Beyond the Breaking News

اسرائیل اور حماس: غزہ میں جنگ نے خطے میں تشدد کو کیسے ہوا دی ہے؟

پاکستان خبریں خبریں

اسرائیل اور حماس: غزہ میں جنگ نے خطے میں تشدد کو کیسے ہوا دی ہے؟
پاکستان تازہ ترین خبریں,پاکستان عنوانات

اسرائیل حماس تنازع اور غزہ کی جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال نے پورے خطے میں بسنے والی اقوام کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ ہم نے اس خطے کے بارے میں بی بی سی کے ماہرین کی آراء کو جمع کیا ہے تاکہ آپ اپنی ضرورت کے مطابق تفصیلی مضامین کا انتخاب کر سکیں اور اس بارے میں مزید جان سکیں کہ تشدد نے ہر علاقے کو کیسے متاثر کیا...

سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں اور اسرائیل کی جانب سے جواباً غزہ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے پورے مشرق وسطیٰ میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ حماس کی کارروائی میں لگ بھگ 1200افراد ہلاک ہوئے جبکہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 26 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس تنازع سے پیدا ہونے والی صورتحال نے پورے خطے میں بسنے والی اقوام کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ ہم نے اس خطے کے بارے میں بی بی سی کے ماہرین کی آراء کو جمع کیا ہے تاکہ آپ اپنی ضرورت کے مطابق تفصیلی مضامین کا انتخاب کر سکیں اور اس بارے میں مزید جان سکیں کہ تشدد نے ہر علاقے کو کیسے متاثر کیا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ غزہ کی جنگ کے مشرق وسطیٰ میں کہیں اور پھیلنے کے خطرے کے بارے میں بات کرنا بند کر دی جائے کیونکہ ایسا پہلے ہی ہو چکا ہے۔ حوثیوں نے فوری طور پر جواب دینے کا عزم کیا۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ عراق اور شام میں ایران نواز ملیشیا خطے میں امریکی افواج کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر دیں۔غزہ اس وقت تشدد کا مرکز بنا ہوا ہے اور اسرائیل نے حماس کا خاتمہ ہونے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ غزہ کو کنٹرول کرنے والے فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے بارے میں مزید جاننے کے لیے درج ذیل مضمون کو پڑھیں اور جانیے کہ اس تنظیم کے اہم رہنما کون ہیں۔اور اس بارے میں مزید سمجھنے کے لیے کہ حماس کی مالی مدد کیسے کی جاتی ہے، پڑھیں کہ ہم اس گروپ کی غیر ملکی فنڈنگ، عطیات، ٹیکس اور کرپٹو کرنسی کے بارے میں کیا جانتے ہیں: اسرائیل اور غزہ کے درمیان تنازع جب شروع ہوا تو ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ لبنان کے ساتھ سرحدی علاقے میں تناؤ کے سبب یہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ حزب اللہ ایک شیعہ مذہبی، عسکری اور فلاحی تنظیم ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ حزب اللہ لبنان میں خاصی طاقت رکھتی ہے اور اسے مغربی اور عرب ریاستوں نے ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ غزہ میں جنگ کی ابتدا سے ہی حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ لبنان کے سرحدی علاقوں میں جھڑپوں میں مصروف تھی۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کی بھی ایک تاریخ ہے جو کہ دہائیوں پر محیط ہے۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنوری 2024 میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل اور حماس جنگ کی ابتدا کے بعد اب تک لبنان اور سرائیل کے سرحدی علاقوں میں تقریباً 82 ہزار افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔ابھی یہ واضح نہیں کہ آنے والے دنوں میں جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں صورتحال ایسے ہی رہے گی یا مزید شدت اختیار کر جائے گی۔ فریقین کا اب تک یہ کہنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف باقاعدہ جنگ نہیں لڑنا چاہتے۔ لیکن وہ اس جنگ سے ڈرتے بھی نہیں اور کسی بھی جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔غزہ میں جنگ کی شروعات کے بعد مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ان آبادکاروں کی جانب سے اب تک آٹھ فلسطینیوں کو قتل اور 80 کو زخمی کیا جا چکا ہے۔ تقریباً 357 افراد اسی دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ گذشتہ برس دسمبر کے شروع میں ہم نے ایک ایسے فلسطینی کارکن سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد انھیں گھر سے اُٹھا لیا گیا اور 10 گھنٹے قید میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے کچھ افراد اُن کے آبادکار پڑوسی تھے۔ بعد میں ایک فوجی کو عیسیٰ امرو پر تشدد کرنے کے الزام میں دس دن قید کی سزا سُنائی گئی تھی۔ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے پاس یمن کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول ہے۔ انھوں نے اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی ابتدا کے بعد بحیرۂ احمر میں اسرائیل کی طرف جانے والے جہازوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔پڑھیے: کیا حوثیوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جو وہ نہیں جیت سکتے؟ جنوری 2024: امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی آماجگاہوں کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں نے جہازوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں برطانوی اور امریکی فوجی جہاز بھی شامل ہیں۔31 دسمبر 2024: امریکی بحریہ کے ہیلی کاپٹروں نے حوثی باغیوں کی تین سپیڈ بوٹس کو نشانہ بنایا۔ یہ باغی ایک مال بردار جہاز پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔اگر ایران اور اس کے اتحادی بشمول حماس اس جنگ کو مغربی دنیا تک لے جانا چاہتے تھے تو امریکہ اور برطانیہ کے حوثیوں پر حالیہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن کیا جنگ کے دائرے کو بڑھانا ایران کے مفاد میں ہے؟ مختصر مدت کے لیے ایران کا مقصد یہ ہے کہ وہ مغربی ممالک کو اسرائیل کی حمایت ترک کرنے پر مجبور کرے۔ایران نے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ تین جنوری کو جنوبی ایران کے علاقے کرمان میں ایک دھماکے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس مقام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایران کے سابق جنرل قاسم سلیمانی کی برسی منانے کے لیے جمع ہوئی تھی جو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔ ایران نے ابتدا میں کرمان میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد کی تھی لیکن بعد میں اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ بی بی سی کے فرینک گارڈنر کہتے ہیں اسرائیل کی جانب سے یہ حملے کرنے کی کوئی تُک نہیں بنتی لیکن ایران کی جانب سے اس حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں یقیناً خطے میں کشیدگی کا باعث بنیں گی۔ جنوری 2024 میں امریکہ نے عراق میں ایرانی حمایتی یافتہ گروہوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کیں۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ یہ فضائی حملے عراق اور شام میں امریکی اور بین الاقوامی افواج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں تھیں۔ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کا کہنا ہے غزہ میں جاری جنگ خطے میں کشیدگی کا باعث ہے، ایران حماس جبکہ امریکہ اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے۔ غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد اب تک عراق او شام میں امریکی فوج پر کم و بیش 150 حملے ہوچکے ہیں جس میں راکٹ اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ گوجرانوالہ کے نوجوان کو توہینِ مذہب کے الزام پر سزائے موت: ’میں نے تو مدارس سے فتوے بھی لے کر دیے مگر کسی نے ایک نہ سنی‘ مالدیپ میں تعینات انڈین فوجیوں کی اتوار سے مرحلہ وار واپسی کا آغاز: کیا یہ مالدیپ میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا اظہار ہے؟ افغانستان کی برقعہ پوش گلوکار بہنیں: ’ہم اپنے برقعوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے جو طالبان نے ہمارے خلاف استعمال کیے‘ ’سستی پڑھائی لیکن مشکل زبان‘: کیا جنوبی کوریا اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستانی طلبہ کا نیا ’پسندیدہ‘ ملک بن سکتا ہے؟ گوجرانوالہ کے نوجوان کو توہینِ مذہب کے الزام پر سزائے موت: ’میں نے تو مدارس سے فتوے بھی لے کر دیے مگر کسی نے ایک نہ سنی‘ مالدیپ میں تعینات انڈین فوجیوں کی اتوار سے مرحلہ وار واپسی کا آغاز: کیا یہ مالدیپ میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا اظہار ہے؟ ایم ایچ 370: ہوا بازی کا سب سے پُراسرار حادثہ، ’رابطہ ٹوٹنے‘ کے بعد 10 سال سے یہ طیارہ کیوں لاپتہ ہے؟ کھیل کے میدان سے لے کر مجرموں کی کھوج تک: ’کنٹینر پر چڑھ کر چیکنگ کی تو لوگوں نے کہا پہلی بار ایسی لڑکی دیکھی ہے‘ جموں کے 20 سالہ نیوی کیڈٹ انڈین جہاز سے لاپتہ: ’افسر نے کہا ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ ہوا کیا ہے‘ ’سستی پڑھائی لیکن مشکل زبان‘: کیا جنوبی کوریا اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستانی طلبہ کا نیا ’پسندیدہ‘ ملک بن سکتا ہے؟.

سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں اور اسرائیل کی جانب سے جواباً غزہ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے پورے مشرق وسطیٰ میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ حماس کی کارروائی میں لگ بھگ 1200افراد ہلاک ہوئے جبکہ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 26 ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس تنازع سے پیدا ہونے والی صورتحال نے پورے خطے میں بسنے والی اقوام کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے۔ ہم نے اس خطے کے بارے میں بی بی سی کے ماہرین کی آراء کو جمع کیا ہے تاکہ آپ اپنی ضرورت کے مطابق تفصیلی مضامین کا انتخاب کر سکیں اور اس بارے میں مزید جان سکیں کہ تشدد نے ہر علاقے کو کیسے متاثر کیا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ غزہ کی جنگ کے مشرق وسطیٰ میں کہیں اور پھیلنے کے خطرے کے بارے میں بات کرنا بند کر دی جائے کیونکہ ایسا پہلے ہی ہو چکا ہے۔ حوثیوں نے فوری طور پر جواب دینے کا عزم کیا۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ عراق اور شام میں ایران نواز ملیشیا خطے میں امریکی افواج کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کر دیں۔غزہ اس وقت تشدد کا مرکز بنا ہوا ہے اور اسرائیل نے حماس کا خاتمہ ہونے تک جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ غزہ کو کنٹرول کرنے والے فلسطینی عسکریت پسند گروپ کے بارے میں مزید جاننے کے لیے درج ذیل مضمون کو پڑھیں اور جانیے کہ اس تنظیم کے اہم رہنما کون ہیں۔اور اس بارے میں مزید سمجھنے کے لیے کہ حماس کی مالی مدد کیسے کی جاتی ہے، پڑھیں کہ ہم اس گروپ کی غیر ملکی فنڈنگ، عطیات، ٹیکس اور کرپٹو کرنسی کے بارے میں کیا جانتے ہیں: اسرائیل اور غزہ کے درمیان تنازع جب شروع ہوا تو ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ لبنان کے ساتھ سرحدی علاقے میں تناؤ کے سبب یہ جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ حزب اللہ ایک شیعہ مذہبی، عسکری اور فلاحی تنظیم ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔ حزب اللہ لبنان میں خاصی طاقت رکھتی ہے اور اسے مغربی اور عرب ریاستوں نے ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ غزہ میں جنگ کی ابتدا سے ہی حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ لبنان کے سرحدی علاقوں میں جھڑپوں میں مصروف تھی۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کی بھی ایک تاریخ ہے جو کہ دہائیوں پر محیط ہے۔اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنوری 2024 میں جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل اور حماس جنگ کی ابتدا کے بعد اب تک لبنان اور سرائیل کے سرحدی علاقوں میں تقریباً 82 ہزار افراد بےگھر ہو چکے ہیں۔ابھی یہ واضح نہیں کہ آنے والے دنوں میں جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں صورتحال ایسے ہی رہے گی یا مزید شدت اختیار کر جائے گی۔ فریقین کا اب تک یہ کہنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف باقاعدہ جنگ نہیں لڑنا چاہتے۔ لیکن وہ اس جنگ سے ڈرتے بھی نہیں اور کسی بھی جنگ کی صورت میں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔غزہ میں جنگ کی شروعات کے بعد مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینیوں کے خلاف یہودی آبادکاروں کی پرتشدد کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ ان آبادکاروں کی جانب سے اب تک آٹھ فلسطینیوں کو قتل اور 80 کو زخمی کیا جا چکا ہے۔ تقریباً 357 افراد اسی دوران اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ گذشتہ برس دسمبر کے شروع میں ہم نے ایک ایسے فلسطینی کارکن سے بات کی جن کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد انھیں گھر سے اُٹھا لیا گیا اور 10 گھنٹے قید میں رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے کچھ افراد اُن کے آبادکار پڑوسی تھے۔ بعد میں ایک فوجی کو عیسیٰ امرو پر تشدد کرنے کے الزام میں دس دن قید کی سزا سُنائی گئی تھی۔ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے پاس یمن کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول ہے۔ انھوں نے اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کی ابتدا کے بعد بحیرۂ احمر میں اسرائیل کی طرف جانے والے جہازوں پر حملے تیز کر دیے ہیں۔پڑھیے: کیا حوثیوں نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایسی جنگ میں دھکیل دیا ہے جو وہ نہیں جیت سکتے؟ جنوری 2024: امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی آماجگاہوں کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں نے جہازوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں برطانوی اور امریکی فوجی جہاز بھی شامل ہیں۔31 دسمبر 2024: امریکی بحریہ کے ہیلی کاپٹروں نے حوثی باغیوں کی تین سپیڈ بوٹس کو نشانہ بنایا۔ یہ باغی ایک مال بردار جہاز پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔اگر ایران اور اس کے اتحادی بشمول حماس اس جنگ کو مغربی دنیا تک لے جانا چاہتے تھے تو امریکہ اور برطانیہ کے حوثیوں پر حالیہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہوئے ہیں۔ لیکن کیا جنگ کے دائرے کو بڑھانا ایران کے مفاد میں ہے؟ مختصر مدت کے لیے ایران کا مقصد یہ ہے کہ وہ مغربی ممالک کو اسرائیل کی حمایت ترک کرنے پر مجبور کرے۔ایران نے اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔ تین جنوری کو جنوبی ایران کے علاقے کرمان میں ایک دھماکے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس مقام پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایران کے سابق جنرل قاسم سلیمانی کی برسی منانے کے لیے جمع ہوئی تھی جو بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک امریکی حملے میں مارے گئے تھے۔ ایران نے ابتدا میں کرمان میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد کی تھی لیکن بعد میں اس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی۔ بی بی سی کے فرینک گارڈنر کہتے ہیں اسرائیل کی جانب سے یہ حملے کرنے کی کوئی تُک نہیں بنتی لیکن ایران کی جانب سے اس حملے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں یقیناً خطے میں کشیدگی کا باعث بنیں گی۔ جنوری 2024 میں امریکہ نے عراق میں ایرانی حمایتی یافتہ گروہوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کیں۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ یہ فضائی حملے عراق اور شام میں امریکی اور بین الاقوامی افواج پر ہونے والے حملوں کے جواب میں کی گئیں تھیں۔ عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کا کہنا ہے غزہ میں جاری جنگ خطے میں کشیدگی کا باعث ہے، ایران حماس جبکہ امریکہ اسرائیل کی پشت پر کھڑا ہے۔ غزہ میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد اب تک عراق او شام میں امریکی فوج پر کم و بیش 150 حملے ہوچکے ہیں جس میں راکٹ اور ڈرون حملے شامل ہیں۔ گوجرانوالہ کے نوجوان کو توہینِ مذہب کے الزام پر سزائے موت: ’میں نے تو مدارس سے فتوے بھی لے کر دیے مگر کسی نے ایک نہ سنی‘ مالدیپ میں تعینات انڈین فوجیوں کی اتوار سے مرحلہ وار واپسی کا آغاز: کیا یہ مالدیپ میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا اظہار ہے؟ افغانستان کی برقعہ پوش گلوکار بہنیں: ’ہم اپنے برقعوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتے تھے جو طالبان نے ہمارے خلاف استعمال کیے‘ ’سستی پڑھائی لیکن مشکل زبان‘: کیا جنوبی کوریا اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستانی طلبہ کا نیا ’پسندیدہ‘ ملک بن سکتا ہے؟ گوجرانوالہ کے نوجوان کو توہینِ مذہب کے الزام پر سزائے موت: ’میں نے تو مدارس سے فتوے بھی لے کر دیے مگر کسی نے ایک نہ سنی‘ مالدیپ میں تعینات انڈین فوجیوں کی اتوار سے مرحلہ وار واپسی کا آغاز: کیا یہ مالدیپ میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا اظہار ہے؟ ایم ایچ 370: ہوا بازی کا سب سے پُراسرار حادثہ، ’رابطہ ٹوٹنے‘ کے بعد 10 سال سے یہ طیارہ کیوں لاپتہ ہے؟ کھیل کے میدان سے لے کر مجرموں کی کھوج تک: ’کنٹینر پر چڑھ کر چیکنگ کی تو لوگوں نے کہا پہلی بار ایسی لڑکی دیکھی ہے‘ جموں کے 20 سالہ نیوی کیڈٹ انڈین جہاز سے لاپتہ: ’افسر نے کہا ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ نہیں بتایا کہ ہوا کیا ہے‘ ’سستی پڑھائی لیکن مشکل زبان‘: کیا جنوبی کوریا اعلیٰ تعلیم کے لیے پاکستانی طلبہ کا نیا ’پسندیدہ‘ ملک بن سکتا ہے؟

