انڈیا کو ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی چوتھی کھیپ موصول

بین الاقوامی خبریں News

 انڈیا کو ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی چوتھی کھیپ موصول
ایس-400انڈیاروس

انڈیا کو روسی ساختہ ایس-400 میزائل دفاعی نظام کی چوتھی کھیپ مئی کے اوائل میں ملنے والی ہے۔ یہ نظام مغربی سرحد پر فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے راجستھان میں نصب کیا جائے گا۔

مئی کے اوائل میں انڈیا کو روس ی ساختہ میزائل شکن دفاعی نظام ایس-400 کی چوتھی کھیپ ملنے والی ہے۔ بھارتی خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، انڈیا کی فضائیہ کے ماہرین نے رواں ماہ اس نظام کی جانچ مکمل کر لی ہے اور اسے روس سے روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ دفاعی نظام انڈیا اور پاکستان کے درمیان گزشتہ سال کی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر پہنچ رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اسے پاکستان سے ملنے والی مغربی سرحد پر فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے راجستھان سیکٹر میں نصب کیا جائے گا۔ انڈیا نے ایس-400 کے ساتھ کم اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے 280 میزائل بھی خریدے ہیں۔ مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کے دوران پاکستان کی جانب سے ایس-400 کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس کی انڈیا نے تردید کی تھی۔ انڈیا نے 2018 میں روس سے پانچ ارب ڈالر مالیت کے پانچ ایس-400 نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ تین یونٹ پہلے ہی مل چکے ہیں اور پانچواں یونٹ رواں سال کے آخر تک چین سے ملنے والی مشرقی سرحد پر نصب کیا جائے گا۔ پہلے دو یونٹ پنجاب اور گجرات-راجستھان سیکٹرز میں نصب ہیں جبکہ تیسرا مغربی بنگال میں سلی گوڑی کوریڈور کی حفاظت کے لیے لگایا گیا ہے۔ انڈیا شارٹ رینج کے 12 پینٹ سیر فضائی دفاع ی نظام بھی خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو ڈرونز اور پروجیکٹائلز کو تباہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ایس-400 کی رینج 600 کلومیٹر ہے اور یہ 400 کلومیٹر تک کے فاصلے پر موجود ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انڈیا نے 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے بعد اپنی فضائی دفاع ی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے یہ اقدامات کیے ہیں۔ انڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایس-400 کی مدد سے پاکستان ی طیارے مار گرائے گئے ہیں، تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک رضوان الحق افتخار کو عسکری اعزاز دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایس-400 کو تباہ کیا ہے۔ ایس-400 سسٹم میں 16 فوجی ٹرک نما گاڑیاں شامل ہیں جن میں لانچرز، ریڈار یونٹس، کنٹرول سینٹر اور تکنیکی سپورٹ کی سہولیات موجود ہیں۔ انڈیا کی جانب سے مزید پانچ ایس-400 نظام خریدنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے.

مئی کے اوائل میں انڈیا کو روسی ساختہ میزائل شکن دفاعی نظام ایس-400 کی چوتھی کھیپ ملنے والی ہے۔ بھارتی خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، انڈیا کی فضائیہ کے ماہرین نے رواں ماہ اس نظام کی جانچ مکمل کر لی ہے اور اسے روس سے روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ دفاعی نظام انڈیا اور پاکستان کے درمیان گزشتہ سال کی جنگ کی سالگرہ کے موقع پر پہنچ رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اسے پاکستان سے ملنے والی مغربی سرحد پر فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے راجستھان سیکٹر میں نصب کیا جائے گا۔ انڈیا نے ایس-400 کے ساتھ کم اور زیادہ فاصلے تک مار کرنے والے 280 میزائل بھی خریدے ہیں۔ مئی 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کے دوران پاکستان کی جانب سے ایس-400 کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جس کی انڈیا نے تردید کی تھی۔ انڈیا نے 2018 میں روس سے پانچ ارب ڈالر مالیت کے پانچ ایس-400 نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ تین یونٹ پہلے ہی مل چکے ہیں اور پانچواں یونٹ رواں سال کے آخر تک چین سے ملنے والی مشرقی سرحد پر نصب کیا جائے گا۔ پہلے دو یونٹ پنجاب اور گجرات-راجستھان سیکٹرز میں نصب ہیں جبکہ تیسرا مغربی بنگال میں سلی گوڑی کوریڈور کی حفاظت کے لیے لگایا گیا ہے۔ انڈیا شارٹ رینج کے 12 پینٹ سیر فضائی دفاعی نظام بھی خریدنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جو ڈرونز اور پروجیکٹائلز کو تباہ کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ایس-400 کی رینج 600 کلومیٹر ہے اور یہ 400 کلومیٹر تک کے فاصلے پر موجود ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انڈیا نے 2020 میں چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے بعد اپنی فضائی دفاعی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے یہ اقدامات کیے ہیں۔ انڈیا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایس-400 کی مدد سے پاکستانی طیارے مار گرائے گئے ہیں، تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک رضوان الحق افتخار کو عسکری اعزاز دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایس-400 کو تباہ کیا ہے۔ ایس-400 سسٹم میں 16 فوجی ٹرک نما گاڑیاں شامل ہیں جن میں لانچرز، ریڈار یونٹس، کنٹرول سینٹر اور تکنیکی سپورٹ کی سہولیات موجود ہیں۔ انڈیا کی جانب سے مزید پانچ ایس-400 نظام خریدنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے

