اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامہ سیریل ’ڈاکٹر بہو‘ میں بختاور مظہر کی سرمنڈوا کر اداکاری نے لوگوں کے دل جیت لیے۔
’ڈاکٹر بہو‘ میں بختاور مظہر کی سرمنڈوا کر اداکاری نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ ’ڈاکٹر بہو‘ میں شجاع اسد اور کبریٰ خان کے درمیان رومانوی کیمسٹری نے مداحوں کے دل جیتنے کے بعد اب 13ویں قسط میں بختاور مظہر ’سعیدہ پھوپھو‘ کی کینسر سے جنگ اور کیمو تھراپی کے تکلیف دہ سفر نے شائقین کی آنکھوں کو نم کردیا ہے اور وہ ان کی اداکاری کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے۔اس منظر کو کینسر کے مریضوں کو علاج کے دوران درپیش مشکلات کی حقیقت پسندانہ عکاسی پر انٹرنیٹ پر خوب سراہا جارہا ہے۔ انہوں نے بال گرنے کے بعد بڑے حوصلے سے آئینے میں اپنا عکس دیکھا جسے کئی ناظرین نے انتہائی متاثرکن اور حقیقت سے قریب تر قرار دیا ہے۔سوشل میڈیا پر مداحوں کے جذباتی ردعمل کا تانتا بندھ گیا، جنہوں نے اس کہانی کو کینسر کے ساتھ اپنے ذاتی تجربات سے جوڑا۔ ہے ایک صارف نے لکھا کہ ’میری والدہ بھی اسی صورتحال سے گزری تھیں لیکن ہم انہیں بچا نہ سکے۔‘ ایک اور نے شیئر کیا کہ یہ سچ ہے کہ میں بھی کیموتھراپی کے دوران میں خود کو آئینے میں نہیں دیکھ پاتی تھی۔” مداحوں نے حساس موضوع کو انتہائی مہارت اور اصلیت کے ساتھ پیش کرنے پر ہدایت کارہ مہرین جبار کی بھی تعریف کی ہے۔ واضح رہے کہ صنم مہدی زریاب کا تحریر کردہ ڈرامہ ‘ڈاکٹر بہو’ ہر جمعہ اور ہفتہ کی رات 8:00 بجے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر کیا جاتا ہے۔موہن لال کی ’درشیم 3‘ کا ٹریلر جاریچکن لیگ پیس نہ ملنے پر شادی کی تقریب خونی تصادم میں تبدیل.
’ڈاکٹر بہو‘ میں بختاور مظہر کی سرمنڈوا کر اداکاری نے لوگوں کے دل جیت لیے۔ ’ڈاکٹر بہو‘ میں شجاع اسد اور کبریٰ خان کے درمیان رومانوی کیمسٹری نے مداحوں کے دل جیتنے کے بعد اب 13ویں قسط میں بختاور مظہر ’سعیدہ پھوپھو‘ کی کینسر سے جنگ اور کیمو تھراپی کے تکلیف دہ سفر نے شائقین کی آنکھوں کو نم کردیا ہے اور وہ ان کی اداکاری کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکے۔اس منظر کو کینسر کے مریضوں کو علاج کے دوران درپیش مشکلات کی حقیقت پسندانہ عکاسی پر انٹرنیٹ پر خوب سراہا جارہا ہے۔ انہوں نے بال گرنے کے بعد بڑے حوصلے سے آئینے میں اپنا عکس دیکھا جسے کئی ناظرین نے انتہائی متاثرکن اور حقیقت سے قریب تر قرار دیا ہے۔سوشل میڈیا پر مداحوں کے جذباتی ردعمل کا تانتا بندھ گیا، جنہوں نے اس کہانی کو کینسر کے ساتھ اپنے ذاتی تجربات سے جوڑا۔ ہے ایک صارف نے لکھا کہ ’میری والدہ بھی اسی صورتحال سے گزری تھیں لیکن ہم انہیں بچا نہ سکے۔‘ ایک اور نے شیئر کیا کہ یہ سچ ہے کہ میں بھی کیموتھراپی کے دوران میں خود کو آئینے میں نہیں دیکھ پاتی تھی۔” مداحوں نے حساس موضوع کو انتہائی مہارت اور اصلیت کے ساتھ پیش کرنے پر ہدایت کارہ مہرین جبار کی بھی تعریف کی ہے۔ واضح رہے کہ صنم مہدی زریاب کا تحریر کردہ ڈرامہ ‘ڈاکٹر بہو’ ہر جمعہ اور ہفتہ کی رات 8:00 بجے اے آر وائی ڈیجیٹل پر نشر کیا جاتا ہے۔موہن لال کی ’درشیم 3‘ کا ٹریلر جاریچکن لیگ پیس نہ ملنے پر شادی کی تقریب خونی تصادم میں تبدیل



