افغان دارالحکومت خودکش دھماکے سے گونج اٹھا، 5 افراد ہلاک مزید پڑھیں: ARYNewsUrdu
کابل: افغان دارالحکومت ایک بار پھر خودکش دھماکے سے لرز اٹھا جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، حملے کی ذمےداری تاحال کسی شدت پسند گروہ نے قبول نہیں کی۔
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کابل میں صبح سویرے خودکش بمبار نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا لیا، ہلاک ہونے والوں میں 2 عام شہری جبکہ 3 فورسز کے اہلکار شامل ہیں۔ فوری طور پر حملے کی ذمہ داری کسی دہشت گرد گروہ نے قبول نہیں کی تاہم یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اس حملے میں طالبان میں ملوث ہوسکتے ہیں کیوں کہ اس نوعیت کے اکثر حملے طالبان کی جانب سے کیے جاتے رہے ہیں۔
افغان وزارت دفاع نے حملے اور ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ یہ خودکش حملہ کابل میں ملیٹری اکیڈمی کے سامنے پیش آیا۔ جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں مقامی اسپتال میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔یاد رہے کہ دو روز قبل افغان صوبے ننگرہار میں امریکی فوجی بیس پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 امریکی فوجی ہلاک اور 6 زخمی ہوئے تھے۔ امریکی فوج کے ترجمان کرنل سونی لیگیٹ نے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی۔دوسری جانب امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکراتی دور کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ امریکا کے خصوصی نمائندے...
پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات
Similar News:آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔
افغانستان ؛ ملٹری اکیڈمی پر خودکش حملے میں 4 اہلکاروں سمیت 6 افراد ہلاک - ایکسپریس اردوتاحال کسی گروپ نے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے
مزید پڑھ »
کابل میں ملٹری اکیڈمی پر خودکش حملہ،متعدد افراد زخمی،ہلاکتوں کا خدشہکابل (ڈیلی پاکستان آن لائن)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں مارشل فہیم ملٹری اکیڈمی پر
مزید پڑھ »
دوحہ: زلمے خلیل زاد کی افغان طالبان سے ملاقات، قطری وزیر خارجہ کی خصوصی شرکتدوحہ: (ویب ڈیسک) قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ مُلا عبد الغنی بردار سمیت طالبان کے اعلیٰ نمائندوں سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران افغانستان کے حوالے سے امن مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھ »
افغانستان ؛ ملٹری اکیڈمی پر خودکش حملے میں 4 اہلکاروں سمیت 6 افراد ہلاک - ایکسپریس اردوتاحال کسی گروپ نے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے
مزید پڑھ »