ہم نے اس خبر کا خلاصہ کیا ہے تاکہ آپ اسے جلدی سے پڑھ سکیں۔ اگر آپ خبر میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آپ مکمل متن یہاں پڑھ سکتے ہیں۔ مزید پڑھ:

BBCUrdu /  🏆 11. in PK

 

پاکستان تازہ ترین خبریں, پاکستان عنوانات

Similar News:آپ اس سے ملتی جلتی خبریں بھی پڑھ سکتے ہیں جو ہم نے دوسرے خبروں کے ذرائع سے جمع کی ہیں۔

انڈر 19 ورلڈ کپ: سیمی فائنل میں آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف ایک وکٹ سے فتح، فائنل میں اب انڈیا سے مقابلہانڈر 19 ورلڈ کپ: سیمی فائنل میں آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف ایک وکٹ سے فتح، فائنل میں اب انڈیا سے مقابلہانڈر 19 ورلڈ کپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا نے پاکستان کو ایک وکٹ سے شکست دی ہے۔
مزید پڑھ »

’غزہ میں 30 ہزار ہلاکتیں‘: اسرائیل کا 10 ہزار حماس جنگجو مارنے کا دعویٰ کتنا حقیقت پر مبنی ہے؟’غزہ میں 30 ہزار ہلاکتیں‘: اسرائیل کا 10 ہزار حماس جنگجو مارنے کا دعویٰ کتنا حقیقت پر مبنی ہے؟اطلاعات کے مطابق غزہ میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کو بڑی تعداد کی ہلاکتوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی عالمی تشویش کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ اس پر یہ دباؤ بھی ہے کہ سات اکتوبر کے بعد جیسے اس نے وعدہ کیا تھا ویسے دکھائے کہ حماس کو ختم کیا جا رہا ہے۔ حماس کے کتنے جنگجوؤں کو مارا گیا بی بی سی ویریفائی ان...
مزید پڑھ »

بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلیے قرارداد قومی اسمبلی میں جمعبانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلیے قرارداد قومی اسمبلی میں جمعپاکستان تحریک انصاف کے بانی کو رہا کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کرا دی گئی یہ قرارداد پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے جمع کرائی ہے۔
مزید پڑھ »

بھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کی رائے درست قومی تاریخ کو سمجھنے میں‌ معاون ہوگی، وزیر اعظمبھٹو کی پھانسی: سپریم کورٹ کی رائے درست قومی تاریخ کو سمجھنے میں‌ معاون ہوگی، وزیر اعظموزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ذوالفقار بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کی متفقہ رائے قومی سطح پر تاریخ کو درست تناظر میں سمجھنے میں مددگار ہوگی
مزید پڑھ »

21 سال سے اسرائیل میں قید مروان البرغوثی کون ہیں اور کیا وہ فلسطینی اتھارٹی کے اگلے صدر بن سکتے ہیں؟21 سال سے اسرائیل میں قید مروان البرغوثی کون ہیں اور کیا وہ فلسطینی اتھارٹی کے اگلے صدر بن سکتے ہیں؟حماس کے یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیل کی طرف سے قیدیوں کو رہا کرنے کے امکان نے فتح تحریک کے رہنما مروان البرغوثی کو سرخیوں میں ڈال دیا ہے۔
مزید پڑھ »

غزہ میں اسرائیل حماس جنگ: شمالی غزہ میں فضا سے امداد گرانے کا عمل متنازع کیوں بنتا جا رہا ہے؟غزہ میں اسرائیل حماس جنگ: شمالی غزہ میں فضا سے امداد گرانے کا عمل متنازع کیوں بنتا جا رہا ہے؟امریکہ کی غزہ میں فضائی امداد کی فراہمی کی حکمت عملی نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ علاقے میں بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا اور یہ کہ فضا سے امداد گرانا زمین پر امدادی کوششوں کی ناکامی کی علامت بھی...
مزید پڑھ »



Render Time: 2026-06-17 01:03:28