We have summarized this news so that you can read it quickly. If you are interested in the news, you can read the full text here. Read more:

BBCUrdu /  🏆 11. in PK

ایس-400 انڈیا روس فضائی دفاع میزائل پاکستان

 

United States Latest News, United States Headlines

Similar News:You can also read news stories similar to this one that we have collected from other news sources.

روس سے میزائل خریداری پر برہم امریکا نے ترک پائلٹس کو ملک بدر کردیاروس سے میزائل خریداری پر برہم امریکا نے ترک پائلٹس کو ملک بدر کردیاروس سے میزائل خریداری پر برہم امریکا نے ترک پائلٹس کو ملک بدر کردیا Turkishpilots America Russia Missile Deport
Read more »

روسی میزائل کی خریداری کا معاملہ: امریکا کا لڑاکا جیٹ نہ دینا ڈکیتی کے مترادف ہے، ترک صدرروسی میزائل کی خریداری کا معاملہ: امریکا کا لڑاکا جیٹ نہ دینا ڈکیتی کے مترادف ہے، ترک صدرروسی میزائل کی خریداری کا معاملہ: امریکا کا لڑاکا جیٹ نہ دینا ڈکیتی کے مترادف ہے، ترک صدر Read News RussianMissile USA Jet Robbery RTErdogan
Read more »

امریکہ اور ترکی کے درمیان اختلافات جلدختم کرلئے جائیں گے:ڈونلڈ ٹرمپامریکہ اور ترکی کے درمیان اختلافات جلدختم کرلئے جائیں گے:ڈونلڈ ٹرمپامریکہ اور ترکی کے درمیان اختلافات جلدختم کرلئے جائیں گے:ڈونلڈ ٹرمپ America Turkey DonaldTrump Erdogan ErdoganTrumpMeeting trpresidency RTErdogan POTUS WhiteHouse StateDept
Read more »

جدید ترین میزائل سسٹم ایس-400 گھر میں سجانے کیلیے نہیں خریدے، ترکی - ایکسپریس اردوجدید ترین میزائل سسٹم ایس-400 گھر میں سجانے کیلیے نہیں خریدے، ترکی - ایکسپریس اردوایس-400 سسٹم کی خریداری اور شام پر امریکی اور ترکی کے صدور کے درمیان ہونے والی ملاقات بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی
Read more »

جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ایس-400 سجا کر رکھنے کے لیے نہیں ترکی نے دوٹوک ...جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ایس-400 سجا کر رکھنے کے لیے نہیں ترکی نے دوٹوک ...'جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹم ایس-400 سجا کر رکھنے کے لیے نہیں' ترکی نے دوٹوک اعلان کردیا، واضح پیغام دیدیا
Read more »

روس سے دفاعی نظام خریدنے پر امریکا کا ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ - ایکسپریس اردوروس سے دفاعی نظام خریدنے پر امریکا کا ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ - ایکسپریس اردوترکی کو روس سے دفاعی فضائی نظام ایس-400 کی پہلی کھیپ رواں برس جولائی میں موصول ہوچکی ہے
Read more »



Render Time: 2026-05-16 09:43:25