Beyond the Breaking News

Special Features - Breaking news and headlines | Roznama Dunya

پاکستان خبریں خبریں

Special Features - Breaking news and headlines | Roznama Dunya
پاکستان تازہ ترین خبریں,پاکستان عنوانات

اسپیشل فیچر

لاہور: رومانیہ میں کورونا وائرس سے متعلق سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کیلئے ایک شخص نے جوتے تیار کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی تباہی کی لپیٹ میں ہر کوئی ہے۔ جن لوگوں کو یہ نہیں لگی وہ اس کے خوف میں رہ رہے ہیں اور یہ خوف بالکل حقیقی ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ وبا دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الوقت اسے روکنے کا اگر کوئی طریقہ ہے تو وہ ہے خود کو روکنا، مطلب اپنے روز مرہ کی عادات میں تبدیلی لانا۔ ہاتھ دھونے سے لے کر ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے لے کر ان جگہوں پر اکٹھا ہونا شامل ہے جہاں مجمع زیادہ ہے۔ جتنا کم گھر سے نکلیں اتنا ہی بہتر ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ کم ملنے سے محبت کم نہیں ہو رہی بلکہ اپنا اور دوسرے کا بھلا ہو رہا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک دوسرے کو سماجی دوری اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے باوجود بھی لوگ سماجی دوری اختیار کرنے کے حوالے سے بے حد غیر سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ضمن میں متعدد ریسٹورینٹس کی جانب سے نئی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے وائرس سے بچنے کے لیے سماجی دوری اختیار کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ایک رومانین موچی نے ایک ایسے جوتے پیش کیے ہیں جس کو پہننے کے بعد اب ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رومانیہ سے تعلق رکھنے والی جریگور لپ نامی ایک موچی نے لمبے جوتے تیار کرنے کے بارے میں سوچا جس کو پہن کر لوگ با آسانی سماجی فاصلہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ 36 سال سے جوتے بنانے میں مہارت رکھنے والے جریگور لپ کا کہنا ہے کہ اب انکے پاس سماجی دوری اختیار کرنے والے جوتوں کو خریدنے کے لیے متعدد آرڈرز آرہے ہیں۔ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے والے یہ جوتے صارفین 115 ڈالرز میں حاصل کر سکتے ہیں۔.

لاہور: رومانیہ میں کورونا وائرس سے متعلق سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کیلئے ایک شخص نے جوتے تیار کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی تباہی کی لپیٹ میں ہر کوئی ہے۔ جن لوگوں کو یہ نہیں لگی وہ اس کے خوف میں رہ رہے ہیں اور یہ خوف بالکل حقیقی ہے جس سے کوئی فرار نہیں۔ وبا دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الوقت اسے روکنے کا اگر کوئی طریقہ ہے تو وہ ہے خود کو روکنا، مطلب اپنے روز مرہ کی عادات میں تبدیلی لانا۔ ہاتھ دھونے سے لے کر ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے لے کر ان جگہوں پر اکٹھا ہونا شامل ہے جہاں مجمع زیادہ ہے۔ جتنا کم گھر سے نکلیں اتنا ہی بہتر ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ کم ملنے سے محبت کم نہیں ہو رہی بلکہ اپنا اور دوسرے کا بھلا ہو رہا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے پیش نظر عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک دوسرے کو سماجی دوری اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے باوجود بھی لوگ سماجی دوری اختیار کرنے کے حوالے سے بے حد غیر سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ضمن میں متعدد ریسٹورینٹس کی جانب سے نئی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے وائرس سے بچنے کے لیے سماجی دوری اختیار کی جا رہی ہے۔ حال ہی میں ایک رومانین موچی نے ایک ایسے جوتے پیش کیے ہیں جس کو پہننے کے بعد اب ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے میں آسانی ہوگی۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق رومانیہ سے تعلق رکھنے والی جریگور لپ نامی ایک موچی نے لمبے جوتے تیار کرنے کے بارے میں سوچا جس کو پہن کر لوگ با آسانی سماجی فاصلہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ 36 سال سے جوتے بنانے میں مہارت رکھنے والے جریگور لپ کا کہنا ہے کہ اب انکے پاس سماجی دوری اختیار کرنے والے جوتوں کو خریدنے کے لیے متعدد آرڈرز آرہے ہیں۔ سماجی فاصلہ برقرار رکھنے والے یہ جوتے صارفین 115 ڈالرز میں حاصل کر سکتے ہیں۔

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

roznamadunya /  🏆 14. in PK

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات

Similar News:آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔

Masood ashar : مسعود اشعر:-دو گونہ عذاب است جان مجنوں راMasood ashar : مسعود اشعر:-دو گونہ عذاب است جان مجنوں راکیا آپ یقین کریں گے کہ جب سے یہ منحوس کورونا ساری دنیا کی گردن پر سوار ہوا ہے اس وقت سے اب تک ہم نے اپنے گھر کے دروازے سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالا ہے۔ پڑھیئےمسعود اشعرکا کالم: DunyaComlumns DunyaUpdates
مزید پڑھ »

Bilal-ur-Rashid : بلال الرشید:-کبھی سوچئے گا!Bilal-ur-Rashid : بلال الرشید:-کبھی سوچئے گا!کبھی آپ نے غور کیا ہے ‘ ان چیزوں پر جو کہ ہم کھاتے ہیں ۔ آپ غور کریں ‘ آپ پر بہت سے راز کھلنا شروع ہو جائیں گے یا کبھی آپ تجربہ کریں ۔ آپ ایک سالن بنائیں اور اسے کھا لیں ۔ پڑھیئےبلال الرشید کا کالم: DunyaComlumns DunyaUpdates
مزید پڑھ »

Anjum Farooq : انجم فاروق:- اُن کا کوئی قصورنہیں!Anjum Farooq : انجم فاروق:- اُن کا کوئی قصورنہیں!مگرپاکستان کے عوام نے غالبؔ کی ایک نہ سنی اور عمران خان صاحب پر اعتبار کر بیٹھی‘ مگر بدلے میں عوام کو کیا ملا ؟''وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘ لگتا ہے پڑھیئےانجم فاروق کا کالم: DunyaComlumns DunyaUpdates
مزید پڑھ »

Tariq habib : طارق حبیب:- قرنطینہ کا کربTariq habib : طارق حبیب:- قرنطینہ کا کربعالمگیر کورونا کی موذی وبا نے جب پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا‘ تو ''دنیا میڈیا گروپ‘‘ نے اپنے ملازمین کے لیے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کورونا وائرس کی تشخیص پڑھیئےطارق حبیب کا کالم: DunyaComlumns DunyaUpdates
مزید پڑھ »

Special Features - Breaking news and headlines | Roznama DunyaSpecial Features - Breaking news and headlines | Roznama Dunya
مزید پڑھ »

Special Features - Breaking news and headlines | Roznama DunyaSpecial Features - Breaking news and headlines | Roznama Dunya
مزید پڑھ »



Render Time: 2026-06-15 04:28:14