارت دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسمارٹ فون مارکیٹ ہے، جس میں تقریباً 750 ملین آلات اور تقریباً ایک ارب انٹرنیٹ صارفین ہیں۔ یہ ملک میٹا کے لیے بھی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، جو فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے مقبول پلیٹ فارمز کی مالک ہے۔ بھارت کی وفاقی وزارت صحت کے 2019-20 کے سروے کے مطابق، کرناٹک کی آبادی کا ایک چوتھائی سے بھی کم حصہ 15 سال سے کم عمر کا ہے۔ ریاست کی تخمینی آبادی 67.6 ملین ہے، جو حکومت کے تھنک ٹینک نیتی آیوگ کی 2025 کی پریزنٹیشن پر مبنی ہے۔ بنگلورو، جسے اکثر بھارت کی سلیکون ویلی کہا جاتا ہے، بہت سی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی میزبانی کرتا ہے، جن میں مائیکروسافٹ، ایمیزون، آئی بی ایم، ڈیئل اور گوگل شامل ہیں۔\اس کے علاوہ، پڑوسی ریاستیں بھی اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔ گوا کے آئی ٹی وزیر نے جنوری میں کہا تھا کہ ریاست ممکنہ پابندی پر نظر ثانی کر رہی ہے، جبکہ آندھرا پردیش کے ایک قانون ساز نے بچوں میں سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے ایک بل تجویز کیا ہے۔ بھارت کے چیف اکنامک ایڈوائزر نے بھی تجویز دی ہے کہ نئی دہلی کو عمر پر مبنی رسائی کی حدود کے ذریعے ڈیجیٹل لت کو کنٹرول کرنے کے لیے ملک گیر پالیسیاں متعارف کروانی چاہئیں۔ اس تجویز کو وسیع پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔ تاہم، کچھ کارکنوں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کا خیال ہے کہ عمر پر مبنی سخت پابندیاں مکمل طور پر موثر نہیں ہو سکتیں۔ ان کا استدلال ہے کہ بچے جھوٹی شناخت کا استعمال کرکے پابندیوں کو نظرانداز کر سکتے ہیں اور اس کے بجائے ایسے پروگراموں کی سفارش کرتے ہیں جو والدین اور بچوں کو صحت مند اور محفوظ سوشل میڈیا عادات پیدا کرنے میں مدد کریں۔\ریاست کرناٹک کی جانب سے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ ایک اہم قدم ہے، جو بچوں کے تحفظ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی پابندیاں بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جیسے کہ سوشل میڈیا کی لت، سائبر دھونس، اور غیر مناسب مواد تک رسائی۔ تاہم، کچھ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ صرف پابندی ہی کافی نہیں ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ والدین اور بچوں کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے محفوظ استعمال کے بارے میں تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں، تعلیمی اداروں، حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بچوں کے لیے ایک محفوظ اور صحت مند آن لائن ماحول بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی ضروری ہے کہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ دار شہری بننے کی تربیت دی جائے، جو انہیں آن لائن خطرات سے بچانے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے میں مدد کرے۔ کرناٹک کا یہ فیصلہ دیگر ریاستوں اور ممالک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے، جو بچوں کے تحفظ کے لیے اسی طرح کے اقدامات کرنے پر غور کر رہے ہیں

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

BOLNETWORK /  🏆 9. in PK

سوشل میڈیا بچے کرناٹک پابندی ڈیجیٹل تحفظ

 

United States Latest News, United States Headlines

Similar News:You can also read news stories similar to this one that we have collected from other news sources.

India's tech state Karnataka bans social media for children under 16India's tech state Karnataka bans social media for children under 16Concerns surrounding children’s growing social media addiction and exposure to unrestricted internet access have fired up a global debate.
Read more »

Indonesia to restrict social media access for children under 16Indonesia to restrict social media access for children under 16The Indonesian government has officially announced plans to restrict social media access for children under the age of 16, signaling a major
Read more »

Southern Indian state to ban social media for children under 16Southern Indian state to ban social media for children under 16India's chief minister for the southern state Karnataka proposed on Friday banning children under the age of 16 from using social media, as scrutiny over its addictive qualities surges globally.
Read more »

Indonesia to ban social media access for under-16s: ministerIndonesia to ban social media access for under-16s: ministerIndonesia said on Friday it would ban social media access for children under 16, citing threats from online pornography, cyberbullying, online fraud and internet addiction.
Read more »

Indonesia to restrict social media access for children under 16, minister saysIndonesia to restrict social media access for children under 16, minister saysIndonesia to restrict social media access for children under 16, minister says
Read more »

موٹر سائیکل پر ایم ٹیگ لگانے کے خلاف کیس میں انتظامیہ سے 16 مارچ تک جواب طلبموٹر سائیکل پر ایم ٹیگ لگانے کے خلاف کیس میں انتظامیہ سے 16 مارچ تک جواب طلبموٹر سائیکل پر ایم ٹیگ لگانے کے خلاف کیس میں انتظامیہ سے 16 مارچ تک جواب طلب
Read more »



Render Time: 2026-05-16 08:24:38