اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کا خصوصی معاہدہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنا پر معطل کیا جائے۔
یورپی یونین کے تین رکن ممالک اسپین ، سلووینیا اور آئرلینڈ نے اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے خصوصی ایسوسی ایشن معاہدے کو معطل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت لگسمبرگ میں منعقد ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل سامنے آئی ہے جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ہسپانوی وزیر خارجہ حوزے مینوئیل البرس نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ان تینوں ممالک نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بنیاد انسانی حقوق کے احترام پر ہونی چاہیے اور موجودہ حالات میں اس معاہدے کو مزید جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
اس مطالبے کے پیچھے بنیادی محرکات لبنان میں جاری شدید کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے حال ہی میں منظور کیا گیا وہ متنازع قانون ہے جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو پھانسی کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ یورپی یونین کا اسرائیل کے ساتھ معاہدہ باہمی انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے مشروط ہے، جبکہ اسرائیلی اقدامات ان اقدار کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یورپی یونین کو اپنے دیرینہ موقف پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور اگر اسرائیل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے باز نہیں آتا تو اس کے ساتھ تجارتی اور سفارتی تعلقات کے اس خصوصی معاہدے کو معطل کر دینا چاہیے۔
یورپی یونین کے اندر اس معاملے پر گہری تقسیم پائی جاتی ہے۔ جہاں کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں، وہیں اسپین، سلووینیا اور آئرلینڈ جیسے ممالک اب زیادہ سخت موقف اختیار کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اس مشترکہ اقدام نے یورپی بلاک پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے۔
یہ بحث اب یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے مستقبل کے لیے ایک بڑی آزمائش بن چکی ہے، کیونکہ یورپی یونین کے قوانین کے مطابق کسی بھی بڑے فیصلے کے لیے تمام رکن ممالک کا متفق ہونا ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا یورپی یونین اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کی بنیاد پر انسانی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہے یا نہیں، کیونکہ اس فیصلے کے اثرات مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے مرتب ہوں گے۔
یورپی یونین اسرائیل انسانی حقوق اسپین خارجہ پالیسی
